ان ہاؤس تبدیلی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا ساتھ دیں گے،جے یو آئی ،پختونخوا ملی عوامی ملی پارٹی

97

کوئٹہ( آن لائن)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن آج ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد 14 جنوری کو سینیٹ انتخابات میں بھی متفقہ امیدوار لائیں گے،موجودہ وفاقی حکومت احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کررہی ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے وفاقی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں ان ہاؤس تبدیلی لائے تو جمعیت علمائے اسلام (ف)، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی ان کا بھرپور ساتھ دے گی،بلوچستان کی سابق حکومت گرانے میں اسٹیبلشمنٹ کا بڑا ہاتھ تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکن صوبائی اسمبلی اصغرخان ترین کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ پی بی26کوئٹہ کے ضمنی انتخابات میں پشتونخواملی عوامی پارٹی،مسلم لیگ(ن)،نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے اپنے امیدوار دستبردار کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانے والے اداروں سے کہتا ہوں کہ ماضی میں آپ کا کردار مناسب نہیں رہا،جمہوریت کے تسلسل کی خاطر ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، حلقہ پی بی26کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، ماضی میں ہم نے دیکھا جن پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا جاتا ہے دھاندلی وہیں ہوتی ہے ،عام انتخابات ہماری نظر میں انتخابات نہیں تھے،منصوبے کے تحت قومی قیادت کو ہرایا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے دعوے تھے کہ بڑے بڑے منصوبے100روز میں مکمل کیے جائیں گے، 100روزمیں ڈالر کی قیمتیں آ سمان پر گئیں جب کہ مہنگائی کا ایک نیاطوفان آیا اور اب کہتے ہیں صبر کریں سب ٹھیک ہوجائے گا ،یہ ایڈہاک ازم ہے ایسے ریاستیں نہیں چلتیں ،ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،کہا گیا ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، یوٹیلیٹی اسٹورز،میڈیا ورکرز سمیت دیگر لوگوں کو بے روزگار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ50لاکھ گھر بنانے والوں نے ہزاروں لوگوں کے گھر گرادیے، یہ ڈیم بنانے کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں،گزشتہ حکومت نے ڈیم کے لیے100ارب خرچ کیے،اب تک 7 ارب روپے چندہ اکٹھا ہوا ہے، تشہیر پر10ارب لگائے،بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی، جس کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا وہ اس مقدمے میں بری ہوگئے جس کیس میں سزا نہیں ہوئی تھی اس کیس میں نواز شریف کو سزا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگئی، موجودہ حکومت نے احتساب کے نام پر جو ڈراما رچایا ہے وہ صرف اور صرف اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہے،ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں مگر احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے،وفاق میں اپوزیشن جماعتیں اس پوزیشن میں ہیں کہ ان ہاؤس تبدیلی لائیں۔عثمان کاکڑ نے کہا کہ احتساب کے نام پر صرف اور صرف اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ملک میں احتساب نہیں بلکہ انتقام کی سیاست کی جارہی ہے،بلوچستان سابقہ حکومت گرانے میں اسٹیلشمنٹ کا کردار تھا ۔