فیس بُک

192

نیر کاشف

ارم بھابھی یوں تو میں نے مدیحہ کا کبھی گھر بھی نہیں دیکھا لیکن استاد کی حیثیت سے اسکو کافی اچھی طرح جانتی ہوں،اس کی امی سے بھی پی ٹی ایم کے ذریعے مسلسل ملاقات رہی ہے، بہت پیاری بچی اور بہت اچھا خاندان ہے، آپ کو یقیناً اسد کے لیے پسند آئے گی،میں یوں تو اسطرح کے کاموں سےدور ہی رہا کرتی ہوں مگر جانے کیسے جب ارم بھابھی نے اپنے اکلوتے بھائی کے رشتے کا ذکر کیا تو میں انہیںاپنی سابقہ شاگرد مدیحہ کا مشورہ دے بیٹھی ،یوں تو اسے اسکول سے گئے ہوئے کوئی تین چار سال ہو چلےتھے مگر کسی نہ کسی صورت رابطہ رہتا ہی تھا، اور یہ تو ویسے بھی فیس بک کا دور ہے، لگتا ہی نہیں کہ کوئی آپ سے دور ہوا بھی ہے،وقتاً فوقتاً ساری خبریں ملتی ہی رہتی ہیں ۔میری یہ شاگرد اردو کے مضمون میںہمیشہ ہی کمال دکھاتی تھی ، شاید اس وجہ سے بھی مجھے بہت عزیز تھی، کتابوں سے اس کی صرف اچھی نہیں بہت اچھی دوستی تھی ، پھر شاعری جیسے میدان سے کیوںکر دور رہتی ۔۔۔ اگر ہزاروں نہیں تو کئی سواشعار تو یقیناً ایک نشست میں سنا ہی سکتی تھی، میں ہمیشہ ہی اس کی صلاحیتوں کی معترف رہی تھی اور ہمیشہ ہی اسے اپنی دعاوں میں یاد رکھا تھا ۔
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تی میں نے ہاتھ دھو کر جلدی جلدی نل بند کیا اورباورچی خانے کی بتی بند کرتے ہوئے لاونج میں رکھے فون کی طرف قدم بڑھایا، دوسری طرف ارم بھابھی تھیںجن کے فون کا لا شعوری طور پر مجھے انتظار تھا۔ ارے حنا ! اسد کے لیے بتاو ناجلدی کوئی لڑکی سلام کےجواب دیتے ہی انہوں نے مدعا بیان کیا تھا، اچھا؟؟ میں اچھنبے میں پڑ گئی تھی کیونکہ میرے خیال میں تو ہم مدیحہ کے گھر جانے کی خواہش کرنے والی تھیں،، اچھا بھابھی مگر وہ ،،،مدیحہ؟؟ میں نے شاید ایک ماں کی طرح جھجکتے ہوئے سوال کیا تھا۔ اصل میں حنا اسد نے پروفائل دیکھی تھی اس لڑکی کی اور مجھے بھی دکھائی تھی ،، سچ بتاوں تو اس کی وال کی تقریباً ہر پوسٹ سے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ وہ کسی کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے، تو اسد نے اسی وقت مجھے منع کر دیا ، بات تو انہون نے مدیحہ کے حوالے سے کی تھی ، مگر مجھے ایسا لگا جیسے،،،،،،،شاید میں کبھی واضح نہ کر سکوں کہ مجھے اسوقت کیا محسوس ہوا،، فون منقطع کرنے کے فوراً بعد میں نے فیس بک پر مدیحہ کی وال دیکھی ،،،، کہیں محبت بھرے اشعار، کہیں شکوہ و گلہ کرتے ڈھکے چھپے اسٹیٹس ،،،،یہ سب کچھ پہلے بھی کئی بار میری نظروں سے گزرا تھا، لیکن آج اس کی پوری وال مجھے آگ کی مانند دہکتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی،،،،،،میری آنکھیں جلنے لگی تھیں، اسے تو معلوم بھی نہیں ہو گا کہ اس کے اس انداز کو کس پیرائے میں لیا جاتا ہے ،میں نے دکھ سے سوچا، بے وقوف لڑکی ایسی بھی کیا ضرورت ہے کہ دماغ میں آئے ہر خیال کو اس وال کی زینت بنا دیا جائے ، اب مجھے مدیحہ پر سچ میں غصہ آرہا تھا، اچانک سے نوٹیفیکیشن کی بیپ بجی مدیحہ نے اپنی وال پر شعر لکھا تھا بکھری پڑی تھیں ٹوٹ کے کلیاں زمین پر
ترتیب دے کے میں نے اس کا نام لکھ دیا
میں نے شعر کے ساتھ اسکی اداسی کا اشتہار پڑھا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی