قطر مذاکرات: طالبان آل افغان کانفرنس کے انعقاد پر متفق

92

 

دوحہ،واشنگٹن(خبر ایجنسیاں)طالبان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے قطر اور جرمنی کی تجویز کردہ کثیر القومی ’آل افغان پیس کانفرنس‘ میں شرکت کرنے کے لیے ہامی بھر لی ہے۔افغانوں کے درمیان امن مذاکرات 7 اور 8 جولائی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوں گے جس کی میزبانی مشترکہ طور پر قطر اور جرمنی کریں گے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بظاہر یہ
بات چیت طالبان کی شرائط پر ہو رہی ہے کیونکہ اس بات چیت میں کابل حکومت کا کوئی نمائندہ سرکاری حیثیت میں شرکت نہیں کرے گا۔پاکستان اور افغانستان کے لیے جرمنی کے خصوصی نمائندے مارکس پوٹزل کے مطابق ان مذاکرات میں شرکت کرنے والے ”اپنی ذاتی اور مساوی حیثیت میں ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔” منگل کو پوٹزل نے ایک بیان میں کہا کہ ان مذاکرات کی میزبانی قطر اور جرمنی مشترکہ طور پر کریں گے۔قبل ازیں قطر میں افغانوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس وقت منسوخ ہو گئے تھے جب فریقین میں ان مذاکرات کے شرکا کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانوں کے درمیان 7 اور 8 جولائی کو قطر میں ہونے والے مذاکرت کی میزبانی کرنے پر قطر اور جرمنی کا شکریہ ادا کیا ہے۔خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ مذاکرات چار حصوں پر مشتمل امن عمل فریم ورک کا ایک اہم اور ضروری جزو ہیں اور افغان امن عمل میں پیش رفت کی طرف اہم اقدام ہو گا۔افغانوں کے درمیان مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ساتواں دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ہے۔علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ امریکا افغانستان سے تمام فوج نکالنا چاہتا تھا لیکن کابل میں دہشتگرد حملے کا خطرہ ہے۔ پینٖٹاگون حکام نے ایسا نہ کرنے پر قائل کیاہے۔واشنگٹن میں ایک انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 18سال سے فوج افغانستان میں لڑ رہی ہے اور امریکا تمام فوجیوں کو کابل سے نکالنا چاہتا تھا لیکن پینٹاگون حکام نے ایسا نہ کرنے پر قائل کیا۔ٹرمپ نے کہاکہ کابل میں دہشتگرد حملے کا خطرہ ہے اور وہاں امریکی فوج کی موجودگی لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں 16ہزار فوجی موجود تھے اور اب ان کی تعداد 9ہزار رہ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کابل میں ہونے والے حملے کو خوفناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا طالبان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا بند کریں۔امریکا نے کابل میں کار بم حملے اور فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثابت ہو گیا طالبان اپنے دیگر افغانوں کی بات سننے پر تیار نہیں۔،طالبان گھناؤنے اقدام سے امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔منگل کو ترجمان وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت افوس ناک ہے۔،طالبان اس گھنائونی اقدام سے امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ اس حملے سے امن کی کوششوں کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کی طالبان اپنے دیگر افغانوں کی بات سننے پر تیار نہیں ہیں جو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ تنازع کا فوری اور پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔
طالبان مذاکرات