بنگلادیش میں بھارت نواز لیڈر حسینہ واجد نے انتخابات کو خونیں بنادیا،18 ہلاک سینکڑوں زخمی

267

ڈھاکا(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش میں بھارت نواز لیڈی کلر حسینہ واجد نے عام انتخابات کو خونی بنادیا، پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار سمیت18افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔صرف چٹا گانگ میں 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مختلف شہروں میں موبائل فون ، انٹرنیٹ سروس اورنجی چینل کی نشریات بھی بند کردی گئی اور 7 صحافیوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ حکمران جماعت عوامی لیگ نے 300نشستوں میں سے 200پر کامیابی کا دعویٰ کردیا ہے ۔عالمی مبصرین کو بنگلا دیش میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ملک بھر میں فوج سمیت6 لاکھ اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق رائے دہی کے عمل کے دوران تصادم کے کئی واقعات رونما ہوئے،پولیس اور فوج نے اپوزیشن پر تشدد میں براہ راست حصہ لیا اورہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ پولنگ کے چند گھنٹوں بعد ہی اپوزیشن نے انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق 30 دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں پولنگ کے دوران اپوزیشن کے حامیوں کو دھمکیوں اور حکمراں جماعت عوامی لیگ پارٹی کو ووٹ دینے پر مجبور کرنے کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔بی بی سی کے مطابق ووٹنگ سے تھوڑی دیر قبل چٹاگانگ میں بیلٹ باکس کو ووٹوں سے بھرا ہوا پایا۔ جب اس پریزائڈنگ افسر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔بی بی سی کے مطابق ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے اس پولنگ اسٹیشن پر صرف سرکاری پارٹی کے نمائندے تھے اور یہی حال کئی دوسرے پولنگ ا سٹیشنوں کا تھا۔واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے آئین میں ترمیم کرکے الیکشن سے قبل غیر جانبدار حکومت کے قیام کو بھی ختم کردیا الیکشن موجودہ حکمران جماعت ہی کی زیر نگرانی منعقد ہوئے جس میں تشدد، فوجی مداخلت اور بین الاقوامی مبصرین کو نہ آنے دینے نے الیکشن کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔عالمی میڈیا الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا رہاہے۔شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے 300 میں سے 200 نشستیں پر کامیابی کا دعویٰ کردیا ہے جب کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے نتائج کو مسترد کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے لیے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے،انتخابات میں مجموعی طور پر57 امیدواروں نے بائیکاٹ بھی کیا ہے۔یاد رہے کہ اپوزیشن اتحادکے تمام اہم رہنما بشمول خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کی پوری قیادت جیل میں ہے۔