استحکام پاکستان کیلیے یکجہتی کی ضرورت ہے،پیغام پاکستان کانفرنس

88

لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان کے استحکام کے لیے امت کی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے،دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے سے ہی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اساتذہ اور علماکردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخارحسین نقوی، سرپرست اعلیٰ تحریک وحدت اسلامی پاکستان پیرسیدمحمدحبیب عرفانی،پیرآف سندر شریف پیردیوان محمدعظمت چشتی، ڈاکٹر امجدحسین چشتی، چودھری اختر رسول، ضیااللہ شاہ بخاری سربراہ جماعت اہل حدیث، ڈاکٹرفریدپراچہ نائب امیرجماعت اسلامی، پیر سید معصوم حسین نقوی، صدر جے یو پی نیازی علامہ صاحبزادہ پرویزاکبرساقی،علامہ امین شہیدی، ڈاکٹر طارق پیرزادہ،خواجہ معین الدین کوریجہ آف کوٹ مٹھن شریف، نومنتخب سیکرٹری اطلاعات ونشریات تحریک وحدت اسلامی پاکستان پیرمحمدامیرسلطان چشتی ودیگر مقررین نے مولانا جاوید اکبر ساقی کی پہلی برسی کے موقع پر پیغام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک خطرات اور نازک حالات سے دوچارہے، تکفیری گروہ مساجد،خانقاہوں، مدارس اور امام بارگاہوں کو نشانہ بنا کر صہیونی طاقتوں کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہچانے کی مذموم سازشوں میں مصروف عمل ہیں، پاک فوج نے وطن عزیز کو شیطانی وارداتوں سے مستقل طور پر نجات دلانے کے لیے ہزاروں انمول جانوں کی قربانیاں دیں، اسلامی تعلیمات میں معاشرے کے تمام طبقات اور مذاہب کے لوگوں کو باہمی اتحاد، ہم آہنگی اور رواداری کا درس دیا گیا ہے، غیر مسلموں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اساتذہ اور علماکردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان سیاسی، نسلی، سماجی، مذہبی اور فرقہ ورانہ تنازعات سے نجات دلانے کیلیے بھی مشترکہ کوششیں کرنیکی ضرورت ہے، انتہاپسند اور عسکریت پسند گروہ جھوٹی کہانیاں تراش کر اپنے نظریات کا پرچار کر تے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کو امن تباہ کرنے کیلیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں جن کو بے نقاب کرنیکی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام مکتب فکر، فرقوں اور مذاہب کے درمیان رواداری اور یکجہتی کے لیے متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا ۔