مائنز میں حادثات کو روکا جائے‘ نور محمد

67

پاکستان مائنز ورکرز فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور محمد نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں شعبہ کان کنی میں حادثات کی وجوہات اور روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ C.H.4 (میتھین گیس) کی موجودگی سے سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے زلزلہ یا سونامی جن کی روک تھام نہیں ہوسکتی۔ بہرحال ایسے آلات موجود ہیں جو گیس کی موجودگی کا پتا چلا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کمپنیز اور ٹھیکیداروں کو پابند کریں کہ وہ متعلقہ آلات فراہم کریں۔ جس ٹمبر کی مائن
کے اندر ضرورت ہے یعنی کیکر کی لکڑی وہ آج کل ناپید ہے۔ اگر دستیاب بھی ہوجائے تو انتہائی مہنگی ہے، ناقص لکڑی کی وجہ سے روف فال ہوتے ہیں۔ انسپکٹر آف مائنز کا کام ہے کہ وہ باقاعدگی سے مائنز کا چیک اپ کریں، لیکن چونکہ متعلقہ محکمہ کے پاس اتنا اسٹاف موجود نہیں کہ وہ تمام مائنز کا معائنہ کرسکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مزید اسٹاف بھرتی کرے۔ زیادہ تر مائنز کا اسٹاف ان ٹرینڈ ہے اور ناکافی ہے، ساتھ ہی ساتھ مزدور بھی ان ٹرینڈ ہیں، انسپکٹریٹ آف مائنز کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسٹاف اور مزدوروں کو ٹرینڈ کرائے۔ بلوچستان کے مائنز میں 4 سے 6 ہزار فٹ کی گہرائی میں کام ہورہا ہے، اتنی گہرائی میں زمین کچی ہوجاتی ہے۔ بلوچستان میں زیادہ تر کام ٹھیکیدار کرتے ہیں جبکہ مائینگ کا کام انتہائی زیادہ خرچہ مانگتا ہے۔ آلات انتہائی مہنگے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ مائینگ آلات پر سبسڈی، قرضہ جات فراہم کرے۔