جماعت اسلامی ضلع جنوبی کا حلب اور برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف احتجاج

160

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے زیر اہتمام شام اور برما کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا،مختلف علاقوں میں مساجد کے باہراحتجاجی مظاہرے کیے گئے،تصویری نمائشوں کا انعقاد کیا (باقی صفحہ 9 نمبر 47)
گیااور کارنرز میٹنگزکی گئیں، ائمہ مساجد اور علما کرام کو امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا خط پہنچایا گیا جس میں ان سے اپیل کی گئی کہ وہ جمعہ کے خطبے میں برما اور شام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کریں،گارڈن ،موسیٰ لین، بہار کالونی ، آگرہ تاج ، لیاری، گزدرآباد،صدر، برنس روڈ، بزرٹا لائن،تین تلوار،پنجاب چورنگی،گزری، ڈیفنس، کلفٹن، شیریں جناح کالونی،سٹی ریلوے کالونی، بلوچ کالونی، کالاپل،اخترکالونی، محمود آباد، منظور کالونی، اعظم بستی سمیت دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر شام اور برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور اقوام متحدہ کے خلاف نعرے درج تھے، اس موقع پر امیر ضلع سید عبدالرشید،قیم سفیان دلاور،نائب امیر منصور الرحمن،نائب قیم ذیشان احمد،پبلک ایڈ کمیٹی کے سربراہ ظہور احمد جدون،امرائے زونزسید طاہر اکبر،عنایت اللہ،اعجاز نارنجا،اخترسولنگی، ریاض عامر، مستعجاب احمد، رحیم عادل اور اعجاز نارنجا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی امت مسلمہ کا دل ہے اور اہلیان کراچی امت رسولؐ کا درد رکھنے والوں کا شہر ہے ،پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوگا تو اس کا درد کراچی میں بیٹھے ہر مسلمان کو ہوگااور وہ اس درد کو محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ بے غیرتی اور بے حمیت ہونے کا ثبوت دیا ہے لیکن عوام ان حکمرانوں کے برعکس ہمیشہ امت مسلمہ کے درد میں شریک رہے اور ہمیشہ امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، امت رسول ﷺ مارچ عوامی احساسات کا ترجمان ہوگا اور یہ ثابت کرے گا کہ یہ مارچ ملین مارچ ہے۔ اس میں خواتین، مرد،بزرگ، بچے اور نوجوان لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مغربی اور طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہیں اور مسلمانوں کی نسل کشی جا ری ہے ، مسلم ممالک کے حکمران اور او آئی سی نے چپ سادھ رکھی ہے ، برما میں مسلمانوں کے گھر جلائے جا رہے ہیں اور حلب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ روہنگیا اور حلب میں خون بہایا جارہا ہے لیکن کسی مسلم ملک کے حکمرانوں میں اتنی طاقت اور حمیت نہیں کہ وہ بشارالاسد کو منہ توڑ جواب دے سکے یا روہنگیا کے مسلمانوں کے حق میں کھل کر بات کر سکیں اور بدھ حکومت کو اس ظلم کا جواب دیں۔
نسل کشی/احتجاج