بھارتی سرکاری عمارت پر خالصتان کا پرچم ` آزادی کی تحاریک زور پکڑ گئیں

بھارت جو خود کو سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلانے کا دعوے دار ہے۔جبکہ بھارت میں نہ صرف مسلمان،عیسائی اور سکھ اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بلکہ ہندوئوں میں بھی(نیچی ذاتی( کے ساتھ روا رکھا جانے والا نا روا سلوک ۨاس دعوے کی قلعی کھول دیتا ہے۔
مذہب،ذات پات،رنگ و نسل،زبان و ثقافت اور نہ جانے کس کس نام پر بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی عام ہے۔ اب تک لاکھوں لوگ بھارت میں اس جنونیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگراقلیتوں کی جانب سے آزادی کی مختلف تحاریک شروع ہیں۔خالصتان تحریک بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔
جو سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک آزاد ملک بنانے کی تحریک ہے۔ 1980 کی دہائی میں میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھیجسے بھارتی حکومت نےبلیو سٹار آپریشن کر کے کچل ڈالا۔ لیکن جب سے مودی کی حکومت آئی ہے سکھوں کی اکثریت اب خالصتان کو بنانے کے لئے متحد ہوچکی ہے۔
ہر سال بھارت جب یوم آزادی منایا جاتاہےتو وہیںمختلف اقلیتیں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اسے یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس سال بھی جہاںمقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ پر بڑی تعداد میں بھارت مخالف جبکہ پاکستان کے حق میں مظاہرے کئے گئے ۔ وہیں خالصتان تحریک کے کارکنوں نے بھی شدید احتجاج کیا۔
لندن سمیت دنیا بھر میں اور کنٹرول لائن کے دونوں جانب مقیم کشمیریوں نے بھی بھاری یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طورپر مناکرعالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ کشمیری اپنی سرزمین پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کر تے ہیں۔ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیرمیں مکمل ہڑتال رہی جس کی کال حریت فورم نے دی تھی۔دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کئے گئے۔
لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے اور نعرے بازی کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت، دنیا کے ماتھے پر کسی داغ سے کم نہیں، بھارت میں اقلیتوںکا جینامشکل ہےاور اب تک لاکھوں افراد کو آزادی مانگنے پر قتل کیاجاچکا ہے ۔ انسان حقوق کی تنظیموں اورعالمی اداروں کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے۔ مظاہرے میں کشمیریوں کے علاوہ سکھ کمیونٹی کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
دوسری جانب بھارت میں آزادی کی تحاریک زور پکڑ گئی ہیں۔ ضلع موگا میں ڈی سی آفس پر لگے ترنگے کو پھینک کر اس کی جگہ خالصتان کا پرچم لہرا دیا گیا۔اس موقع پر امرتسر میں سکھوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے بینرز تھامے جوشیلے پنجابیوں نے بھارت مخالف نعرے لگائے۔ ڈپٹی کمشنر آفس پر خالصتان کا جھنڈا لہرانے سے بھارتی انتظامیہ میںکھلبلی مچ گئیہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ جب آزادی کی تحاریک کو روکنا بھارت کے لئے ممکن نہیں رہا او ر پورے بھارت میں ظلم و ستم کا شکار اقلیتیں اپنے حقوق کے حصول کے لئے متحرک ہوچکی ہیں۔