چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پاکستانی عوام کے نام جاری کردہ کھلے خط میں قومی احتساب بیورو پر عدم اطمینان کا اظہار

186

اسلام آباد (آئی این پی) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پاکستانی عوام کے نام جاری کردہ کھلے خط میں قومی احتساب بیورو پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کے لیے فیڈرل کمیشن برائے احتساب ’’ ایک قانون، ایک اتھارٹی‘‘کے نام سے ایک نئے اور بڑے ادارے کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتسابی نظام پر بنیادی طور پر نظرثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے اس لیے ایک ایسا کمیشن قائم ہو جس میں عدالت عظمیٰ کا ایک حاضر سروس جج،مسلح افواج سے لیفٹیننٹ جنرل رینک کا ایک
افسر، سول سروسز کا 22گریڈ کا ایک افسر، پولیس اور سول آرمڈ فورسز کا ایک افسر ، بار ایسوسی ایشنز، انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں اور پروفیشنلز میں سے ایک ایک رکن،پارلیمنٹ کے4 اراکین جو دونوں ایوانوں سے مساوی تعداد میں ہوں، چیئرمین کا انتخاب کمیشن کے اراکین کریں، عہدے کی مدت 3 سال ہو، کمیشن کے فرائض میں نیب کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد کی تحقیقات اور تفتیش کرنا شامل ہو جبکہ تحقیقات کا عمل روکنے اور ریفرنس درج کرنے اورکیس کی موصولی کے30 روز کے اندر اس ریفرنس سے متعلق ابتدائی فیصلہ نیب کرے ، ناکامی کی صورت میں یہ تصور کیا جائے کہ مذکورہ مقدمہ کمیشن کو منتقل ہو گیا ہے، کمیشن 30 دنوں کے اندر اس کے سامنے پیش کیے گئے معاملات سے متعلق فیصلہ کرے گا اور اگر کمیشن اس سلسلے میں ناکام رہے تو یہ تصور ہو گا کہ نیب کی سفارش عمل میں آ چکی ہے، چیئرمین قومی احتساب بیورو کا تقرر کمیشن کرے گا،نیب کے صوبائی اداروں کے سربراہان کا تقرر چیئرمین نیب کرینگے جس کی توثیق کمیشن کرے گا،نیب اس کمیشن کی زیرنگرانی ہو اور تحقیقات کے سلسلے میں مکمل آزاد اور خودمختار ادارہ ہو، بدعنوانی کے مقدمات میں ایف آئی اے کا کردار ختم کر دیا جائے ، نیب اہلکاروں کے اثاثہ جات کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ تفصیلات جانچ پڑتال کے لیے کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں گی اور منظرعام پر بھی لائی جائیں گی،کمیشن کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جائے گی، احتساب کے دیگر متوازی ادارے تحلیل کر دیے جائیں، عدلیہ، مسلح افواج اور سرکاری اداروں کے ملازمین کے حوالے سے انضباطی کارروائی اور دیگر معاملات سے متعلق ادارے اپنا کام جاری رکھیں، تاہم احتساب کرنا صرف کمیشن کا دائرہ اختیار ہو گا،کمیشن کو سرکاری عہدیدار، وفاق اور صوبوں سے سروس آف پاکستان کے افسران و افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار حاٖصل ہو،عدلیہ میں کرپشن اور بدعنوانی کی سرگرمیوں کے مقدمات پر کمیشن جبکہ دیگر معاملات پر سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرے ، مسلح افواج میں کرپشن اور بدعنوانی کی سرگرمیوں کے مقدمات پر کمیشن جبکہ دیگر معاملات پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہو،کیونکہ احتسابی ادارے حکومت کی مرضی اور دباؤکے تحت کام کر رہے ہیں اور سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، ان اداروں کے اندر احتساب کا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں لامحدود اختیارات حاصل ہیں، عوام میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ نیب صرف چھوٹے ملزموں کو پکڑ کر جیل بھیجتا ہے ۔ جمعہ کو چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پاکستانی عوام کے نام کھلا خط لکھ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں روایات سے ذرا ہٹ کر اس تحریر کے ذریعے آپکو اپنے خیالات سے آگاہ کررہا ہوں کیونکہ میرے موجودہ منصب کا تقاضا ہے کہ میں غیر جانبدار رہوں اور کسی سیاسی جماعت کے توسط سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کروں،ایسا کرنا اس حوالے سے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ احتساب کا موجودہ نظام بدعنوانی اور کرپشن کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے جس سے ہمارے جمہوری نظام کی بقا اور معاشرے کی ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں احتساب کا یہ نظام اس حد تک ناکام اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے کہ اب چھوٹی موٹی تبدیلیوں سے اس کی بحالی ناممکن ہو گئی ہے۔