امریکا سے دوستی گھاٹے کا سودا

250

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو بہت جلد بتا چل گیا کہ امریکا سے دوستی گھاٹے کاسودا ہے۔پاکستان تو کئی عشروں سے گھاٹا کھارہاہے۔ امریکی فطرت سے واقف اہل دانش و بنیش کب سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حکمران ماننے پر تیار ہی نہیں تھے ۔ اس کے باوجود فوج کے ترجمان نے امریکا سے دوستی رکھنے کا عندیہ دیاہے۔ ادھر امریکا ہے کہ افغانستان میں بد ترین ہزیمت کے بعد پاکستان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی دھمکیاں دے رہاہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اب امریکا سے جو بھی شراکت داری ہوگی وہ اپنے مفاد میں کریں گے۔ یعنی اب تک ہر قسم کی شراکت داری امریکا کے مفاد میں تھی۔ اور یہ کہ امریکا سے شراکت داری ضرور ہوگی۔ اسے اپنے مفاد میں کرنے کے لیے کیا تدبیر کی جائے گی۔ امریکا تو بہر حال اپنا مفاد حاصل کرہی لیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا سے شراکت داری میں پاکستان کا فائدہ ہے۔ مسٹر ٹرمپ اب یہ فائدے اٹھاکر بھارت لے گئے ہیں پاکستان کو جانی و مالی نقصان ہی پہنچا ہے۔ بھارت اور امریکا میں کئی چیزیں مشترک ہیں مثلادونوں ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں دونوں ہی نسل پرستی اور جارحانہ قوم پرستی میں مبتلا ہیں۔ امریکا کو فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم نظر نہیں آتے اور بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی پیروی کررہاہے بلکہ اپنے مسلمان شہریوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کررہاہے۔ مقبوضہ بیت المقدص کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر ٹرمپ نے مسلم دشمنی کا انتہا کردی ہے۔ ایسے کھلے دشمن سے تو کسی بھی قسم کی شراکت داری نہیں ہونی چاہیے