وزارت چھوڑ سکتا ہوں ،شہریوں کا گھر نہیں گراسکتا ،سعید غنی

124

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)سندھ کے وزیرِ بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ وزرات چھوڑ سکتا ہوں لیکن ان گھروں کو ہرگز نہیں توڑ سکتا جہاں انسان بستے ہیں۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی جانب سے کراچی میں قیام امن کے حوالے سے ایک روزہ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر بلدیات سعید غنی، مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، معروف آرکیٹیکٹ عارف حسن سمیت دیگر نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ شہر میں کمیونٹیز کو کچھ مفاد پرست گروہ اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسائل موجود ہیں اور ان کے حل کی ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے، مسائل ختم نہیں ہوتے اس لیے کمیونیٹیز مافیا کے ہاتھوں استعمال ہو جاتی ہیں۔وزیر بلدیات نے کہا کہ میں جس یونین کونسل میں رہتا تھا وہاں مصطفی کمال کے دور میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے اطراف قبضہ کیا گیا، شکایت کرنے پر سٹی کونسل میں مجھے مار بھی پڑی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج وہاں لوگ آباد ہیں اور مجھے تجاوزات ختم کرنے کا کہا جاتا ہے تو میں ان کے گھر نہیں توڑتا، مجھے اور میرے خاندان کو اسی شہر میں رہنا ہے، وزارت تو چلی جائے گی، گھروں کو توڑ کر اور وزیر بن کر اس شہر میں نہیں رہ سکتا۔سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں تجاوزات کا خاتمہ ہونے میں 20 سال لگ سکتے ہیں، جن گھروں کو توڑنے کی بات کی جا رہی ہے وہ خالی دیواریں نہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشیرِ اطلاعات و قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ کراچی کے حقوق کے دعویدار اور ٹھیکیدار اپنی سیاست پر نظر ثانی کریں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے میئر صرف اداکاری کر سکتے ہیں، کے ایم سی کے 2 ارب روپے کے بجلی کے واجبات سندھ حکومت نے دیے۔