بھارت: نوٹ تبدیلی کا آخری دن‘ بینکوں کے باہر قطاریں‘ اندر بھیڑ

98

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت بھر میں گزشتہ روز پرانے کرنسی نوٹ بدلوانے کا آخری دن تھا۔ ملک بھر میں بینکوں کے سامنے طویل قطاریں نظر آئیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت یہ اعلان کیا تھا۔ مودی نے گزشتہ مہینے غیر متوقع طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ 30 دسمبر تک نہ بدلوائے جانے والے 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹ اپنی قدر و قیمت سے محروم ہو جائیں گے ۔ اب تک بھارت میں جتنی کرنسی گردش میں ہے ، اُس کا 86 فیصد اس مالیت کے کرنسی نوٹوں پر مشتمل ہے اور ان کرنسی نوٹوں کی مجموعی مالیت 256ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے ۔ نئی دہلی سے خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک جائزے کے مطابق اس غیر متوقع اعلان نے بھارت بھر میں کروڑوں انسانوں کا نظام زندگی درہم برہمکر کے رکھ دیا۔ بھارتی دارالحکومت میں ایک بینک کے باہر کھڑے راکیش کمار نے رائٹرز کو بتایا کہ میں ڈیڈ لائن گزرنے سے پہلے پہلے کچھ پرانے کرنسی نوٹ جمع کروانے کے لیے آیا ہوں لیکن میں توقع کرتا ہوں کہ حکومت اور مرکزی بینک جلد از جلد نئے کرنسی نوٹ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں میں پہنچا دیں گے تاکہ ہم اُنہیں بغیر کسی مشکل کے نکلوا سکیں۔ بینکنگ کے شعبے میں ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی ایک کمپنی فیڈیلٹی انفارمیشن سروسز کے بھارت اور جنوبی ایشیا کے لیے مینیجنگ ڈائریکٹر راماسوامی وینکٹاچالم کے مطابق نئی کرنسی سرِدست محض 35 تا 40 فیصد اے ٹی ایم مشینوں سے ہی مل پا رہی ہے ۔ مودی حکومت نے یقین دلایا تھا کہ اس اعلان سے پیدا ہونے والی ابتری پر جلد از جلد قابو پا لیا جائے گا اور 50 روز کے اندر اندر حالات معمول پر آ جائیں گے ۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ نہ صرف حالات کو معمول پر آنے میں کم از کم 6 مہینے لگ جائیں گے بلکہ اس حکومتی اقدام کا نتیجہ اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی، ملازمتوں کے مواقع سے محرومی اور اَشیائے صرف کی مانگ میں کمی کی صورت میں برآمد ہو گا۔ نئی دہلی میں اقتصادی پالیسی سے متعلق ایک گروپ آر پی جی فاؤنڈیشن کے صدر ڈی ایچ پائی پاننڈیکر نے کہا کہ بہت سے شعبوں میں، جہاں خاص طور پر غریب لوگ کام کرتے ہیں، ملازمتوں کے مواقع ختم ہو جائیں گے ۔
بھارت / نوٹ تبدیلی