اسکول ہے یا کھنڈر، جگہ جگہ سے چھتیں گرنے لگیں

ٹوٹا پھوٹا فرش اور برستی چھتیں ، تعلیم حاصل کرنا جان جوکھم کا  کھیل ثابت ہونے لگا ۔ جگہ جگہ سے گرتی چھتیں…… دیواروں  چھتوں اور فرش پر پھیلا دراڑوں کا جال بھوت  بنگلے کا منظر پیش کرنے لگا۔

طلبہ میں شدید  خوف و ہراس پا یا جاتا ہے، بچوں کے  والدین بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔اسکول کی مرمت کیلئے مختص 15 لاکھ روپے محکمہ تعلیم کے کرپٹ افسران ہڑپ کر گئے

قدیم ماہی گیر بستی چشمہ گوٹھ کے قریب آباد علی محمد موسیٰ خاصخیلی گوٹھ میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے اسکول میں موجود 225 سے زائد طلبہ میں ہر وقت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

اسکول کے ہیڈ ماسٹر کریم بخش خاصخیلی نے بتایا کہ ایجوکیشن ورکس کے افسران نے 15 لاکھ روپے کی بجٹ میں سے صرف 4 لاکھ روپے اسکول پر خرچ کرنے کی منظوری دی، ان سے مزید رقم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کام بند کرادیا کہ بقایا رقم محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی کمیشن کے نظر چڑھ گئی ہے۔

2015میں پیپلز پارٹی کےایم این اے عبدالحکیم بلوچ نے اسکول کی مرمت کے لئے15 لاکھ کے بجٹ کی منظوری کرائی تاہم آج تک کام شروع نہ ہوسکا۔  اسکول کی عمارت کی مخدوشی پر والدین کی پریشانی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ اسکول میں 225 طلبہ کیلئے صرف 2 اساتذہ اور 4 کمروں پر مشتمل زبوں حاصل عمارت موجود ہے۔ ہر وقت چھت کے حصے گرنے کی وجہ سے طلبہ کے زخمی ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سمیت محکمہ تعلیم کے صوبائی وزراء کو مذکورہ اسکول کی مرمت کی جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے معمار خوف و ہراس کی فضا سے نکل کر  تعلیم کے حصول  پر توجہ دے سکیں ۔

SHARE