,)وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خانپاناما لیکس پر نہ صرف وزیراعظم بلکہ ان کا پورا خاندان جوابدہ ہے اور وہ عدالت عظمیٰ میں جواب دے رہے ہیں

113

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاناما لیکس پر نہ صرف وزیراعظم بلکہ ان کا پورا خاندان جوابدہ ہے اور وہ عدالت عظمیٰ میں جواب دے رہے ہیں،2سینئر ترین سیاست دان اداروں کی تضحیک کررہے ہیں،گزشتہ حکومتوں نے دیدہ دلیری سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ غیر ملکیوں کو دیے، پاکستانی شہریت بیچنے والوں کی نادرا میں کوئی گنجائش نہیں، بلاک شناختی کارڈ کی بحالی کا میکنزم تیار کرلیا،مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش آئی تھی ،خانانی اینڈ کالیا کیس کا بیشتر ریکارڈ ضائع کیا جاچکا ہے،عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے تقرر میں حکومت کاعمل دخل نہیں،کرپشن کیخلاف اور کراچی میں رینجرز آپریشن جاری رہے گا،آصف زرداری ،بلاول اور ایان علی پرتبصرے کے لیے میں مناسب آدمی نہیں ہوں۔وہ جمعہ کونادرا ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جعلی شناختی کارڈز کے معاملے پر بہت توجہ دی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے تقریباً 500 شناختی کارڈ اور صرف چند پاسپورٹ منسوخ کیے جبکہ گزشتہ حکومتوں خاص طور پر پرویز مشرف دور میں دیدہ
دلیری سے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز اور پاسپورٹ دیے گئے۔ چودھری نثار علی خان نے کہاکہ گزشتہ دور میں پاکستانی پاسپورٹ انسانی اسمگلنگ میں بھی استعمال کیے گئے۔ بیرون ملک دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے وہ افراد پاکستانی نہیں تھے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ 90 دن کے اندر 9 کروڑ 50 لاکھ غیر قانونی سمز بند کی گئیں۔ کہا گیا کہ شناختی کارڈز کی تصدیق ایک نا ممکن عمل ہے مگر نادرا کے فرض شناس عملے اور افسروں نے شناختی کارڈز کی تصدیق کے لیے دن رات کام کیا اور نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2011ء سے پہلے شناختی کارڈز کی تصدیق کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ 2011ء میں 26 اور 2012 ء میں 93 شناختی کارڈز منسوخ کیے گئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 86 ہزار 380 جعلی شناختی کارڈز کی نشاندہی ہوئی۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ تصدیق کے دوران ساڑھے 4 لاکھ شناختی کارڈز منسوخ کیے گئے اور غیر ملکیوں کو جاری کیے گئے 32 ہزار سے زائد پاسپورٹ منسوخ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ ہماری سلامتی اور قو می وقار کا مسئلہ ہے۔ 18 رکنی پارلیمانی کمیٹی معاملے کا جائزہ لے گی اور نادرا ہر مہینے رپورٹ دے گا۔ جن پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈز بلاک ہوئے ہیں وہ جلد بحال ہو ں گے۔ چودھری نثار نے کہاکہ 1978ء سے قبل اراضی کا ریکارڈ یا سرکاری ملازمت کا ثبوت دینے پر کارڈ بحال ہو گا۔ 1978 ء سے پہلے کے پاسپورٹ اور تعلیمی اسناد پر بھی شناختی کارڈز بحال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شہریت بیچنے والوں کی نادرا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ملا اختر منصور کا شناختی کارڈ 2005ء میں بنایا گیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں صحیح طریقے سے کام کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے،طالبان کمانڈرملامنصور کو جاری قومی شناختی کارڈ کے باعث اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے پاکستان پر دباؤ آرہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ خانانی اینڈ کالیا کیس کا بیشتر ریکارڈ ضائع کیا جا چکا ہے۔ سیاست کے نام پر کھچڑی پکائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں بچی پر تشدد کا کیس ہمارے نوٹس میں ہے۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے سوشل میڈیا پرجعلی تصاویر جاری کی گئیں۔ یہ سیاست نہیں ملکی اداروں کے ساتھ تماشا کیا گیا۔ و زیر داخلہ نے کہا کہ چیف جسٹس کے تقرر میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی جج کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ جج کسی کا بھائی اور رشتے دار نہیں ہوتا۔ سینئر لوگوں اور اہم اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں چودھری نثار نے کہا کہ بلاول ‘ آصف زرداری اور ایان علی پر تبصرہ کرنے کے لیے میں مناسب آدمی نہیں ہوں۔ یوسف رضا گیلانی کو 7 رکنی بینچ نے نااہل قرار دیا تھا۔ مجھ پر الزام لگانے والے آج نئے لہجے میں بولتے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف سے سینئر سولجر کی فیملی کا (ن) لیگ سے تعلق ہے۔ اگر ہمیں فیور لینی ہوتی تو ہم ان کو لے آتے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی پر ذاتی حملے نہیں کروں گا۔