جماعت غربا اہلحدیث پاکستان کی 74ویں قرآن وحدیث کانفرنس

344

عمران احمد سلفی

برصغیر میں دینی سیاسی سماجی تنظیموں اور جماعتوں کے زیراہتمام جلسوں، جلوسوں، اجتماعات اور کانفرنسوں کے انعقاد کی قدیم روایات موجود ہیں بالخصوص دینی جماعتوں کے اجتماعات اپنی نوعیت کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ایسے ہی اجتماعات میں سے ایک روایتی تاریخی تبلیغی وعلمی سالانہ اجتماع جماعت غربا اہلحدیث پاکستان کی سالانہ قرآن وحدیث کانفرنس ہے جو جماعت غربااہلحدیث کے مرکزی دارالامارت جامع مسجد محمدی، جامعہ عربیہ اسلامیہ دارالسلام برنس روڈ محمدی چوک پر منعقد ہوتی ہے۔ اور دوسرا بڑا اجتماع جماعت کی مرکزی درس گاہ جامعہ ستاریہ اسلامیہ میں اور کراچی میں اہلحدیث مکتبہ فکر کی سب سے بڑی کانفرنس کہلاتی ہے۔ اس کانفرنس کی خوبی یہ ہے کہ یہ اجتماع بعد نماز عشا منعقد ہوتا ہے تاکہ کسی سامع کے تعلیمی، کاروباری، یا دیگر معاملات زندگی متاثر نہ ہوں، اگرچہ دن کے مختلف اوقات میں بھی درس اور وعظ ونصیحت کے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ کانفرنس میں نہ صرف کراچی کے کونے کونے سے مرد خواتین جوان بزرگ بچے سبھی شامل ہوتے ہیں بلکہ بیرون کراچی سے آئے ہوئے وفود بھی اپنے علما ومشائخ سے فیض حاصل کرتے ہیں۔
آج سے تقریباً90سال قبل متحدہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی جو علم وادب اور حکومتی وسیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا میں جماعت غربااہلحدیث کی پہلی سالانہ کل ہندکانفرنس کمپنی باغ میں منعقد کی گئی اگرچہ اس سے قبل بھی جماعت کے زیراہتمام اجتماعات منعقد ہوتے رہتے تھے چوں کہ جماعت غربااہلحدیث کے قیام کے روز اول ہی سے تبلیغ وتعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا تھا 150سال قبل جب بانی جماعت غربااہلحدیث محدث ہند مولانا عبدالوھاب دہلوی ؒ نے زمام امارت سنبھالی تو اس وقت ہی سے انہوں نے جماعت کو شرعی خطوط پر استوار کرتے ہوئے دعوتی تبلیغی سماجی میدان میں جدوجہد کا آغاز کردیا تھا۔ بانی جماعت مولانا عبدالواھابؒ نے اپنے استاد گرامی مولانا میاں نذیر حسین کے علمی فیضان کے سلسلے کو آگے بڑھانے اور برصغیرمیں قرآن وحدیث کا نور عام کرنے کے لیے’’مدرسہ دارالکتاب والسنہ‘‘ قائم فرمایا جہاں سے ہزاروں علما وفضلا فارغ التحصیل ہوئے اور انہوں نے پورے ہندوستان بلکہ دیارغیر میں بھی تبلیغی تعلیمی دعوتی میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ مولاناعبدالواھاب محدث ہندؒ نے جہاں دینی تبلیغی تعلیمی میدان میں شبانہ روز جدوجہدکی وہیں تحریک آزادی اور دو قومی نظریہ کے تحفظ وبقا کے لیے بھی کوئی دقیقہ فروگزشت نہیں کیا۔ بانی جماعت کے پاکیزہ مشن کو بعد ازاں آپ کے جانشین فرزندوں بالخصوص مولانا عبدالستار محدث دہلوی ؒ نے آپ کی وفات کے بعد جاری وساری رکھا۔
جماعت غربااہلحدیث کے امیر ثانی مولانا عبدالستارؒ کی امارت میں جماعت روز افروز ترقی کررہی تھی کہ تقسیم ہند کا واقعہ رونما ہوا اور ہر طرف آگ وخون کا ہو لناک کھیل شروع ہوگیا۔ دہلی جو علم وعرفان کا گہوارہ تھا راکھ کا ڈھیر بنادیا گیا ہر طرف سوختہ لاشیں اور جلے ہوئے کھڈرات تھے ہندو بلوائیوں نے جوہندو مسلم ایکتا کے نعرے لگائے تھے مسلمانو ں کے خون سے ہولی کھیلنی شروع کردی ہرطرف خوف وہراس اور سراسیمگی کا عالم تھا اور نئے وطن کے قیام کی خوشی بھی تھی لہٰذامولانا عبدالستار محدث دہلویؒ نے ہجرت کاارادہ کیا اور وہ پاکستان تشریف لے آئے اس طرح جہاں ملک تقسیم ہوا وہیں جماعت بھی دوحصوں میں تقسیم ہوگئی مولانا عبدالواحد سلفیؒ ہندوستان کے امیر مقرر ہوے اورمولانا عبدالستار محدث دہلویؒ پاکستان کے امیر منتخب ہوگئے۔ پاکستان آمد کے بعد نئے وطن میں جماعت کو انتہائی نامساعد حالات کا سامناکرنا پڑا مرکز کا قیام اور جماعت کی شیرازہ بندی ایسے امور تھے جو فوری اقدامات کے متقاضی تھے مولانا عبدالستارؒ اور اراکین جماعت نے بڑی پامردی سے ان حالات کامقابلہ کیا اوربولٹن مارکیٹ پرمسجد کی جگہ مرکز کے قیام کی غرض سے حاصل کرلی لیکن بعداز اں اس پر غاصبانہ قبضہ کے بعد موجودہ جامع مسجد محمدی اہل حدیث مرکز برنس روڈ پر قائم کیا گیا جگہ انتہائی ناکافی تھی جس کے لیے احباب جماعت نے اپنی جگہیں مسجد کے لیے دے دیں اورخودقرب وجوار میں دیگر مقامات پر منتقل ہوگے اس طرح مسجد کی کسی حدتک توسیع ہوگئی جوآج پھر مزید تعمیر توسیع کی متقاضی ہے۔ امیر جماعت اور ارکین جماعت نے پر آشوب دور میں نئے سرے سے جماعت سازی کی اور اخوان جماعت کو تنکاتنکا کرکے جمع کیا اور کراچی کے علاوہ اندورن سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلو چستان، آزادکشمیر، گلگت بلتستان وغیرہ میں علما واخوان کو نظم جماعت میں پرویا اسی طرح جماعت غرباہلحدیث نئے عزم وحوصلے سے عازم سفر ہوی امیر جماعت مولاناعبدالستارؒ کی قیادت میں تنظیم سازی کے ساتھ ساتھ تعلیمی وتبلیغی ضروریات کے تحت جماعت کے مرکز میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ دارالسلام قائم ہواجہاں سے ہزاروں علما وفضلا تیار ہوے جنہوں نے مختلف شعبہ ہاے زندگی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ دعوت وتبلیغ کے میدان میں ان علما نے انتہائی جانفشانی کامظاہرہ کرتے ہوے دوردراز مقامات تک جاکر خالص قرآن وحدیث کاپیغام پہنچایا اس دوران کراچی وبیرون شہر مساجد ومدارس کے قیام کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا جو بحمدللہ آج تک جاری وساری ہے۔
موجودہ امیر جماعت حضرت مولاناحافظ عبدالرحمن سلفی حفظ اللہ تعالیٰ کے دور میں جماعت نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور تمام ادارے جماعت کے تحت فروغ دین میں مصرف کارہیں بحمدللہ 30۔29دسمبر 2018کو جماعت کے تحت 74 ویں سالانہ قرآن وحدیث کانفرنس منعقد ہوئی ہے یہ کانفرنس جہاں دعوت وتبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے جس میں ملک بھر سے علما ووفود نے شرکت کی وہیں ملک بھر سے ذمے داران جماعت تشریف لائے اور مر کز میں اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے۔ نیز یہ کانفرنس ہزاروں توحیدپرستوں کا نمائند اجتماع کہلاتاہے چونکہ یہ اجتماع ہرقسم کی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر محض اعلاے کلمتہ الحق کے جذبوں کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اس موقع پر امیر جماعت حضرت مولاناحافظ عبدالرحمن سلفی حفظ اللہ مرکزی قائدین منتظمین کو ہدیہ تبرک پیش کرتے ہیں کانفرنس کے اختتام پر 31دسمبر کو ملک بھر سے آئے ہوئے علما امرا ذمے داران کا اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ جس سے حضرت الامیر خصوصی خطاب کریں گے۔ بلاشبہ اس کانفرنس کا انعقاد غیر سیاسی سطح پر محض دعوت وتبلیغ کے جذبو ں سے سرشار حاملین کتاب وسنت کا انتہائی منظم ومربوط اجتماع ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔