14 سالہ فلسطینی بچی 8 ماہ بعد اسرائیلی جیل سے رہا

245

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک)فلسطین کی 14 سالہ بچی ملاک غیظ کو اسرائیلی حکام نے مسلسل 8 ماہ تک پابند سلاسل رکھنے کے بعد گزشتہ روز رہا کردیا۔فلسطینی ذرائع ابلاغکے مطابق رہائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملاک غلیظ نے کہا کہ اسے اسرائیلی زندان سے رہائی پر خوشی ہے مگر اس کی خوشی نامکمل اور ادھوری ہے ۔ جب تک اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل تمام فلسطینی خواتین کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس کی خوشی مکمل نہیں ہوگی۔اس کا کہنا تھا کہ اسے اسرائیل کی ہشارون جیل میں قید رکھا گیا جہاں درجنوں خواتینقیدہیں۔ صہیونی فوجی اسے ہشارون جیل سے شمالی طولکرم میں قائم جبارہ چیک پوسٹ پر لائے جہاں سے اسے رہا کردیا گیا۔جیل میں خواتین قیدیوں کے حالات پر بات کرتے ہوئے کم سن فلسطینی اسیرہ کا کہنا تھا اسرائیلی زندانوں میں قید خواتین کے بنیادی حقوقپاما ل کیے جاہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملاک غلیظ کو اسرائیلی فوج نے 26 مئی کو رام اللہ کے شمال میں قائم جلزون کی پناہ گاہ سے حراست میں لیاتھا۔فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مطابق صہیونی زندانوں میں اب بھی 59 فلسطینی قید ہیں جنہیں دامون اور ہشارون جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔