فلسطینی قصبہ 5 برس کے دوران 123 ویں مرتبہ مسمار

217

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک)گزشتہ 5 سال سے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا نشانہ بننے والاعراقیب گاؤں 123 ویں مرتبہ مسمار کردیا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج، پولیس اور اسپیشل فورسز کے سیکڑوں اہل کاروں نے بھاری مشینری اور بلڈوزرز کی مدد سے شہریوں کے مکانات کی مسماری شروع کی ور سیکڑوں فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر سخت موسم کے باوجود ان کی کچی جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا گیا۔ اسرائیل جنوبی فلسطین کے ان عرب دیہاتوں کے باشندوں کو صدیوں سے وہاں قیام پذیر ہونے کے باوجود غیر ریاستی باشندے قرار دے کروہاں سے نکالنا اوران کی املاک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ اگرچہ یہ سلسلہ 1948ء کے بعد سے مسلسل جاری ہے مگر حالیہ چند برسوں سے جزیرہ نمانقب کے علاقوں میں صہیونی جارحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ عراقیب جزیرہ نمانقب کی ان 51 بستیوں میں سے ایک ہے جنہیں صہیونی حکومت نے غیرقانونی قرار دے رکھا ہے اور وہاں پر رہنے والوں کے کچے مکانات اور جھونپڑیاں آئے روز مسمار کی جاتی ہیں۔ مجموعی طورپر جزیرہ نقب میں ڈیڑھ لاکھ فلسطینی عرب بدو آباد ہیں۔ یہ جزیرہ کل فلسطینی رقبے کا 40 فی صد ہے جس کا کل رقبہ 12 ہزار 577 مربع کلو میٹر ہے اور اس میں 2 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیل اس جزیرے کی فلسطینی آبادی کو آٹھ دیہاتوں تک محدود کرنے کے لیے کوشاں ہے۔