پاک افغان تعلقات کا مخمصہ

317

 

 

افغان صدر اشرف غنی ایک بھاری بھرکم وفد کے ساتھ پاکستان کا دوروزہ دورہ کرکے واپس وطن سدھار چکے ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے صدر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، حزب اختلاف کے رہنمائوں میاں شہباز شریف، بلاول زرداری، سراج الحق سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اشرف غنی کے دورے کو پاک افغان تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کہا گیا۔ دونوں طرف سے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے عہد وپیماں بھی ہوئے۔ اشرف غنی کی مدت صدارت ستمبر میں ختم ہو رہی ہے اور وہ آمدہ صدارتی انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ اشرف غنی کے دورے سے چند ہی دن پہلے ان کے سخت گیر افغان مخالفین کا ایک بڑا وفد بھی پاکستان کا دورہ کرچکا ہے جن میں گل بدین حکمت یار اور احمد ولی مسعود نمایاں تھے۔
اشرف غنی کے دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کابل کے بین الاقوامی طور پر مسلمہ حکمران ہیں۔ اپنے ملک میں ان کی عملداری کتنی ہے؟ قطع نظر اس کے عالمی ادارے اور ممالک انہی کے ساتھ معاملات اور معاہدات کرتے ہیں۔ افغانستان میں حکومتی نظام پر قانونی اعتبار سے انہی کی گرفت ہے۔ یہ افغانستان کی موجودہ زمینی حقیقت کی وہ پرت ہے جو پاکستان کے لیے غیر موافق اور مخالف ہے۔ کابل کے اس سرکاری انتظام میں پاکستان کو کلی طور پر طالبان کے ساتھ بریکٹ کرکے ، افغانستان کی تمام جنگوں اور افغانستان کے شہریوں کے دکھوں اور مہاجرین کے مسائل کا سارا بوجھ پاکستان پر لاد کر اسے ’’ولن‘‘ کی شکل دی گئی ہے۔ یہ اشرف غنی سے بہت پہلے کا قصہ ہے نائن الیون کے بعد پاکستان کو ولن کے طور پر پیش کرنے والی اس ’’افغان کہانی‘‘ کو بڑے پیمانے پر کئی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے وسائل پر مقبول بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان عوام کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت بھری گئی اورافغانستان کے شہروں میں پاکستانیوں کے لیے اپنی شناخت کا اظہار ایک عذاب بن کر رہ گیا۔ اس افسانے سے تو یوں لگتا تھا کہ پاکستان افغانستان کی زمین ہتھیا کر تشکیل پایا ہو اور سوویت یونین بھی پاکستان کی دعوت پر افغانستان آیا اور اس کے خلاف مزاحمت کا آغاز بھی پاکستان نے کیا ۔اسی طرح امریکا بھی پاکستان کی دعوت پر آیا اور مزاحمت کا آغاز بھی پاکستان نے کیا ۔اس سوچ میں ایک گہرا تضاد تھا۔ احمد شاہ مسعود سوویت یونین کے خلاف بے جگری سے لڑے۔ ایک پراسرار حادثے میں جاں بحق ہوئے تو وادی ٔ پنج شیر میں ان کا مزار ایک درگاہ اور آستانہ بن کر رہ گیا۔ ان کے عقیدت مند جوق در جوق اس مزار پر آکر حاضری دیتے ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف بندوق اُٹھانا غلط تھا تو احمد شاہ مسعود کو ہیرو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سوویت یونین کے خلاف بندوق اُٹھائی گئی تو ایک منظم مزاحمت بنتی چلی گئی اور یوں دونوں طرف سے افغان قتل بھی ہوتے رہے اور اسی کے شہر وقصبات ویران ہوتے رہے۔ یہی معاملہ گل بدین حکمت یار کا ہے جو سوویت فوج کے خلاف لڑنے والوں میں سب سے نمایاں اور مسلح جدوجہد کے بانیوں میں شامل تھے۔ حکمت یار مدتوں زیر زمین رہنے کے بعد کابل میں داخل ہوئے تو ایک ہیرو کی طرح ان کا استقبال کیا گیا وہ اب بھی کابل کے صدارتی انتخابات میں امیدوار ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف بندوق اُٹھانے والے حکمت یار افغانستان میں قابل عزت اور آزاد کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہی حال ایک اور گوریلا کمانڈر عبدالرب رسول سیاف ہے جن کی تنظیم ان عرب نوجوانوں کی سرپرست اور معاون تھی جو بعد میں القاعدہ کے نام سے اسامہ بن لادن کی قیادت میں جمع ہوئے۔ اس دور میں ہم پشاور یا راولپنڈی میں جب بھی کسی عرب نوجوان سے ملتے وہ استاد سیاف کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا۔ استاد سیاف پچھلی دو افغان حکومتوں میں ایک بزرگ اور سرپرست کا کردار ادا کررہے ہیں۔ استادبرہان الدین ربانی، صبغت اللہ مجددی اوراحمد گیلانی،عبدالعلی مزاری جیسے جہادی قائدین اگر اس جہان فانی سے کوچ نہ کرجاتے تو آج کابل میں کسی سرکاری ذمے داری کو نبھا رہے ہوتے۔ وہ جو افغانستان کی سرزمین پر ایک طویل اور اعصاب شکن لڑائی کی قیادت کرتے رہے ہیرو اور ایک ہمسائے کے طور پر ان کی مدد کرنے والا پاکستان افغان معاشرے میں ولن بنارہے کس قدر عجیب تضاد ہے۔حقیقت میں افغانستان میں ’’اینٹی پاکستان ازم‘‘ کی لہر کسی ٹھوس جواز کے بجائے امریکا اور بھارت کی ضرورت تھی اس میں محض تڑکے کے طور پر افغانستان کے روایتی پاکستان مخالف مائنڈ سیٹ کو شامل کیا گیا۔ وقت بدلے گا تو احمد شاہ مسعود کی طرح ’’ملا عمر‘‘ کی قبر بھی مرجع خلائق ٹھیرے گی اور افغان اس پر روحانی طاقت حاصل کرنے جائیں گے مگر پاکستان بدستور افغانوں کو دوسری بار جنگ میں جھونکنے کا سزاوار اور مجرم رہے گا؟۔ افغانوں کو اپنا یہ قومی کنفیوژن دور کرنا ہوگا۔ سوویت یونین اور امریکا کے خلاف ان کی جنگیں جہاد تھیں یا فساد؟ وہ آزادی کا جشن بھی منائیں اور اس آزادی میں مدد دینے والوں کو پر تبرا بھی کریں۔ اس تضاد سے کنفیوژن بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہ یہ طے کریں کہ افغان جہاد ان کی قومی آزادی کی جنگ تھی بھی یا نہیں اور سوویت یونین مسیحا تھا یا جارح؟
افغانوں میں اینٹی پاکستان ازم کی لہر کا مقصد پاکستان کے لیے سپیس محدو دکرنا اور بھارت کے لیے بڑھانا تھا۔ پاکستان مخالف لہر کی آڑ میں بھارت نے پوری طرح افغانستان کے نظام کے اندر اپنے لیے جگہ بنالی اور اس لہر کی آڑ میں افغانستان کا عام آدمی خود اپنی قیادت کے محاسبے اور اپنے قومی کنفیوژن کو دور کرنے سے قاصر رہا۔ کابل کے حکمران حامد کرزئی تھے یا اشرف غنی پاکستان کے حصے میں مخالفت کے تیر ہی آتے رہے۔ اس اندھے اینٹی پاکستان ازم کے اثرات لاکھوں افغان مہاجرین پر بھی پڑے جنہیں امریکا، بھارت اور افغان حکومت نے پاکستان کے اندر ایک لیوریج کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے پاکستان کے اپنے شہریوں کو ریاست کے خلاف سرگرم کرنے تک پہنچی۔اب اشرف غنی کے دورہ ٔ پاکستان کے کیا اثرات برآمد ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر افغانستان کے عوام کو اپنا قومی کنفیوژن دور کرکے پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہو گا۔ احمد شاہ مسعود ،گل بدین حکمت یار ،برہان الدین ربانی ان کے ہیرو ہوں اور امریکا بین الاقوامی ذمے داریاں نبھانے والا مددگار اور دوست اور صرف پاکستان تنہا ولن ٹھیرے اسے قومی کنفیوژن کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟