ننھے جاسوس۔ دم کٹی لنگڑی اونٹنی

175

نمازِ ظہر کے بعد جمال اور کمال ایک مرتبہ پھر انھیں ڈیروں کے آس پاس سے ہو کر آئے اور انھیں ایسا لگا کہ اس بات کو ایس ایچ او لہر اسپ کے علم میں بھی لایا جانا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں اس سے چوروں تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔ کھانا کھانے کے بعد دونوں نے کہا کہ اس بات کو لہر اسپ کے علم میں کل لایا جائے تاکہ ہمیں اپنی اپنی رائے کا جائزہ لینے کا کچھ اور موقع بھی مل جائے۔
اگلے دن جب وہ نمازِ فجر کی وقت اٹھے تو گھر میں غیر معمولی چہل پہل دیکھ کر وہ چونک سے گئے۔ ویسے تو چچا کے سارے گھر والے صبح تڑکے ہی اٹھنے کے عادی تھے اور ماشااللہ سب ہی نمازوں کے پابند تھے لیکن اونچی آوازوں میں باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ باہر آئے تو سبھی پریشانی کے عالم میں ملے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ آج چچا کے گھر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئے تھی۔ وہ تو چچا تہجد پڑھنے کے عادی تھے اور جس وقت چوروں نے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہ جاگ رہے تھے۔ چچا نے آہٹ پاکر للکارا تو وہ بھاگ نکلے اور چچا کی للکار کو سن کر سب گھر والے بیدار ہو گئے۔ یوں بچت ہو گئی۔
چچا نے جمال اور کمال کو دیکھ کر کہا کہ بچوں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی ہے اس لئے ہاتھ منہ دھو، وضو کرو اور نماز کے لیے جاؤ۔ پھر ناشتے کی میز پر اس موضوع پر بات چیت ہوگی۔ جمال اور کمال نے اپنے اپنے واش روموں کا رخ کیا۔ چچا زاد بھائی بھی وضو کرنے میں مصروف ہو گئے۔ نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو اجالا کافی پھیل چکا تھا۔ جب وہ فجر کی نماز کے لیے جا رہے تھے تو فضا میں کافی تاریکی تھی لیکن اب ہر شے صاف نظر آ رہی تھی۔ بے شک سورج ابھی تک نہیں نکلا تھا لیکن دور دور تک ہر شے بالکل صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔
جمال اور کمال کل دو ڈیروں کا بہت غور سے جائزہ لے چکے تھے اس لئے واپسی پر دونوں ڈیروں سے مماثلت رکھنے والے نشانات ان کو مزید چونکانے کا سبب بنے۔ گویا انھوں نے جو کچھ گزشتہ روز دیکھ کر جو گمان کیا تھا آج وہ گمان پختہ یقین میں بدل چکا تھا۔ اب ان دونوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس اہم نقطے سے وہ ایس ایچ او لہر اسپ کو ضرور آگاہ کریں گے اور وہ یقیناً مجرم تک پہنچ جائیں گے۔ اب مسئلہ ایس ایچ او لہر اسپ سے ملاقات کرنے کا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ وہ اپنے والد صاحب سے اس سلسلے میں مشورہ کریں تاکہ لہر اسپ سے ملنے کی کوئی سبیل پیدا ہو سکے۔ ناشتے کے بعد وہ سوچ ہی رہے تھے کہ ذرا تنہائی ملے تو اپنے والد صاحب سے اپنی خواہش کا اظہار کریں کہ ان کے چچا نے کہا کہ ناشتے کے بعد میں تھانے جاکر لہر اسپ سے رات کے واقعے کی رپورٹ درج کرانا چاہتا ہوں۔ جمال اور کمال نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ دونوں نے جیسے اثبات میں سر ہلایا۔ جمال نے اپنے چچا سے کہا کہ وہ بھی علاقے کا تھانہ دیکھنا چاہتے ہیں اور لہر اسپ سے بھی ملنا چاہتے ہیں۔ ان کے چچا نے اپنے بھائی یعنی جمال اور کمال کے والد صاحب کی جانب دیکھا۔ جمال اور کمال کے والد تو اپنے بچوں کی رگِ جاسوسی سے واقف ہی تھے۔ انھوں نے بھی اپنے چھوٹے بھائی سے کہا اگر یہ جانا چاہتے ہیں تو آپ ان کو ضرور لے جائیں۔ یہ تھانہ بھی دیکھ لیں گے اور لہر اسپ سے ملنے کا ان کا اپنا اشتیاق بھی پورا ہو اجئے گا۔
تھانے میں جاکر ان کے چچا نے لہر اسپ کو کل ہونے والے واقعے کے متعلق آگاہ کیا۔ کہا کہ کوئی نقصان تو نہیں ہوا اس لئے کہ میں جاگا ہوا تھا لیکن کیا معلوم پھر کسی اور دن ان کو کوئی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایس ایچ او چچا کی باتیں بھی سن رہے تھے اور جمال اور کمال کو بھی بہت غور سے دیکھتے جا رہے تھے۔ جب چچا اپنی بات مکمل کر چکے تو ایس ایچ او نے پوچھا کہ یہ دو بچے جو آپ کے ساتھ ہیں یہ کون ہیں۔ میں آپ کے بچوں سے تو خوب اچھی طرح واقف ہوں مگر لگتا ہے یہ آپ کے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں۔ جمال اور کمال کے چچا نے جواب دیا کہ آپ درست فرمارہے ہیں۔ یہ میرے بڑے بھائی کے جڑواں بچے ہیں اور انسپکٹر حیدر علی کے تھانے کے علاقے والی بستی سے آئے ہیں ان کا نام جمال اور کمال ہے۔ جمال اور کمال کا نام سن کر لہر اسپ جیسے چونک سے گئے لیکن وہ اتنے محتاط طریقے سے چونکے کہ ان کے چچا تو کیا، اور کوئی آس پاس ہوتا تو وہ بھی اس تبدیلی کو نہیں سمجھ سکتا تھا مگر جمال اور کمال کی تیز نگاہیں اس تبدیلی کو خوب اچھی طرح بھانپ چکی تھیں۔ ایس ایچ او نے جمال اور کمال کے چچا سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں ہم آپ کے گھر کے آس پاس پہرہ بٹھا دیں گے۔ مزید کہا کہ آپ اگر اجازت دیں تو میں آپ کے بھتیجوں کو کچھ دیر یہاں روک کر ان کی خاطر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں میں انھیں آپ کے گھر خود چھوڑ کر آؤںگا۔ در اصل جمال اور کمال نے نہایت صفائی کے ساتھ ایسا اشارہ کیا تھا کہ جیسے وہ لہر اسپ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں۔ اس اشارے کا علم ان کے چچا کو بھی نہیں ہو سکا تھا۔ جمال اور کمال کے چچا نے کہا، کیوں نہیں آپ ضرور ان کی خاطر کریں اور مجھے اجازت دیں۔ (جاری ہے)
چچا جیسے ہی گئے، لہر اسپ نے کہا کہ مجھے آپ کی ذہانت کے متعلق انسپکٹر حیدر علی بڑی تفصیل سے آگاہ کر چکے ہیں اور جس انداز میں آپ نے مجھ سے اکیلے میں ملنے کا اشارہ کیا وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ دونوں بہت معاملہ فہم ہیں۔ جمال اور کمال نے کہا آپ کی اس عنایت کا شکریہ، ہم صرف آپ سے اتنا عرض کرنے آئے ہیں کہ اگر آپ ہم پر اعتماد کرتے ہیں تو بس اتنا کریں کہ آس پاس کے علاقے میں جس کے پاس بھی ایسی اونٹنی ہو جو لنگڑی بھی ہو اور دم کٹی بھی، اس کو فوراً اپنی حفاظت میں لے لیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ چوروں تک پہنچے میں فوراً کامیاب ہو جائیں گے۔ لہر اسپ ان بچوں کی یہ بات سن کر جیسے سکتے میں آ گئے۔ کہنے لگے کہ تم کو یہ کیسے پتہ چلا کہ آس پاس کے علاقے میں کوئی ایسا بھی ہے جس کے پاس اونٹ کی بجائے اونٹنی ہو، وہ لنگڑی بھی ہو اور بغیر دم والی بھی ہو۔ جمال اور کمال نے کہا کہ جب ہم اس علاقے کے نہ ہونے کے باوجود آپ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں آس پاس ایسی اونٹنی موجود ہے جو لنگڑی بھی ہے اور دم کٹی بھی تو جو معلومات ہم رکھتے ہیں وہ بھی درست ہی ہونگی۔ ممکن ہے کہ اونٹنی والے کو آپ جانتے بھی ہوں اور وہ کسی معزز آدمی کی ہو لیکن پھر بھی آپ دیر نہ کریں ورنہ ممکن ہے کہ مجرم ہمیں چوٹ دے جائیں۔ آپ انشا اللہ کامیاب ہونگے۔ کامیابی کے بعد ہم آپ کو پوری تفصیل سے آگاہ کر دیں گے۔
ایس ایچ او نے بچوں کو تو ان کے چچا کے گھر چھوڑا، انسپکٹر حیدر علی سے رابطہ کیا اور بچوں کے مشورے کے متعلق بتایا تو جواب ملا کہ اگر جمال اور کمال نے ایسا کہا ہے تو آپ دیر نہیں کریں تو اچھا ہے۔
لہر اسپ اونٹنی کے مالک کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ معزز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اب کافی دنوں سے دکھائی نہیں دے رہے تھے ممکن ہے بیمار ہو گئے ہوں۔ انھوں نے جب ان کے گھر چھاپا مارا تو انھیں باہر سے ہی یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کے بڑے سارے گھر میں کچھ اجنبی چہرے بھی گھومتے پھرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ وہ پوری تیاری سے آئے تھے۔ کچھ اجنبی چہروں نے ان کو روکنا چاہا تو وہ کسی کی بھی سنے بغیر گھر میں داخل ہوتے چلے گئے جس پر اجنبی لوگوں نے راستہ روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے اہلکاروں کو اشارہ کیا کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا دی جائیں۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ اس گھر میں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔ وہ بے دریغ گھر کے اندر داخل ہو کر ایک ایک کمرے کا دروازہ کھولتے گئے اور آخر کار ایک کمرے میں انھوں نے اونٹنی کے مالک کو بند پایا جو لہر اسپ کو دیکھ کر ان سے لپٹ گیا۔ رپورٹ میں مالک نے لکھ وایا کہ وہ گزشتہ آٹھ دس دن سے ان کی قید میں ہے۔ میرے سارے گھر والے اب کیونکہ شہر میں رہتے ہیں لیکن میں گاؤں کو چھوڑنا نہیں چاہتا اس لئے تنہا ہی یہاں رہتا ہوں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ میرے پاس بہت سارے اونٹ ہیں لیکن معلوم نہیں کیوں یہ میری لنگڑی اور دم کٹی اونٹنی ہی کو اپنے پاس رکھتے ہیں۔
چوروں پر جب تشدد کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ہم ان کی لنگڑی اور دم کٹی اونٹی کو وارداتوں میں اس لئے استعمال کرتے تھے کہ کوئی نہ کوئی ضرور اس بات کو جان لے گا کہ واردات کرنے والے کسی نہ کسی ایسی اونٹنی کو ضرور استعمال کرتے ہیں جو لنگڑی اور دم کٹی ہو۔ یوں اس اونٹنی کا مالک ہر واردات کا ذمے دار ٹھیرے گا اور ہم صاف بچ نکلیں گے۔
لہر اسپ کو اس بات پر بڑی حیرت تھی کہ آخر جمال اور کمال کو یہ تین باتیں کیسے پتہ چلیں کہ واردات کسی اونٹی پر چڑھ کر کی جاتی ہے یعنی وہ اونٹی ہی ہے اونٹ نہیں، وہ لنگڑی بھی ہے اور دم کٹی بھی۔ ہمیں پولیس میں نوکری کرتے ہوئے کئی برس گزر گئے لیکن ہم جہاں جہاں واردات ہوئی اس بات کا سراغ کیوں نہ لگا سکے۔
کارروائی سے فارغ ہو کر ایس ایچ او لہر اسپ ایک مرتبہ پھر جمال اور کمال کے چچا کے گھر آئے اور دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لیجانے کی درخواست کی جو بصد خوشی قبول کر لی گئی۔ جمال اور کمال کے والد تو خوب اچھی طرح جان چکے تھے کہ چوروں کی گرفتاری میں ان کے بچوں کا لازماً مرکزی کردار رہا ہوگا لیکن ان کے بھائی بہت حیران تھے کہ لہر اسپ نے پہلے ان کے بھتیجوں کو تھانے میں روک لیا تھا اور اب اپنے ساتھ لے جانے کی درخواست لے کر کیوں آئے ہیں۔
تھانے سے ملحقہ لہر اسپ کا کوارٹر تھا جہاں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ جمال اور کمال کو اپنے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر کچھ خاطر تواضع کا کہنے گئے۔ واپس آکر انھوں نے بچوں کو گلے لگا کر دعا دی کہ اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ میں نے جیسا تمہارے متعلق سنا تھا تم دونوں کو اس سے بھی بڑھ کر پایا۔ اب تم یہ بتاؤ کہ تم نے یہ کیسے جان لیا کہ واردات ایسی اونٹنی کے ذریعے کی جاتی تھی جو اونٹ نہیں اونٹنی ہی ہو، لنگڑی بھی ہو اور دم کٹی بھی۔ بچوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ اونٹ یا اونٹنی کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ لید کرتا یا کرتی ہے تو دم ہلاتا یا ہلاتی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی لید کسی ایک جگہ ڈھیر کی صورت میں نہیں گرتی جبکہ اس کی لید ڈھیر کی صورت میں پائی گئی۔ یہ اونٹ تھا یا اونٹی، اس کے پاؤں کے چاروں نشانات ایک جیسے گہرے نہیں تھے۔ آگے کے ایک پیر کا نشان بہت ہکا اور چھوٹا سا تھا جس کی وجہ سے یہی سمجھ میں آیا کہ وہ اونٹ ہے یا اونٹی، ایک پیر سے لنگ کا شکار ہے۔ اب رہا اونٹی ہونے کا یقین تو وہ یوں ہوا کہ ہم نے ایک دو جگہ اس کے پیشاب کے نشانات دیکھے۔ اونٹ عام طور پر چلتے چلتے پیشاب کرتا جاتا ہے جبکہ اونٹنی عام طور پر ٹھہر کر اور جھک کر پیشاب کرتی ہے جو ایک ہی جگہ کافی مقدار میں ہوتا ہے۔ ابھی لہر اسپ نعرہ لگانے کے انداز میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ جمال اور کمال نے اشارے سے ان کو روکا اور کہا کہ یہاں ایک ہی ہفتے کے دوران اس سے پہلے دو اور وارداتیں بھی ہو چکی تھیں۔ ہم نے ان دونوں ڈیروں کا جب جائزہ لیا تو وہاں ہم نے ایسی ہی اونٹنی کے نشانات دیکھے تھے جس سے یہ نتیجہ نکالنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ چور جو بھی ہو اونٹنی دم کٹی اور لنگڑی ہی ہے۔ ادھر ان کی بات ختم ہوئی ادھر لہر اسپب نے ان دونوں بچوں کو اپنے بچوں کی طرح بھینچ بھینچ کر سینے سے لگا لیا اور بے اختیار کہنے لگا کہ جس قوم میں ایسے بچے ہوں اس قوم کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
لہر اسپ جب اپنے جذبات کا بہت بھر پور طریقے سے اظہار کر چکے تو انھوں نے کہا کہ اتنی سی عمر میں تم دونوں بچوں کو اونٹ یا اونٹی اور ان کی عادتوں کا علم کیسے ہو گیا تو انھوں نے بتایا کہ ہم فارغ اوقات میں قصے کہانیاں اور دیگر معلوماتی کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔ کچھ ہی دن قبل ہم نے ایک کتاب “دانا حکیم” کے عنوان سے پڑھی تھی۔ اس میں ایک جگہ اونٹنی کے متعلق ایسی ہی باتیں درج تھیں۔ وہ پڑھا ہوا آج جب عملی طور پر ہمارے سامنے آیا تھا ہمیں فوراً دانا حکیم کی ساری باتیں یاد آ گئیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ سب باتیں سچ بھی ثابت ہوئیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کتابیں ہر چھوٹے بڑے کی بہت اچھی دوست ثابت ہوتی ہیں۔

حصہ