بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اختر مینگل

84

اسلام آباد(صباح نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردارمحمد اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ 70برس میں جتنے بھی بجٹ آئے ہیں چاہے وہ منتخب سویلین حکومت کی طرف سے آئے ہیں، چاہے سلیکٹڈ حکومت کی طرف سے آئے ہیں اور چاہے ڈکٹیٹروں کی حکومت کی شکل میں آئے ہیں سب میں عوام سے زیادتی ہوئی ہے،احتساب ہونا چاہیے تاہم یہ بلاتفریق ہونا چاہیے ، میں یہ نہیں کہتا کہ گزشتہ حکومتوں میں کرپشن نہیں ہوئی تاہم کیا صرف سابقہ 2 حکومتوں کے دور میں کرپشن ہوئی ہے، ان سے پہلے کی حکومتوں میں کرپشن نہیں ہوئی ہے، آج نہیں ہو رہی، بلوچستان کو اس سے استثنا کیوں قرار دیا گیا ہے، جو کرپشن بلوچستان میں ہوئی ہے شاید کسی اور جگہ ہوئی ہو گی، شاید بلوچستان کے لوگوں کی محرومیوں کو دیکھ کر ان کو بخش دیا گیا ہے، اگرآج لوگ پارٹی تبدیل کر لیں تو آپ ان کو آب زم زم سے نہلا دیتے ہیں اور اگر وہ اپنے اصول اور اپنی پارٹیوں سے جڑے ہوئے ہیں تو ان پر کیسوں پر کیس چلاتے رہتے ہیں ،یہ احتساب کا عمل ٹھیک نہیں ہے، بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش میں ہم لگے ہوئے ہیں، آج کامیابی ہو یا کل کامیابی ہو ، مرکزی حکومت میں ہم نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے اور بلوچستان میں ہم اپوزیشن میں ہیں،حکومت کی تبدیلی اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور اسمبلی قوانین بھی اس کی اجازت دیتے ہیں جب بھی ہمیں موقع ملا اور ہم نے دیکھا کہ لوہا گرم ہے ہم تو ہم اس پر ہتھوڑا مار دیں گے۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ 70سال پرانا ہے اور ہم نے جو بھی حکمران آیا اس کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ بدقسمتی پتا نہیں ہماری رہی ہے یا کم عقلی رہی ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہو ئے تو انہوں نے بلوچستان کا مسئلہ سمجھا ہے لیکن حکومت میں جاتے ہی وہ بلوچستان کے مسئلے سے بے خبر ہو گئے۔