پاکستان اور قطر تجارت ،تعلیم ،سفری سہولیات کے فروغ پر متفق

119

اسلام آباد/ دوحا ( نمائندہ جسارت+ صباح نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک روزہ دورہ قطر کے دوران وزیر اعظم اور ہم منصب سے ملاقات کی۔شاہ محمود قریشی نے قطر کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ بن نصر بن خلیفہ الثانی سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات، سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قطر کے وزیر اعظم نے کہا کہ قطر کی عوام پاکستانی عوام کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر اعتماد رکھتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قطر پاکستان کا قابل اعتبار دوست ملک ہے اور دونوں ممالک کے مابین باہمی روابط تیزی سے فروغ پا رہے ہیں جو کہ انتہائی خوش آئند ہے،گزشتہ سال کے دوران قطر کے ساتھ پاکستان کے تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2022ء میں قطر میں ہونے والے آئندہ عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں ہر سطح پر اس کی مکمل حمایت کرے گا۔ قطری وزیر اعظم نے دوطرفہ تجارت، تعلیم اور سفری سہولیات کے حوالے سے تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے بھی ملاقات کے دوران دوطرفہ باہمی تعلقات، روابط میں فروغ سمیت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔قطری وزیر خارجہ نے قطر میں موجود پاکستانی محنت کش طبقے کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم جلد مزید پاکستانیوں کو قطر میں ملازمت کے مواقع مہیا کریں گے۔قطر روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دورہ قطر کا مقصد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سمیت افغانی مفاہمتی عمل میں قطری قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں جن سے قطری سرمایہ کار بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم ممالک کے ساتھ روابط کا فروغ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔رواں ہفتے وزیر خارجہ تین ملکی، چار روزہ دورے پر کابل، تہران، بیجنگ اور ماسکو گئے تھے جہاں ان کی کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں تھیں۔وزیر خارجہ قطر روانگی کے لیے بغیر پروٹوکول نیو اسلام آباد ائرپورٹ پہنچے جہاں انہوں نے بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے لیے عام مسافروں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر بورڈنگ پاس حاصل کیا۔شاہ محمود قریشی کے عام مسافروں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہونے پر شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیر خارجہ کے ہمراہ سیلفیاں بھی بنوائیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ حکمران اگر اپنے شاہی خرچے ختم کر دیں اور عام عوام کے درمیان رہیں تو اس ملک میں تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔