قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

118

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اْس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اْ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناًمیرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اے صالحؑ ، اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے‘‘۔ (سورۂ ہود: آیت 61تا62)

سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو فرماتے۔ ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزا وار ہے جس نے ہمیں کھانے کو دیا۔ ہمیں پہننے کو دیا اور ہمیں مسلمان بنایا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) اور سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔ (ترمذی) ابن ماجہ اور دارمی نے اس روایت کو سنان بن سنہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے۔ تشریح: ادائیگی شکر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور صابر روزہ دار ہونے کا ادنیٰ درجہ یہ کہ اپنے آپ کو مفسدات صوم سے باز رکھے۔