2019ء غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا سال قرار دیا جائے

248

دنیا کی سب سے بڑی ضرورت ’’امن‘‘ ہے۔ غربت، افلاس اور جہالت سمیت تمام خرابیوں اور برائیوں کے خاتمے کے لیے کوششوں کا ہونا بھی ضروری ہے، تاہم جب تک لوگوں کی آزادی محفوظ اور امن موجود نہیں ہوگا تب تک ہر طرح کی ترقی، امداد اور تعاون کے وعدے سب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے کیوں کہ جہاں ملٹری آپریشنز ہورہے ہوں، جہاز بمباری کررہے ہوں، ٹینک آبادیوں پر چڑھائے جارہے ہوں، آبروریزی اور قتل ہورہے ہوں، نقل مکانی اور ہجرت ہورہی ہو وہاں پر وعظ و نصیحت کرنے، امن کا درس دینے یا کسی بھی طرح کی کامیابی حاصل کرلینے کا کوئی موقع اور ماحول نہیں ہوگا۔
اقوام متحدہ کے 193 ممالک کو اپنی آنکھیں کھول کر ایک بار پھر اس اجڑی ہوئی دنیا پر نظر ڈالنی چاہیے کہ جہاں پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک میں یکساں ایک ہی طرح کے خوف میں انسان مبتلا ہیں کہ ابھی کچھ ہونے والا ہے یا ہوجائے گا۔ سیکورٹی اور دہشت گردی کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا مقابلہ اور تصادم شروع ہوچکا ہے کہ جس میں کسی بھی وقت کسی بھی ملک کا شہری زد میں آسکتا ہے۔ ہم صدیوں کی بات نہیں کررہے صرف 2018ء کی بات کررہے ہیں۔ اس گزرے سال میں محکوم اور مظلوم عوام کے ساتھ دنیا بھر میں جہاں جہاں جو ظلم و ستم ہوتے رہے کیا اُن کا یہ تقاضا نہیں کہ ’’2019‘‘ میں ایسے فیصلے اور اقدامات کیے جائیں کہ دنیا ’’امن‘‘ کا گہوارہ بننے کی طرف چل پڑے۔ مظلوم کی داد رسی ہو، محکوم کو آزادی مل جائے، مقتول کے ورثا کو اطمینان ہوجائے، مہاجر کو واپس وطن مل جائے، بے گھر کو گھر مل جائے، بے گناہ قیدی کو آزادی مل جائے، مزاحمت کرنے والوں کا ہدف ختم ہوجائے، مسلح جدوجہد کا کوئی جواز باقی نہ رہے، غلام قوموں کے طوق اُتار دیے جائیں۔ ہتھکڑیاں کھول دی جائیں، نہتے شہریوں کے سینوں پر تانی ہوئی سنگین ہٹالی جائیں، بچے اپنی ماؤں کی گود میں واپس لوٹا دیے جائیں، عورتوں کی عزت اور بوڑھوں کا بڑھاپا محفوظ ہوجائے اور مزید یہ کہ نوجوان اپنے مستقبل سے پُرامید ہوجائیں۔ مسائل اور وسائل کی تکرار ختم ہوجائے۔ تعصب اور الزامات دم توڑ جائیں، باہمی احترام کی حوصلہ افزائی ہو اور ہر کوئی اپنے فرض اور ذمے داری کی طرف لوٹ جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا سب کچھ ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ دنیا کا موجودہ منظر ترقی اور امن سے کہیں زیادہ بدامنی اور دہشت کی عکاسی کررہا ہے، کسی بھی وقت کہیں کچھ ہوسکتا ہے کہ خطرات اور خدشات کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ انصاف اور غیر جانبداری پر مبنی جرأت مندانہ فیصلے کیے جائیں جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے فائدے مند ہوں، اس طرح کے ممکنہ فیصلوں میں سرفہرست یہ ہونا چاہیے کہ جن آزاد ممالک میں غیر ملکی فوجیں داخلی ہیں اور مزید یہ کہ آزادی کا استحقاق رکھنے والی جن اقوام پر غیر ملکی فوجیں قابض اور مسلط ہیں، ان سب کے فوری انخلا کا بندوبست ہونا چاہیے، آزاد ممالک کی آزادی اور محکوم اقوام کے حق خودارادیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی موجودگی، مداخلت اور جارحیت کو ہر صورت روکا جائے۔ جس کے لیے پہلے مرحلے پر مقبوضہ بیت المقدس و فلسطین، مقبوضہ کشمیر، شام، عراق، یمن اور افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے معاملے کو زیر غور لایا جائے۔
ایسا کچھ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو کردار ادا کرنا چاہیے، سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے حامل ممالک درحقیقت عالمی تنازعات کا سبب ہیں۔ لہٰذا جنرل اسمبلی کے معزز ارکان اور عالمی قیادت میں موجود انصاف پسند حکمران اگر اپنا بھرپور کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ 2019ء غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا سال ثابت نہ ہوسکے۔ اس حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھی آگے آنا چاہیے جب کہ تمام مذاہب کے علما کو بھی اپنا مثبت اور جرأت مندانہ کردار ادا کرنا چاہیے کیوں کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب خدا کے وجود سے انکار نہیں کرتا اور ہر مذہب کی تعلیم میں خدا وند عالم انسان اور انسانیت کے احترام کا حکم دیتا ہے۔ اُمید ہے کہ ترقی یافتہ اور مہذب دنیا کی دعوے دار عالمی قیادت اور عالمی ادارے غلام، محکوم اور جارحیت کے شکار عوام کو غیر ملکی فوجوں کے ظلم و درندگی سے محفوظ رکھنے اور نجات دلانے کے لیے فوری متوجہ ہوں گے اور اس احساس کے ساتھ اپنے ماضی کے فیصلوں اور اقدامات پر نظرثانی کریں گے کہ یہ دنیا خدا کی ہے اور ہم سب کو ایک روز اس ایک خدا کے حضور پیش ہونا ہے جہاں ہر ظلم کا بدلہ اور نیکی کا اجر چکا دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ 2019ء ظالم اور جارح فوجوں کی شکست اور انخلا کا سال ہو۔ آمین ثم آمین۔