روہنگیا مسلمانوں کی حالت اور عالمی بے حسی

528

اکرم ثاقب

2017ء میں میانمر کی حکومت اور فوج کے ہاتھوں نسل کشی کے واقعات کے دوران جان بچا کر روہنگیا مسلمانوں کے بنگلا دیش جانے کے بعد ان بیچارے، بے بس، بے گھر اور غریب الوطن لوگوں کے بارے میں پوری دنیا نے لکھا تو بہت کچھ، مگر عملی طور پر تاحال کچھ نہیں کیا گیا۔ پرتشدد واقعات اور روہنگیا باشندوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کو 2 برس ہونے کو ہیں، مگر اس نام نہاد مہذب دنیا نے ان کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ یہ مسلمان جو ٹھیرے۔ ہاں اگر یہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے تو انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی ادارے اور انسانیت کے نام نہاد علم بردار شور مچا کر دنیا سر پر اٹھا چکے ہوتے، اور عین ممکن ہے کہ میانمر پر اب تک حملہ بھی کیا جا چکا ہوتا اور اس کے خلاف کئی طرح کی پابندیاں بھی لگ چکی ہوتیں۔
روہنگیا مسلمانوں کی گھر واپسی اور بحالی کو مسلسل کھٹائی میں ڈالا جارہا ہے۔ میانمر اس سلسلے میں کچھوے کی چال سے بھی سست ہے اور دوسری جانب جو روہنگیا مسلمان بنگلا دیش میں پناہ گزیں ہیں، وہ چٹاگانگ والوں سے ہر طرح کی مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کے حلیے، بول چال اور رہن سہن کا انداز چٹاگانگ والوں سے ملتا ہے۔ بنگلا دیش والوں کو ڈر ہے کہ یہ اپنی اس مماثلت کی بنا پر یہیں کے ہوکر نہ رہ جائیں۔ آنگ سان سوچی اور اس کا آرمی چیف من آنگ ہلینگ بہت ہی پرسکون ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں سے جان چھوٹی اور یہ میانمر سے نکل گئے، جس کے بعد اب نیپیداؤ حکومت انہیں واپس لانے میں تامل محسوس کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ کبھی واپس ہی نہ آئیں۔ اس سلسلے میں سفارتی سستی بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ میانمر ان روہنگیا مسلمانوں کو قبول کرنے سے واضح طور پر ہچکچا رہا ہے۔
علاقے کے بڑے ممالک بھارت اور چین، جو روہنگیا مسلمانوں کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اس کی مخالفت کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ روہنگیا مسلمان بنگالی ہیں اور انہیں بنگال میں ہی رہنا چاہیے۔ مزید وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں بنگلا دیش ہی کی پشت پناہی حاصل ہے، کیونکہ میانمر کے ہمسایہ ممالک میں بنگلا دیش ہی ایک مسلمان ملک ہے۔
بھارت ہندو اکثریت اور میانمر بدھ اکثریت والا ملک ہے، جب کہ چین میں کسی مذہب کا نام لینا ہی جرم ہے۔ بھارت کی مودی سرکار نے 40 ہزار روہنگیا مسلمان مہاجرین کو پناہ دینے سے انکار کردیا تھا، جس پر اقوام متحدہ نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ بھارت ویسے بھی ہمیشہ مسلم دشمنی میں اخلاقیات کو پس پشت ڈالتا ہے۔ اس تناظر میں مودی حکومت کو بنگلا دیش کی مسلم اکثریت اور بنگلا دیش کی بڑھتی ہوئی آبادی پر بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ علاوہ ازیں بھارت اپنا اثر رسوخ بے آف بنگال میں بڑھانا چاہتا ہے، تاکہ اپنے کمزور ہمسایہ ممالک کو آنکھیں دکھاتا رہے۔
بھارت اور میانمر کا الزام ہے کہ بنگلا دیش کی مسلم اکثریت ان کے علاقوں میں داخل ہوتی رہتی ہے۔ دوسری طرف چین ہے، جو پوری طرح سے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر توجہ رکھے ہوئے ہے اور اس اپنی اس بڑی سرمایہ کاری کی خاطر کئی اہم معاملات کو نظر انداز بھی کررہا ہے۔ بے آف بنگال کے ذریعے بحر ہند تک رسائی کی خواہش چین کو ان تمام مظالم، جو روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے سے نظر چرانے پر مجبور کرتی ہے۔ چین میں مذہبی آزادی کا نام تک نہیں لیا جاسکتا۔ چین میں موجود مسلمان چینی حکومت کی آنکھ میں بال ہیں۔ اس حوالے سے سنکیانگ میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت اور سیکورٹی اداروں کا سلوک اور سے متعلق عالمی رپورٹس صورت حال کو مزید واضح کردیتی ہیں۔ چینی اور بھارتی حکومتیں میانمر کو اپنے زیر اثر کرنے میں مقابلہ کررہی ہیں، اسی لیے انہیں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ریاستی مظالم پر زبان کھولنا یا ان کی مذمت کرنا بھی گوارا نہیں۔
دوسری جانب اگر روس کی پالیسی کا جائزہ لیں تو وہ بھی مسلم مخالف ہی نظر آتی ہے۔ روس آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ سے نالاں ہے۔ اُسے بھی مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اس تناظر میں مسلمانوں ہی کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے بھی اپنے کردار سے غفلت برتی اور دنیا کے تھانے دار امریکا نے بھی اپنی چودھراہٹ مسلمانوں کے خلاف ہی دکھائی۔ غیر سرکاری تنظیموں مسائل حل کرنے کے بجائے امدادی سرگرمیوں میں خوش ہیں، کہ اس کی آڑ میں دنیا بھر سے خطیر رقم جمع ہوتی ہے۔ پوری صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو مستقبل میں دُور دُور تک مسلمانوں کو درپیش مسائل خصوصاً روہنگیاؤں کی واپسی کا کوئی مناسب اور قابل عمل حل نظر نہیں آرہا۔