جلدی امراض اور جدید طریقہ علاج

انسانی صحت کے حوالے سے جہاں دیگر بیماریوں کے بارے میں معلومات اور آگاہی اہمیت رکھتی ہے وہیں جلدی امراض سے متعلق بنیادی معلومات بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں صحت و صفائی کی صورتحال مناسب نہ ہونے کے سبب جلدی امراض عام ہیں لیکن ان سے آگاہی نہ ہونے کے باعث  جلدی امراض میں مبتلا افراد کی بیماریاں اکثر شدت اختیار کرجاتی ہے۔ پوری دنیا میں اس حوالے سے آگاہی کا مناسب انتظام ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے علاج میں بھی جدید طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں  “جلدی امراض کے علاج میں جدید طریقوں کا استعمال ”کے عنوان سےایک ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ ورکشاپ جے پی ایم سی کے54 ویں سالانہ سپوزیم کا  حصہ ہے۔

ورکشاپ میں مقامی ماہرین کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ماہرین بھی شریک ہوئے۔انہوں نے اپنے مقالات پیش کئے جس کی روشنی میں جہاں اس شعبہ سے وابستہ افراد کو سیکھنے کا موقع ملا وہیں شرکا کو بھی آگاہی فراہم ہوئی۔

اٹلی سے جلدی امراض کے شعبہ کی ماہرڈاکٹر کیبریلا ورکشاپ میں شریک ہوئیں جبکہ مقامی ماہرین میں ڈاکٹر عظمیٰ ٹوانہ ،ڈاکٹر نقیبہ منشی اور ڈاکٹر بہران خان کھوسوکے تجربات سے  طالب علم مستفید ہوئے ۔ڈاکٹر کیبریلا نےجلدی امراض کے علاج میں نئی تکنیک کا استعمال کیا جس کا پاکستان میں پہلی مرتبہ مظاہرہ کیا گیا۔ ورکشاپ میں جن موضوعات کو زیر بحث لاایا گیا ان میں لائٹ تھراپی،فوٹو تھراپی کو   بنیادی اہمیت حاصل تھی ۔

فوٹو ڈائینامک تھراپی جس میں شعاعوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے اس بارے میں آگاہی فراہم کی گئی ۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال مختلف بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے جس میں جلدی کینسر، جلنے کٹنےکےکسی طرح ٹھیک نہ ہونے والے زخم سمیت کئی قسم کی پیچیدہ بیماریاں شامل ہیں۔ اس طریقہ علاج کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوتے ہیں جس کا استعمال پوری دنیا میں کئی سالوں سے ہورہا ہے۔

ورکشاپ میں سیل تھراپی کے بارے میں بھی شرکا کو آگاہ کیا گیا۔  جس میں مریض کے ہی جسم کے صحت مند سیل لے کر اسے محلول میں تبدیل کرکے جسم کے دوسرے بیماری والے حصے، زخم کی جگہ پر انجیکٹ کرکے بیماری کا علاج کیا جاتا ہے جس کی مدد سے مردہ ٹشوز، سخت ہوجانے والی جلد اور دیگر بیماریوں میں علاج ممکن ہوتا ہے۔ ورکشاپ میں اس کا  کامیاب عملی تجربہ بھی کیا گیا۔

بوٹاز تھراپی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں جس میں مریض کو آنے والے بے پناہ پسینے سے چھٹکارا پانا ممکن ہوتا ہے۔اس طریقہ علاج سے  وہ مریض جن کو ماتھے پر اور ہاتھ پاؤں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے جس کی وجہ سے انہیں سخت پریشانی ہوتی ہے ان کا علاج ممکن ہے۔ڈاکٹر نقیبہ منشی نے اس حوالے سے سیر حاصل گفتگو ۔

آخر میں ڈیرماٹالوجی ڈیپارٹمنٹ جناح اسپتال کےانچارج ہیڈ ڈاکٹر بہرام خان کھوسو نے ماہرین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی اور ملکی ماہرین کے تجربات اورطریقہ علاج سے آگاہی کی بدولت  ورکشاپ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ جس میں شعبہ سے وابستہ افراد سمیت دیگر شرکا کو بھی بہت کچھ سیکھنے کے مواقع میسر آئے۔

SHARE