ہر سال 5 ہزار 400 بچے معذور پیدا ہوتے ہیں،ڈاکٹرامین چنائے 

177

کراچی (اسٹاف رپورٹر) انڈس اسپتال کورنگی (ٹی آئی ایچ) میں ’’کلب فٹ سے جیت کا جشن‘‘ نامی پروگرام منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام کلب فٹ سے متاثرہ بچوں کے چار سالہ علاج کے کام یابی سے مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کیا گیا تھا۔ ٹی آئی ایچ نے2011ء میں ’’پہلاقدم‘‘ نامی پروگرام کا آغاز کیا ۔ یہ پروگرام یونی ورسٹی آف آئیوٹا، یو ایس اے کے پونسیٹی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی معاونت سے کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان سے کلب فٹ کا خاتمہ کرنا ہے۔ پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے
ٹی آئی ایچ کے فزیکل اینڈ ری ہیبی لیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ڈاکٹر امین چنائے نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان میں قریباً 5,400 بچے کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم بچوں کا درست علاج ہو پاتا ہے، یہ ایک پیدائشی نقص ہے جس میں ایک یا دونوں پاؤں اندر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پاؤں کی حرکت تکلیف دہ ہوجاتی ہے اگر بچے کا بر وقت علاج شروع کر دیا جائے تو کلب فٹ بغیر کسی آپریشن کے مکمل طور پر درست ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام میں اب تک 900 بچے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، اس سال 53 بچوں کا علاج کام یابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ شفا یاب بچوں کے چلنے کی خوشی میں اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں موجودہ اور پرانے مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران مریضوں کے والدین نے ڈاکٹروں، فزیو تھیراپسٹس اور دیگر عملے کی کوششوں اور خلوص کو سراہا۔ یہ کلب فٹ سے متاثرہ بچوں کا دوسرا گروپ ہے جس نے چار سالہ مفت علاج کام یابی سے مکمل کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور ڈاکٹر امین چنائے نے ابتدائی کلمات ادا کیے۔ بچے اور ان کے والدین علاج مکمل ہونے پر بہت خوش، مطمئن اور انڈس اسپتال کے مشکور تھے۔واضح رہے کہ 2007ء میں 150 بستروں پر مشتمل انڈس اسپتال نے کام کا آغاز کیا۔ انڈس اسپتال ٹرشری سطح کی بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے والااسپتال ہے جو تمام مریضوں کو بلا تفریق مفت علاج فراہم کر رہا ہے۔ اسپتال میں بستروں کی تعداد اب 300 ہوچکی ہے جب کہ 2024ء میں توسیع کے بعد یہ تعداد 1800 ہو جائے گی۔ اسپتال میں ماہانہ ایک لاکھ 45ہزار لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اسپتال کے تمام تر اخراجات زکوٰۃ، صدقات اور عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں۔