سی ڈی اے میں رواں برس کرپشن کے 212 مقدمات کا اندراج

85

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں سال 2018ء کے دوران کرپشن،لوٹ مار،پیٹرول چوری ،جعلی ڈگریوں اور پلاٹوں کی خورد برد سے متعلقہ 212مقدمات درج کیے گئے جن میں سے 72 مقدمات کو نیب اور57مقدمات کو تحقیقاتی عمل کے لیے ایف آئی اے کے سپرد کیا گیا ،جعلی ڈگریوں کے 2200 کیسز میں سے 372افراد کیخلاف انکوائری مکمل کر کے انہیں معطل کیا گیا ان ملازمین میں سے 80فیصد کلاس فور کے شامل ہیں جبکہ 20فیصد افسران کیخلاف جعلی ڈگریوں کے واقعات سامنے آنے کے باوجود انہیں تا حال پراسس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے سیکڑوں مقدمات تاحال ایف آئی اے اور نیب کے زیر کنٹرول تحقیقاتی عمل سے مستفید ہو رہے ہیں ان میں بلڈنگ کنٹرول سے متعلقہ 22کیسز جبکہ لینڈ اسٹیٹ کی کرپشن کے حوالے سے 78کیس شامل ہیں سال 2018میں سی ڈی اے کے 28افسران و ملازمین کیخلاف کارروائی کے دوران انہیں مختلف کیسوں میں گرفتار کیا گیاجن میں سے زیادہ تر افسران ضمانت پر رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جبکہ 6 افسران تا حال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جن میں سابق ڈی جی بلڈنگ کنٹرول ملک غلام مرتضیٰ اور ڈی جی پلاننگ غلام سرور سندھو شامل ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے میں کرپشن لوٹ مار کے بیشمار مقدمات تحقیقاتی اداروں کے پاس زیر سماعت ہیں، سی ڈی اے کے شعبہ لینڈ اینڈ اسٹیٹ میں کرپشن کے 78 واقعات سامنے آئے تحقیقاتی اداروں نے ان واقعات پر ایکشن لے کر 35افراد کوتحویل میں لیا جن میں سے6افسران جیل میں ہیں اور کئی ملازمین کے کیسز تاحال عدالتوں میں زیر سماعت ہیں لینڈ اسٹیٹ میں 3 سال کے دوران 4ارب کی کرپشن کی گئی اور کرپشن کرنے والے افسران کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر تبادلے کیے گئے یا وہ ریٹائر ہو چکے ہیں سابق ڈی ڈی لینڈ اور موجودہ ڈی سی سی ڈی اے راجا سلیم جنہوں نے شعبہ لینڈ میں اپنے کار خاص ڈیلروں کے ذریعے نہ صرف کروڑوں روپے کی کرپشن کی بلکہ انہوں نے سابق دور میں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کار خاص ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سینکڑوں متاثرین سے کوڑی کے بہاؤ ان کی زمینوں کی فائلیں خرید کر قانونی و غیر قانونی الاٹمنٹ کرائیں جب ان کے خلاف تحقیقاتی عمل شروع کیا گیا تو انہیں اعلیٰ حکام کی سفارشوں سے ڈی سی سی ڈی اے لگا دیا گیا بعد ازاں موصوف نے کرپشن مقدمات سے بچنے کے لیے اپنے علاقے میں تبادلہ کرا دیا جبکہ سی ڈی اے کے شعبہ بی سی ایس میں گزشتہ ایک سال کے دورا ن سی ڈی اے کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول میں غیر قانونی پلازوں کی تعمیر میں مدد فراہم کرنے اور غیر قانونی نقشہ جات کو قانونی قرار دیے جانے کی مد میں 3 سال کے دوران قومی خزانے کو3ارب روپے کانقصان اٹھانا پڑا۔ بلڈنگز اور مکانات کے جعلی این او سی جاری کرنے کے واقعات میں ایک سال کے دوران 5ارب سے زیادہ کی کرپشن کی گئی اس کرپشن پر ایف آئی اے کو متعدد شکایات درج کرائی گئی لیکن ملی بھگت سے بلڈنگ کنٹرول کی کرپشن دھڑلے سے جاری ہے سی ڈی اے کے شعبہ پلاننگ میں بھی کرپشن کے 150بڑے واقعات سامنے آئے جن میں پلاننگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الحق بروہی اور سابق ڈائریکٹر ایوب طارق موجودہ ڈائریکٹر اعجاز شیخ ان واقعات میں ملوث پائے گئے لیکن تا حال ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی سی ڈی اے کے شعبہ ون ونڈو میں کرپشن کے 35واقعات سامنے آ چکے ہیں اور وہاں ملک کی سب سے بڑی کرپشن کی جا رہی ہے روزانہ پلاٹوں کی ٹرانسفر کی مد میں شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں لیکن مافیا وہاں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑے ہوئے ہے شہریوں کی شکایات پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا ایک سال کے دوران ونونڈو کے افسران کی کرپشن کے حوالے سے 1100شکایات درج کی گئیں لیکن عملدرآمد صرف 5پر ہوا اور ان ملازمین کو صرف وہاں سے تبدیل کر کے من پسند ملازمین کو وہاں دوبارہ تعینات کیا گیا۔