مزدور رہنما اورنگزیب درانی

314

تحریر: نایاب درانی

اورنگزیب درانی و بابائے مزدور حاجی رحمت اللہ خان درانی کے نور چشم تھے۔ حاجی رحمت اللہ خان درانی نے آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر اور دیگر ان گنت ٹریڈ یونینز کی ایک فلاحی رفاعی اور محنت کشوں کی تنظیم بنائی۔ مزدور کے حقوق کے لیے لاامتناعی جدوجہد کی تھی ان کے انتقال کے بعد اورنگزیب درانی اس کے وارث قرار پائے اور آپ نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کا راستہ اختیار کرتے ہوئے آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر میں شمولیت اختیار کرلی اور مزدور کے حقوق کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرنی شروع کردیں۔ اورنگزیب درانی ابتداء میں صحافت سے وابستہ تھے اور 14 سال تک آپ نے قلم کی حرمت کو مقصد حیات بنائے رکھا اور معاشرتی برائیوں کے خلاف مورچہ بند رہے۔ آپ 31 جنوری 1954ء کو پیدا ہوئے اور 15 جون 2017ء کو خالق حقیقی سے
جاملے۔ یہاں اورنگزیب درانی یا ان کے باپ حاجی رحمت اللہ خان درانی پر لکھنا مقصد نہیں یہ خاندان خدمت میں عظمت کی بلندیوں کو
چھونے والے مشہور و معروف لوگ ہیں، ان کی زندگی کھلی کتاب ہے، یہاں اورنگزیب درانی مزدور رہنما کا کردار ایک بیٹی کے حوالے سے بطور باپ اظہار مقصود ہے۔ ہر بیٹی کے لیے اس کا باپ
ہیرو اور آئیڈیل ہوتا ہے اور یہی صورتحال اورنگزیب درانی کی بیٹی کی بھی ہے اور اپنے عظیم باپ کے لیے آنکھیں پرنم کیں۔ انکی یاد میں نہ صرف رطب للسان ہے بلکہ ہر لمحہ ہر گھڑی ہر آن وہ اپنے مرحوم مشفق مہربان باپ کو اپنے پاس پاتی ہے اور اس کا سایہ اپنے سر پر چھایہ ہوا محسوس کرتی ہیں۔ بقول ان کے بطور باپ اورنگزیب درانی نے اپنی بیٹی کو جینے کا سلیقہ سکھایا اور اس کانٹوں بھری دنیا میں دامن بچا کر زندگی بسر کرنے کی تربیت دی۔ معاشرتی زندگی میں باوقار طور پر چلنے کا اعتماد اور اپنے قول و فعل اور عملی مثبت اقدام سے اس کو دوام بخشا۔ مرحوم مجھ کو اپنے ساتھ مختلف ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر نیشنل، انٹرنیشنل سطح کے پروگرامز میں لے جاتے اور قدم قدم پر اپنی لخت جگر نور نظر کی پشت پناہی کرتے کہ کہاں کیا اور کیسے کہنا ہے۔ ایک استاد کی طرح رہنمائی فرماتے اور
کسی بھی بڑی سے بڑی محفل میں بات کرنے کا حوصلہ دیتے۔ یہ مردوں کا معاشرہ ہے اکثر پروگرام میں جب بھی جانا ہوا بات کرنی ہوتی اور بعداز پروگرام میری تقریر پر کوئی تبصرہ ہوا کسی نے ملاقات کی کوشش کی تو میرے ابو نے میری حوصلہ افزائی کی ہمت افزائی کی اور مجھے بیٹی کے بجائے ایک بیٹے کے طور پر صورت حال کو ہینڈل کرنے کا مشورہ دیا اور کسی بھی صورت میں احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیا وہ کہا کرتے تھے کہ تم میری بیٹی نہیں بیٹا ہو اور اس انسانی جنگل میں تم نے ایک انسان کے طور پر حوادث زمانہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ میرا باپ، میرا دوست، میرا ہم نشیں، میرا دم ساز، میرا رازداں اورنگزیب درانی میرا سب کچھ تھا۔ آج بھی مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کب کس وقت دروازے سے نمودار ہو کر اپنے شفیق مہربان نرم و گذار ہاتھ میرے سر پر رکھ دیں گے، میری باتیں سنیں گے، میری پشت پناہی کریں گے۔ مگر یادیں ہی یادیں شیریں یادیں، زندہ جاوید یادیں، مہربان صابر، عزم بالجزم اور استقامت اور دوسروں کی زندگیوں میں خوشیاں بکھیرنے والے کوہ گراں گل و گلزار باپ کی یادیں تو تادم آخر دامن گیر رہیں گی اور ایک خزانہ ایک انمول خزانہ کے طور پر جن کو میں اپنا اثاثہ سمجھتی رہوں گی، اللہ تعالیٰ رحیم و کریم میرے بابا جان اورنگزیب درانی کو بہشت بریں کی ٹھنڈی ہوائں سے فیضیاب فرمائے۔ آمین۔