کرونا نے سب کی سوچ بدل دی

کورونا وائرس سے لڑنے کی عالمی کوشش نے کئی کمپنیوں کے کام کرنے اور سوچنے سمجھنے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔کرونا کے باعث دنیا بھر میں انسانی صحت کو درپیش سنگین خطرات کے پیش نظر ضرورت سے زیادہ وینٹی لیٹرز کی مانگ نے دنیا بھرکی بڑی کمپنیوں اور پیدواری صنعتوں کومکمل تبدیل کرکے رکھ دیاہے۔ یوروپ میں کوووڈ 19 سے لڑنے کے لئے سکوبا ڈائیونگ ماسک میڈیکل ڈیوائس کے طور پر استعمال ہونے لگےہیںجبکہ ٹیسلا جو گاڑیاں بنانے کی معروف کمپنی کے طور پر جانی جاتیہے اُس کے انجینئرز نے بھی گاڑیوں کے پرزہ جات سے وینٹیلیٹرز ڈیزائن کرنا شروع کردیئے ہیں۔
ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے ایسے ہسپتالوں کو مفت وینٹیلیٹرز دینے کیبھی پیش کی ہے جہاں اُن کی ضرورت ہو۔ اگرچہ نیویارک سٹی اسپتال کے ڈاکٹروں کواِن مشینوں میں کچھ ضروری تبدیلیاں کرنا پڑیں لیکن اب ٹیسلا کے ملازمین نے ماڈل کوتین حصوں سے بنی ایک پروٹو ٹائپ مشین میں تبدیل کرلیاہے۔
ٹیسلا کے انجینئرنگ ڈائریکٹرجوزف مارڈل نے اس حوالے سے بتایا کہ تمام انجینئر اپنا اپنا وینٹیلیٹر ڈیزائن تیارکر رہے ہیں جس میں ہم اپنی کمپنی کی گاڑیوں کے پرزوں سے بنے وینٹیلیٹرز میں مزید تبدیلیاں لارہے ہیں اب ان میں گاڑیوں کی ٹچ اسکرین، انفوٹینمنٹ کمپیوٹر ار دیگر پرزے استعمال کئے جارہے ہیں۔
مشی گن کی فورڈاور جنرل موٹرز کے آٹو پلانٹس کو وینٹیلیٹرز بنانے کے لئے استعمال کیاجارہاہے۔توقع کی جارہی ہے کہ پہلے 100 دنوں میں یہاں پر 50ہزار وینٹیلیٹرز تیار ہوسکیں گے جبکہ ہر ماہ 30ہزار سے زیادہ وینٹیلیٹرز کی تیاری ممکن ہوگی۔
ٹوکیو میںمیٹرن جانوروں کے لئے وینٹیلیٹر تیار کرتا ہے۔ میٹرن کے سی ای او نے بتایا کہ اب انہیں انسانوں کے استعمال کے قابل بنانے کے لئے ان میں ضروری تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
جاپان کی حکومت نے میٹرن کویہ آلات انسانی استعمال کے قابل بنانے کی غرض سے ضروری ترمیم کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں کمپنی نے اپنے برطانیہ، امریکہ اور ہندوستان میں مقیم نمائندوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔
فرانس کے (امبروز پارے )Abmrise Pare کلینک میں تبدیل شدہ اسکوبا ڈائیونگ ماسک کو طبی استعمال میں لایا جارہا ہے ، تاکہ مریضوں کو پھیپھڑوں میں ڈالی جانے والی نالیوں کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ ماسک COVID19 سے متاثرہ ایسے افراد کے لئے مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں بیماری نے کم نقصان پہنچایا ہو۔اسکوبا ڈائیونگ ماسک بنانے والی کمپنی ڈیکاتھلون نے ماسک کی فروخت عارضی طور پر معطل کرکے انہیں ضرورت مند اسپتالوں کو عطیہ کرنا شروع کردیا ہے۔
بلیجیم میں انجینئرز نے تھری ڈی پرنٹنگ مشین کی مدد سے ماسک کی تیاری شروع کردی ہے۔ پرنٹ شدہ پروٹو ٹائپ میڈیکل گریڈ پلاسٹک کی مدد سے بڑے پیمانے پر ماسک کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
جمہوریہ چیک میں بھی محققین نے بھی Covid 19 کے متاثرہ افراد کے لئے انتہائی سادہ اور سستے وینٹیلیٹرزکی تیاری شروع کردی ہے ۔ اس حوالےسے عوام کو بھی آگاہ کیا جارہا ہے تاکہ کسی بھی تیار شدہ مصنوعات کی فراہمی کا انتظار کرنے کی بجائےوہ خود وینٹیلیٹر تیار کرسکیں۔
سلوواکیہ کے طلباء نے بھی ایسے وبائی مرض کے پیش نظر جو ہر شخص کو درپیش ہےباقاعدہ وینٹیلیٹرزکا انتظام ہونے تک عارضی طور پر سانس کی بحالی کے لئے کوشش کی ہے۔