’’زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمت‘‘

208

’’زندگی‘‘ کی بڑھتی ہوئی قیمت پاکستانی معاشرے میں بہت سے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ خوردونوش کے استعمال کی تقریبا تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، یہاں تک کہ روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیائے زندگی جن کی ضروریات بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں، یعنی آٹا، چینی، چاول، یہاں تک کہ شیرخوار بچوں کے لئے استعمال کا دودھ تک مہنگا ہوتا جا رہا ہے، یہ عجب رحجان ہے کہ ہر سال بعد منی بجٹ کے نام پر ایک بجٹ پیش کردیا جاتا ہے، جس میں تمام اشیا کی قیمت کا تعین پہلے سے زیادہ ہی کیا جاتا ہے۔
حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان، پاکستانی معاشرے میں استحکام لانے کے لئے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کو قابو کرکے آنے والے نئے بجٹ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کے لیے سہولیات فراہم کر سکتی ہے، پاکستانی عوام کی مشکلات کے ازالے کے لیے حکومت کو کوئی نئی پولیسی، نیا بجٹ، نئی ترتیب اور نئی تاریخ متعرف کروانی چاہیے جس سے پاکستانی عوام بھی سکون کا سانس اور آسانی کی زندگی کا تصور اپنا سکے۔
حمنہ خان، کراچی یونیورسٹی
نارتھ کراچی میں قلت آب
میں کراچی کے علاقے نارتھ کراچی کا رہائشی ہوں جہاں پانی کی بے حد قلت ہے اور گرمی کی شدّت میں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں اگر 15 سے 20 دن میں ایک بار پانی آتا بھی ہے تو بدبودار ہوتا ہے جسے پی کر بچّے بڑے سب بیماریوں
میں مبتلا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے کئی بچّوں کے موت بھی واقع ہو چکی ہے۔ ہم علاقہ مکینوں کی حکام بالا سے گزارش ہے کہ اس سنگین مسئلے پر توجہ دیں اور غریب عوام پر رحم کریں جو پانی کی کمی سے اذیت کا شکار ہیں۔
سید محمّد باسط