اسلام ایک مکمل دین ہے

213

حبیب الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ ملکی دفاع کے لیے نظریہ پاکستان کی حفاظت ایٹم بم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے، نظریہ سے بے وفائی نہ کی جاتی تو پاکستان دولخت نہ ہوتا، آج امریکا اور ناٹو فوجوں کو افغانستان کے اسلحے نے نہیں لاالہ الا اللہ کی قوت نے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے، قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد قوم کو نظریاتی قیادت نصیب نہیں ہوئی، مخصوص ٹولہ 71سال سے ملک کی بوٹیاں نوچ رہا ہے، حکمرانوں نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنا دی ہیں، حکمران، نیب اور عدالتیں اپنی ذمے داریاں پوری کرتیں توآج ملک 96 ارب ڈالر کا مقروض نہ ہوتا۔ کرپشن، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ کرپٹ لوگوں کوچین اور روس میں رائج سزاؤں جیسی سزائیں دیے بغیر کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ اس حقیقت میں کسی کی بھی دو آرا ممکن ہی نہیں کہ پاکستان ایک نظریہ کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا اور وہ نظریہ اسلام تھا۔ اسی نظریے کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں لیکن افسوس وہ سارے خواب جو دکھائے گئے تھے وہ خواب خیال ثابت ہوئے اور جو نعرے لگائے گئے تھے وہ سب کے سب کھوکھلے نعرے تھے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے پاکستان میں ایک دن کے لیے بھی ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور ان نعروں اور دعوؤں کو سچا ثابت کرنے کی کوئی مخلصانہ سعی سامنے نہیں آئی۔
امیر جماعت اسلامی نے سچ ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان اسی نظریہ کی حکمرانی قائم کی جاتی جس کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا تو پاکستان کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔ بد قسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان بنانے کے بعد پاکستان بنانے والے اپنے دعوؤں اور وعدوں سے غافل ہو گئے اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ اسلام کے علاوہ بھی دنیا کی دوسری مقتدر قوتوں کے پاس ایسے نظریات اور ملک چلانے کے ایسے فلسفے، آئین و قوانین موجود ہیں جس کی مدد سے ایک نظریاتی ملک کو (نعوذباللہ) اللہ کے بھیجے گئے قوانین و احکامات سے بھی بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔ اسی سوچ کی ہم پر ایک بھرپور مار پڑی اور اسلام کو چھوڑ کر امریکا و روس کی پیروی نے ہمارے ملک کو دولخت کردیا اور یوں وہ ملک جو نظریہ اسلام پر وجود میں آیا تھا وہ لسانیت کو بنیاد بنا کر توڑ دیا گیا۔
پاکستان میں نظریہ اسلام اب صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے رہ گیا ہے چناں چہ جب جب بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، انتخابات قریب آتے ہیں، حکومت میں بیٹھے افراد کے چہرے بدل جاتے ہیں، کوئی تحریک جنم لیتی ہے، سیاسی فضا کو اپنے حق میں تبدیل کرنا ہوتا ہے یا ظلم و ستم، ناانصافیوں سے بیزار عوام مایوسیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں اور مہنگائی ان کا دم گھونٹنے لگتی ہے تو ایسے میں کوئی باہر نکلتا ہے اور اسلام اسلام کا نعرہ بلند کرکے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ وہ اس ملک میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے لیے اٹھا ہے۔ لوگو میری اتباع کرو، مجھ پر اعتماد کرو اور یقین کرو آپ کی تمام مشکلات کا حل اسی نسخہ کیمیا میں ہے۔ ایسے ہی ایک نعرے کی گونج پھر سنائی دے رہی ہے۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو ’مدینہ‘ جیسی فلاحی ریاست بنائے گی۔ یہ وہ دعویٰ ہے جو قیام پاکستان سے قبل بھی گونجا تھا لیکن بعد میں وہ نعرہ نعرہ ہی ثابت ہوا۔ ڈر یہ ہے کہ مدینہ جیسی ریاست بنانے کا دعویٰ اور نعرہ بھی ایک بھول ہی ثابت نہ ہو۔ موجودہ مدعیان میں مدینہ جیسی ریاست بنانے کی کوئی خوبو دکھائی نہیں دے رہی۔ شراب قانونی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ایک دو چسکیوں کی بات اب بہت پیچھے رہ گئی ہے یہاں تو ایک بوتل اور 250 گرام چرس لیجانا اب کوئی جرم ہی نہیں رہ گیا ہے۔ سینما ہال 187 سے بڑھا کر 1100 کیے جانے کے فنڈ جاری کر دیے گئے ہیں۔ تھیٹروں میں رقص کی اجازت دیدی گئی ہے۔ وزرا شراب میں دھت نامحرم اور لباس سے آزاد خواتین کے ساتھ محو رقص دکھائی دیتے ہیں۔ سود ختم کرنے کی کوئی سعی نظر نہیں آتی، کاروبار کو تباہ کیا جارہا ہے، مساجد کو توڑا جا رہا ہے، مکانات گرائے جا رہے ہیں، لوگوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے اور کافروں کو دوبارہ مسلمان قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے۔ ان سب اعمال کے باوجود اس بات کو مسلسل دہرایا جارہا ہے کہ پاکستان کو مدینے جیسی اسلامی و فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ ان ہی خیالات کا اظہار امیر جماعت نے اپنی تقریر اور گفتگو میں بھی کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’پاناما کے دیگر 436 ملزموں کو بھی کوئی نہیں پوچھ رہا‘‘۔ یہی وہ بات ہے جو احتسابی عمل کو مشکوک بنا رہی ہے اور دنیا میں جو پیغام جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ احتساب کے پس پردہ بھی مخالفین کو خاموش رکھنا اور حکومت کے خلاف مزاحمتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے علاوہ بظاہر کوئی اور مقصد دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جناب سراج الحق کا کہنا تھا کہ ’’حکومت نے پاکستان کو مدینے جیسی ریاست بنانے کا عوام سے جو وعدہ کررکھا ہے اسے پورا کرنے کے لیے اسلامی نظام معیشت کو رائج کرنا ضروری ہے۔ بدعنوانوں اور سودی معیشت کی موجودگی میں ریاست مدینہ نہیں بن سکتی۔ احتساب کے بے لاگ نظام کے بغیر بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ چند لوگوں کے احتساب سے احتساب کے پور ے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نیب کی الماریوں میں کرپشن کے 150میگا اسکینڈلز کی فائلیں پڑی گل سڑ رہی ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ ان تمام مقدمات پر عدالت عظمیٰ، نیب اور حکومت کی طرف سے ایک پراسرار خاموشی ہے۔ قانون افرادکے لیے نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے ہونا چاہیے۔ حکومت بڑے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے ٹیکس وصولی کا منظم نظام بنائے، غریبوں کو ٹیکس کی چکی میں پیستے رہنا معاشی پلاننگ نہیں‘‘۔ ایک ناقد کی حیثیت سے مجھے امیر جماعت اسلامی کی باتوں اور خیالات سے 100 فی صد اتفاق ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے تو پھر بیان کردہ خیالات کی روشنی میں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ ریاست کے قوانین کو بھی ان ہی اصول و قوائد کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
موجودہ حکومت کا کیا ایجنڈا ہے؟، اس بات کو سمجھنا اب بہت مشکل نہیں رہا۔ اب وہ ساری باتیں سر عام ہونے لگی ہیں جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہیں تھا حتیٰ کہ اب حکومتی اہلکار خواتین کو اپنی گود میں بٹھا کر اسے سوشل میڈیا پر وائیرل کرنے میں بھی کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور قادیانیوں کو مسلمان کہنے کی تکرار تو اتنی عام ہو چکی ہے کہ جس پر جتنی حیرت کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے۔ ایسے میں حیرتناک خاموشی دل کو دھڑکائے دے رہی ہے۔ لگتا ہے کہ اب پاکستان بنانے کا مقصد انتقال کر چکا ہے۔ اب یہ پاکستان نام کا ’پاک ستان‘ رہ گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مسلمان بھی اب نام ہی کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ مسلمانوں کے حق میں اب یہی دعا یہی کی جاسکتی ہے کہ
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیری بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں