ایران اور یورپی ممالک کے درمیان نیا تجارتی نظام رائج

159

 

برسلز/ اوساکا (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تجارت کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس طریقہ کار سے یورپی ممالک ایران کے ساتھ تجارتی عمل جاری رکھ سکیں گے۔ اس نظام کو اِنس ٹیکس کا نام دیا گیا ہے۔ انس ٹیکس سے مراد انسٹرومنٹ اِن سپورٹ آف ٹریڈ ایکسچینج ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یورپی کمپنیاں سخت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کاروبار اور تجارت جاری رکھ سکیں گی۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ انس ٹیکس نظام رائج کر دیا گیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت سبھی یورپی ممالک اسے استعمال کر سکیں گے۔ یورپی یونین کے مطابق اس نئے نظام کے تحت پہلی تجارتی ٹرانزیکشن پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس نظام کو سفارتی تحفظ میسر ہو گا اور سامان کا تبادلہ براہ راست سرمائے کی منتقلی سے نہیں ہو گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران میں درجنوں ممکنہ اہداف کی فہرست ہے۔ ان کا اشارہ عسکری کارروائی کے امکان کی جانب تھا۔ ٹرمپ نے یہ بات ہفتے کے روز جاپان کے شہر اوساکا میں جی 20 سربراہ اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر بارک اوباما کی انتظامیہ نے ایران کی دہشت گردی کی فنڈنگ کی مد میں اپنا حصہ ڈالا۔ٹرمپ نے 2 روز قبل باور کرایا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ زیادہ دیر نہیں چلے گی، تاہم انہوں نے تہران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی سے گریز کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا تھا۔