سندھ کے حکمرانوں کے خدشات و خطرات !

194

27 دسمبر کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذوالفقار بھٹو، بھائی مرتضٰی بھٹو اور دیگر کی قبور کے سامنے مشتعل کارکنوں کے ان نعروں سے کہ ’’اب جلد مرے گا زرداری۔۔۔ اب تیری باری زرداری‘‘ سے بھی آصف زرداری اور ان کے چاہنے والوں کی نیندیں آڑ چکی ہوں گی اور وہ مزید ذہنی انتشار میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج قبول نہیں کریں گے، انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ گورنر راج کسی صوبے میں لگانے کے لیے اسمبلی کی سفارش ضروری ہے اور صدارتی راج کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی، کراچی کا امن کسی کو بھی خراب کرنے نہیں دیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم کے مقتول ر ہنما علی رضا عابدی کے والد سید اخلاق حسین عابدی سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر تعزیت کی اور انہیں اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ائر پورٹ سے اہم گرفتاری عمل میں آئی ہے، علی رضا عابدی تو واپس نہیں آسکتے لیکن ظالم کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہم قاتلوں کو گرفتار کریں گے اور اس شہر کا امن کسی کو بھی خراب کرنے نہیں دیں گے، کوشش ہے کہ علی رضا عابدی کے قتل کے حوالے سے وفاق سے بھی مدد مل سکے، علی رضا عابدی کے قتل کے بعد ایم کیو ایم والوں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ6 ہفتے میں 6 واقعات ہوئے جس پر میں نے تشویش کا اظہار کیا، چینی قونصلیٹ حملے میں ہماری ناکامی یہ ہے کہ دہشت گرد وہاں تک کیسے پہنچ گئے۔
سیاستدانوں خصوصاً حکمرانوں کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ بغیر کوئی موقع محل دیکھے اپنی پوزیشن ’’کلیئر‘‘ کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ رضا عابدی کی تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ایسا ہی کچھ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس قتل پر اپنی ناکامی کا کھل کر اعتراف کرنے کے بجائے ان خدشات کا اظہار کردیا جو ان کی اور ان کی پارٹی کو نئے تشویشناک حالات سے لاحق ہوچکے ہیں۔ یہ حالات صرف کراچی میں رضا عابدی اور دیگر افراد کے قتل سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ صورتحال زیادہ گمبھیر تو صوبے کے حکمرانوں خصوصاً وزیر اعلیٰ کے لیے یہ ہے کہ وہ 31 جولائی کو اپنے رہنما آصف زرداری کے ساتھ عدالت کے حکم پر گرفتار ہوسکتے ہیں۔
جعلی بینک اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کی جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ یہ انتظار صوبے کے حکمرانوں کے لیے قیامت کا ہے۔ انہیں اپنی گرفتاریوں کے ساتھ سندھ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بھی خطرات ہیں جس کا اظہار انہوں نے رضا علی عابدی کے قتل پر تعزیت کرتے ہوئے بھی کردیا۔ دل میں پائے جانے والا خوف کہیں بھی زبان پر آسکتا ہے۔ ملک میں کرپشن اور مختلف الزامات پر سخت اور اہم شخصیات کا اس طرح کے احتساب کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ ضرور ہے کہ ماضی میں سیاستدانوں کو آمریت اور جمہوریت میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان ہی وجوہ کی بناء پر سیاستدان بھی ہمیشہ یہی مؤقف اختیار کیا کرتے ہیں اور اب بھی کررہے ہیں حالاں کہ سندھ پر گزشتہ 11 سال سے مسلط پیپلز پارٹی کے بارے میں ہر خاص و عام اس بات پر متفق ہے کہ انہوں نے صوبے میں لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں کیا۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں بھی حکمرانی کے دو ادوار میں کرپشن کی بازگشت عام رہی اور اس کے ساتھ ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ بھی متعارف ہوئے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ اسی شخصیت کو کہا جاتا تھا جو بے نظیر کے قتل کے بعد سب سے زیادہ فائدہ میں رہے۔ بے نظیر بھٹو کو قتل ہوئے دس سال گزر چکے مگر پیپلز پارٹی کا کنٹرول سنبھالنے والے آصف علی زرداری نے صدر مملکت بننے کے باوجود بے نظیر کے اصل قاتلوں کا پتا بھی نہیں چلایا۔ دلچسپ امر تو یہ بھی ہے کہ چند سال قبل بے نظیر بھٹو کی ایک برسی کی تقریب کے موقع پر خود آصف زرداری نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ’’میں شہید بی بی کے قاتلوں کو جانتا ہوں، وقت آنے پر نام بھی بتادیں گے‘‘۔ لیکن اب تک انہوں نے ان کے قاتلوں کا نام چھپا رکھا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ تحقیقاتی اداروں نے سفارش کی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی ازسر نو تحقیقات کرائی جائے اور بعض اہم نکات کا جواب تلاش کیا جائے۔ تحقیقاتی ادارے چاہتے ہیں کہ یہ معلوم کیا کہ بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا ؟ حالاں کہ کسی بھی قتل کے واقع میں لاش کا پوسٹ مارٹم کرانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ تحقیقات میں اس کی رپورٹ بنیادی اور اہم کہلاتی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی وصیت کے حوالے سے بھی بہت سی شخصیات خصوصاً بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان کو شک ہے کہ وصیت نامہ جعلی ہے۔ بعض ادارے اس وصیت نامے کے حوالے سے بھی تحقیقات کرانے کے خواہش مند ہیں۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ آصف زرداری نے خود بے نظیر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بحیثیت مقتولہ کے شوہر کیا کوششیں کی ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ بے نظیر بھٹو قوم کی بیٹی اور ایک سابقہ وزیر اعظم بھی تھیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات اگر درست سمت میں کرائی گئی تو نا صرف ان کے قاتلوں تک پہنچا جاسکتا ہے بلکہ سندھ اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے چہرے بھی سامنے آسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ کے وزیراعظم عمران خان اور مختلف ادارے کچھ پرانے مقدمات دوبارہ کھول کر ان کی ازسر نو تحقیقات کا حکم جاری کر دیں۔ اللہ کرے ایسا ہوجائے تاکہ شکوک و شبہات ختم ہوسکیں۔