اسرائیل پر کیری کی تنقید کے جواب میں برطانوی وزیر اعظم سیخ پا

148

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس بیان پر تنقید کی ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی حکومت کو ’اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی سخت گیر دائیں بازو‘کی حکومت قرار دیا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے ترجمان نے کہا کہ جمہوری طور پرمنتخب سیاسی جماعتوں کے کسی بھی حکومتی اتحاد کو نشانہ بنانا مناسب نہیں تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اس کے حکمراں اتحاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کے عناصر مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی ان ہی پالیسیوں سے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا دو ریاستی حل شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتا ہے ۔ خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی حالیہ قرار داد پر ہونے والی رائے شماری میں امریکی عدم شرکت کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ قدم امریکی اقدار کے عین مطابق تھا۔ اس قرارداد میں مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں بسانے کے اسرائیل کے فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے ۔ سیکورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت برطانیہ نے بھی کی تھی اور اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے جان کیری کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ مشرق وسطی میں دیر پا امن دو ریاستی حل سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن ترجمان نے کہا کہ بسیتاں بسانا ہی اس تنازع کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ اسی لیے ہم اس بات کو نہیں مانتے ہیں کہ امن کے لیے مذاکرات میں صرف ایک مسئلے پر توجہ دی جانے چاہیے ، جو اس معاملے میں نئی یہودیوں بستیوں کی تعمیر ہے ، جبکہ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کس قدر گہرا اور پیچیدہ ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بات پر بھی یقین نہیں رکھتے کہ کسی بھی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے کسی اتحادی کو نشانہ بنایا جائے ۔
کیری / تھریسامے