اسلام کا تصور خاندان

2205

پروفیسر جہاں آرء لطفی

اسلام خاندان کا وسیع ترین تصو ررکھتا ہے۔ ایک مسلم خاندان میں صرف میاں بیوی اور بچے ہی شامل نہیں ہوتے بلکہ دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، چچا ، چچی ، پھوپھیاں ، ماموں ، خالہ وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں ۔
اسلام ایسے خاندان کا ایک تصور پیش کرتا ہے جو حقوق و فرائض اور خلوص و محبت ، ایثار و قربانی کے اعلیٰ ترین قلبی احساسات اور جذبات کی مضبوط ڈوریوں سے بندھا ہوا ہو ۔ اسلام خاندان سے بننے والے معاشرے کے جملہ معاملات کی اساس اخلاق کو بناتا ہے ۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے تمہارا جوڑاپیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں‘‘۔(النساء:۱(
سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :
’’ اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو‘‘۔(الحجرات:۱۳)
اسلام کے نزدیک معاشرے کا بنیادی ادارہ خاندان ہے جس کی بہتری ، بھلائی اورابتری اور بربادی پر معاشرے کی حالت کا انحصار ہوتا ہے ۔اسلام نے خاندان کی طرف خصوصی توجہ دی ہے تاکہ اس ادارے کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے اور ایک مضبوط، صالح اور فلاحی معاشرے کا قیام وجود میں آئے جو انفرادی و اجتماعی حقوق و فرائض کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرے ۔
اسلام خاندان کی بنیاد پاکیزہ اور مستحکم رکھنے کا حکم دیتا ہے اسلام دین فطرت ہے ۔ چنانچہ اسلامی خاندانی اصولوں ، قوانین و ضوابط اور اقدار میں اس بات کو قطعی فراموش نہیںکیا گیا کہ بحیثیت انسان اس کی فطری خواہشات اور ضروریا ت کیا ہیں کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے چنانچہ وہی جانتا ہے کہ اس کے لیے اس کی فطرت ، جبلت اور ضرورت کے مطابق کیا چیز ہو سکتی ہے ۔ انسان کے اندر پایا جانے والا صنفی میلان انسانی بقاء اور نسل انسانی کے فروغ کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس صنفی میلان کے حوالے سے وہ با اختیار ہے کہ ایسے طریقے اختیار کرے جو خاندان کے استحکام کا باعث ہوں یا انتشار کا موجب ہوں ۔
اسلام فرد کو اہمیت دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خاندان کو اور خاندانوں کے باہمی اشتراک سے پیدا ہونے والے قبیلے اوربرادری کو اور قبائل اور برادریوں سے تشکیل پانے والی قوم یا امت کوبھی اہمیت دیتا ہے ۔ معاشرے کے ہر دائرے کے حقوق کا تحفظ اور فرائض کا تعین کرتا ہے یوں اسلامی معاشرے میں ہر اکائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی فرد سے شروع ہو کر لہر در لہر پھیلتی چلی جایت ہے ایک دائرے سے دوسرا پیدا ہوتا ہے اور بالآخر اسلام کا دائرہ یا امت مسلمہ کا دائرہ سب دائروں پر محیط ہو جاتا ہے جس کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے :
(1) فرد
(2) گھر
(3) معاشرہ
(4) امت مسلمہ
خاندان یا کنبے کا مفہوم اگرچہ کافی وسیع معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس میں گھر کے خادم ، نوکر وغیرہ بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن بنیادی طور پر کنبہ میاں بیوی اور اولاد پر مشتمل ہوتا ہے یہی مفہوم ساری دنیا میں لیا جاتا ہے ۔ اس لیے خانگی زندگی پہ جب بحث کی جاتی ہے تو اس کے اراکین شوہر ، بیوی اور اولاد ہی سمجھتے جاتے ہیں ۔
اسلامی نقطہ نظر سے خاندان کے مقاصدبہت بلند اور اہم ہیں اس لیے رسول اکرم ؐ نے اسے نصف دین قرار دیا ہے ۔
ہرمسلمان کو نیکی کی ابتداء اپنے گھر سے کرنے کی ہدایت ہے اور اہل خانہ کو قرآن میں بھی ’’اہل‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے ۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
’’ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دیتے رہو اور خود بھی اس پر قائم رہو ‘‘(۲)
ایک اور جگہ ارشادہوا ۔
’’ اے ایمان والو! خود کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچائو‘‘۔(۳)
حضور اکرم ؐ کی یہ حدیث مبارکہ اہل خانہ سے متعلق ایک مسلمان کی ذمہ داریوں اور خاندان کی اسلام میں اہمیت کو بڑی صراحت سے واضح کرتی ہے ۔
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں، میں نے رسول ؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ تم میں سے ہر شخص نگہبان اور ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کے زیر کفالت و زیر نگرانی افراد سے متعلق پوچھ گچھ ہوگی ۔ امام بھی راعی ہے اور ذمہ دار ہے ۔ اور یہ کہ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہو گی ۔ آدمی بھی اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے بھی زیر دست افراد کے متعلق سوال ہو گا ۔ عورت بھی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے ۔ اس سے بھی اس کے زیر نگرانی امور کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔ ‘‘(بخاری و مسلم )
’’نکاح‘‘ خاندان کی بنیاد کا اسلامی طریقہ کار
اسلام نے نکاح کو خاندان کی بنیاد بنایا ہے ۔ اسلام نے بد کاری کو حرام اورنکاح کو پسندیدہ قرار دیاہے ۔ کیونکہ اسلام ایک خاندان کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا چاہتا ہے ۔ اسلام کی رو سے خاندان کی مضبوط بنیاد نکاح کے ذریعے پڑتی ہے ۔ چنانچہ وہ اس بنیاد کو خالصتاً خلوص ، محبت ، پاکیزگی ، دیانتداری اور مضبوط معاہدے جیسے ٹھوس مادے سے ڈالنے کا حکم دیتا ہے ۔
سورہ روم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے خود تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی ہے ‘‘۔(۴)
اسلام کی رو سے کسی قوم کی بقاء و سلامتی نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کی مرہون منت ہے ۔