بلاول اخباری اشتہارات پرٹیکس کانوٹس لیں‘ اے پی این ایس

159

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے سندھ حکومت کی طرف سے اخباری اشتہارات پر سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی شدید مذمت کی ہے جسے 2013ء میں واضح طور پر حذف کردیا گیا تھا۔اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری جنرل سرمد علی نے سندھ بجٹ کے منظوری کے ایک دن بعد 27جون کو اچانک سیلز ٹیکس کے نفاذ کے نوٹیفکیشن مجریہ 27جون کی شدید مذمت کی ہے۔جس کے ذریعے سندھ حکومت نے اخبارات میں شایع ہونے والے اشتہارات پر سیلز ٹیکس کا نفاذ نہ کرنے کے 2013ء کے فیصلہ کو بدل دیا ہے۔اے پی این ایس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے متعلقہ اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر اپنے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہمیں متعدد بار یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات سے متعلق خدمات پر سیلز ٹیکس کے معاملات باہمی طور پر طے کرلیے جائیں گے حیران کن طور پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا یہ فیصلہ حکومت کی بجٹ تجاویز میں شامل نہیں کیا گیا۔سندھ ریونیو بورڈ نے یکطرفہ فیصلہ کے ذریعے یہ ٹیکس عاید کیا ہے جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ نہ صرف اپنے سالانہ بجٹ کا احترام نہیں کرتا بلکہ یہ سندھ میں آزاد صحافت اور صحافیوں کی بقاء کے لیے ضروری حالات مہیا کرنے پر بھی یقین نہیں رکھتا ۔سندھ حکومت کے نئے اقدامات سے پیدا ہونے والی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے یہ حکومت تقریباً1ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے جس میں بعض واجبات 2010ء کے دورانیہ سے متعلق ہیں اس کے جواز کے طور پر وہ بار بار یہ کہتی ہے کہ اشتہارات سے متعلق اس کے ریکارڈ کا بڑا حصہ پراسرار آتشزدگی سے تباہ ہوگیا تھا اور یہ کہ وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیم ماضی کے واجبات کی توثیق میں حیل و حجت سے کام لے رہی ہے جبکہ تھرڈ پارٹی آڈٹ میں زیادہ تر بلوں کی تصدیق ہوچکی ہے ۔اس طرح سندھ حکومت اخبارات کے مالی حقوق غصب کرنے کے در پے ہے اور سندھ سے شایع ہونے والے قومی اخبارات و جرائد اور صوبے کے علاقائی اخبارات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ،ہم سندھ حکومت سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ صوبے میں اخباری صنعت کی تباہی چاہتی ہے ؟ کیا وہ اخباری میڈیا گروپ کے ہیڈ کواٹرز کو کراچی سے باہر دیگر صوبوں میں دھکیلنا چاہتی ہے ؟ کیا وہ سندھی زبان کے اخبارات اور علاقائی اخبارات کو کچلنا چاہتی ہے ؟ کیا یہ رویہ آئین پاکستان کے تحت صحافت کے تحفظ کے دعوں کے عین مطابق ہے؟ یا ہمیں سندھ حکومت کے ناقص فیصلوں کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اے پی این ایس نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تباہ کن اقدام کو واپس لیں اور سندھ کے اخبارات کے اشتہارات کے واجبات کی فوری ادائیگی شروع کریں بصورت دیگر ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوںگے کہ سندھ حکومت آزاد صحافت کی دوست نہیں ہے اور ہمیں اپنی بقاء کے لیے متبادل اقدامات پر غور کرنا ہوگا ۔