خاتون صحافی صدف نعیم کی ہلاکت

263

بہت دنوں بعد فون پر بات ہورہی تھی۔
بولیں: ’’کالج میں لیکچرر شپ ملی تھی۔چھے ماہ پڑھا کر چھوڑ دی۔‘‘
میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ’’ اتنی مشکل سے ملازمت ملی اپنے معاشی حالات سے تم اتنا پریشان ہو۔چھوڑ کیوں دی؟ بولیں: باجی! میاں دوست کی دکان پر بیٹھتے تھے دال دلیہ تو چل ہی رہا تھا۔‘‘
’’میں نے سوچا چار پیسے اور آئیں گے تو دونوں بچوں کے کام ہی آئیں گے۔
جلد ہی میں اس نتیجے پر پہنچی کہ میرا فیصلہ غلط تھا۔‘‘
’’ملازمت کے بعد مجھے ماسی رکھنا پڑی۔‘‘
’’بےآرامی اور دوگنا کام کے بوجھ سے مجھے اعصابی درد کی دوا کی مقدار بڑھانا پڑی۔بچے اسکول سے کسی دن مجھ سے پہلے آجاتے۔ کبھی مجھے اضافی کام کے لیے کالج میں رکنا پڑتا۔یہ چیز مجھے ذہنی طور پر تھکا رہی تھی۔سب سے برا یہ ہوا کہ میرے میاں نے دکان جانے میں کاہلی دکھانی شروع کردی۔‘‘
کبھی سردردکبھی مہروں میں کھچاؤ کا کہ گھر میں پڑے رہتے۔
میں تو دوھرا تھک رہی تھی اور ان کا آرام بڑھ رہا تھا۔
میری امی بہت دوراندیش عورت ہیں۔انھوں نے کہا تم فوری ملازمت چھوڑ دو۔آئندہ ایک سال بعد تمھارے میاں کو کوئی مجبور کرکے بھی گھر سے نہ نکال سکے گا۔۔جب روٹی کا بندوبست ہوجائے تو آدمی گھر سے کیوں نکلے؟یہ تو خالی پیٹ مجبور کرتا ہے۔واقعی جب میں نے صحت کا عذر کرکے ملازمت چھوڑی تو ہفتہ بعد انھوں نے کسمساتے ہوئے جانا شروع کردیا۔
یہ سب سن کر میں سوچنے لگی کہ واقعی کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا؟
دو صنفوں کے مابین ذمے داریوں کی تقسیم فطرت کی مناسبت سے کی گئی تھی۔
جب عورت خود بڑھ کر مرد کے بوجھ اٹھائے گی تو یہ تو مرد کی خوش قسمتی ہے کہ عورت اپنے حصے کے کام کرے اور ساتھ مرد کے حصے کے بھی۔بہتر معیار زندگی کی تلاش میں عورت نے خود گھر سے قدم اٹھایا اور پھر وہ اس کی مجبوری بن گئی۔
سانحے کے بعد صدف نعیم کی سہلیوں نے انٹرویوز میں بتایا کہ وہ کہتی تھی:” میں بہت تھک گئی ہوں۔وہ ہفتے میں سات دن پورے دن ڈیوٹی پر ہوتی تھی۔وقوعہ والا دن اس کی بچی کی سالگرہ کا دن تھا۔بچی ضد کرتی رہ گئی اور ماں مامتا کے جذبات کو کچل کر پیشہ وارانہ ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔
دو میل تک کنٹینر کے ساتھ سرپٹ بھاگتی صحافی خاتون کو دیکھ کر سوچتی رہی کہ ہم نےتو کبھی بازاروں میں بھی یوں بھاگتے نہیں دیکھا کسی عورت کو۔
راستے میں آدمی بھاگ رہا ہو تو کسی کی توجہ حاصل نہیں کرسکے گا۔مگر عورت بھاگ رہی ہو خطرے اور خوف کی علامت سمجھا جائے گا۔
صحافت کا میدان ہو یا کوئی بھی ادارتی ذمے داری عورت کی نسوانیت کا تو احترام ہونا چاہیے۔
ہماری کتنی روشن روایات ہیں۔
آپ ﷺ نے اونٹ کی محملوں پر سوار صحابیاتؓ کے اونٹوں کے حدی خوانوں کو روکا تھا کہ وہ حدی خوانی نہ کریں تاکہ اونٹ تیز نہ دوڑیں۔ عورتوں کو قواریر کہا “یعنی نازک آبگینے سوار ہیں ان اونٹوں پر۔۔”جو ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ان کے جسم سے زیادہ ان کے احساسات نازک ہوتے ہیں۔تب ہی توخطبہ حج الوداع میں تنبیہ کی گئی تھی کہ
“عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔”
آہ! وقت کے حدی خوانوں نے تھکا دیا ہے عورت کو۔
کہیں امپاورمنٹ کا جھانسہ دے کر۔کہیں مساوات اور ترقی کا۔
مردوں کے بجائے عورتوں پر ملازمتوں کے دروازے کھول دیے گیے ہیں۔۔
مساوات تو یہی ٹہری کہ مردوں والا ہر کام کرنا ہے۔ کیونکہ فیلڈ کا تقاضہ ہے۔چاہے نسوانی تقاضے کچل جائیں۔ہم پر فطرت نے پہلے ہی بھاری ذمے داریاں رکھی تھیں۔چکّی پیسنے سے جو مبارک ہاتھوں میں گٹے پڑجاتے تھے وہ ایک عورت ہی تو تھیں۔(جنت کی عورتوں کی سردار)
مشقّت سے کب فرار چاہا ہے؟؟
عورت کے گھر کے کام غیر پیداواری نہیں ہیں۔
گھر معاشرے کا حساس ترین یونٹ ہے۔
اے حدی خوانو!
عورت کو ان میدانوں میں نہ پکارو جو عورت سے نسوانیت چھین لیں۔
ایسی سخت ڈیوٹیاں نہ دو۔
وہ ماں،بہن اور بیوی ہے۔
معاشی مجبوری کے تحت گھر سے نکلتی ہے یا رضاکارانہ سماجی خدمت کے لیے۔
اس کا تقدّس بہت اہم ہے۔
مگر۔۔۔۔سرمائے کے پجاری حدی خواں۔۔۔اونٹوں پر سوار نازک آبگینوں سے بے خبر ہیں۔
مست اونٹ قواریروں کو پامال کررہے ہیں۔۔
کہیں کنٹینر کے نیچے تو کہیں فیکٹریوں اور ملوں میں تو کبھی اسکرین پر چند سکوں کے عوض۔۔۔
جیسے زندہ گاڑی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔۔۔
اسی طرح ہر مظلوم عورت کی داد رسی ہوگی۔
عورتوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔
کنٹینر کے نیچے آکر ہلاک ہونے والی صحافی کی مالی مدد مسئلے کا حل نہیں ہے۔وقت ہے ملازمت پیشہ عورتوں کے لیے نہ صرف قانون سازی کی جائے بلکہ گھر کے استحکام میں عورت کو اس کی حقیقی ذمے داریوں کی لیے سہولت کاری فراہم کی جائے۔۔

حصہ