تیرا کرم ہے

232

صبح ہی صبح کچن میں ناشتا بناتی زیر لب استغفراللہ پڑھ رہی تھیں۔ رات کی پریشانی کا چہرے پر شائبہ تک نہ تھا۔ حیرت سے پوچھا ’’خیر تو ہے؟‘‘
کہنے لگیں: ’’الحمدللہ، خیر ہی خیر ہے۔ انمول خزانے کی کنجی ہاتھ آئی ہے۔‘‘
میں کچھ سمجھ نہ پائی۔
وضاحت کرتے بولیں:
’’رات پریشانی سے نیند نہیں آرہی تھی، کیفیت یہ تھی جیسے سب کچھ کھو بیٹھی ہوں۔ لہٰذا تہجد کے لیے کھڑی ہوگئی، رب سے راستہ مانگا، رہنمائی مانگی۔ اب اسی رہنمائی پر عمل کرنے میں مصروف ہوں۔‘‘ بات ختم کرکے وہ پھر سے ناشتا بنانے اور کچھ پڑھنے میں مصروف ہوگئیں۔
میں بھی پلٹ آئی، مزید کھڑا ہونے کا فائدہ نہ تھا۔
کالج سے واپس آئی تو وہ جا چکی تھیں۔
’’مجھے معلوم تھا تمہیں بے چینی ہورہی ہوگی۔ فون رکھو، میں تمھیں وہ وڈیو ہی بھیج دیتی ہوں جس سے مجھے ہدایت ملی۔‘‘ میرے فون کرنے پر وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’آنسو آنکھوں سے بہے چلے جا رہے تھے، یہ کیفیت درس سنتے ہوئے میری تھی۔ غفلت میں تو عمر میں بھی گزارے جارہی تھی۔‘‘
سورہ نوح کی چند آیات کی تلاوت کے بعد وہ معروف عالم دین اس کا مفہوم بتا رہے تھے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ ’’حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایسا انمول عمل بتایا تھا کہ بدلے میں انھیں ہر شے، ہر نعمت سے نواز دیا جاتا۔ وائے افسوس انھوں نے عمل سے اعراض برتا۔ قرآن کریم میں اس کا تذکرہ کرکے گویا ہمیں یہ انمول نسخہ سونپ دیا گیا۔
نسخہ کیا تھا؟ استغفار کرنا تھا۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگنی تھی۔ اللہ کی طرف پلٹ آنا تھا۔ بدلے میں بے بہا نعمتوں کے وعدے تھے۔ گناہوں کی بخشش، لگاتار نعمت بھری بارش، مال اور اولاد کی کثرت اور ترقی، باغات اور نہروں کا مالک بنایا جانا تھا۔ یہی چیزیں ہمیشہ سے انسانوں کے لیے مرغوب رہی ہیں۔ اس سے بڑھ کر کسی کو دنیا میں کیا چاہیے تھا!‘‘
مولانا صاحب امام غزالیؒ کا واقعہ بھی بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا کہ گھر میں مال کی تنگی ہے، مصائب کی کثرت اور بیماریاں ہیں۔کوئی حل بتایئے۔‘‘
فرمایا ’’استغفار کرو‘‘۔ دوسرا شخص اولاد کا خواہش مند تھا، اسے بھی کہا ’’استغفار کرو‘‘۔ ایک اور شخص آیا اور کہا ’’قحط اور خشک سالی‘‘ ہے۔ فرمایا ’’استغفار کرو‘‘۔
ساتھیوں نے پوچھا ’’تین مسئلے اور حل ایک ہی بتایا؟‘‘ فرمایا ’’کیا تم نے سورہ نوح علیہ السلام کی یہ آیات نہیں پڑھیں!‘‘ اشارہ ان آیات کی طرف تھا۔
انھوں نے ایک نیورو سرجن کا بھی مشہور واقعہ بتایا کہ وہ کسی میٹنگ کے لیے ملک سے باہر جارہے تھے کہ موسم کی خرابی کی بنا پر جہاز کو راستے میں ہی لینڈ کرنا پڑا۔ وہ پریشان تھے کہ ان کی کانفرنس میں شرکت انتہائی ضروری تھی۔ جہاز کے عملے سے بات کی، معلوم ہوا جہاز کے فوری جانے کی کوئی صورت نہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ گاڑی کروا کر چلے جائیں کہ یہاں سے سڑک کے ذریعے دو ڈھائی گھنٹے کا سفر ہے۔ یہ صاحب گاڑی پر نکلے، راستے میں شدید بارش اور طوفان میں پھنس گئے۔ چارو ناچار ان کو وہاں رکنا پڑا۔ سامنے ہی ایک گھر تھا، انھوں نے گاڑی روکی، دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر ایک بڑھیا ایک بیمار بچے کے پاس بیٹھی تھی۔
پانی وغیرہ پینے کے بعد بڑھیا سے پوچھا ’’اس بچے کو کیا ہوا ہے؟‘‘ کہنے لگی ’’اس کا علاج صرف ایک ہی نیورو سرجن کے پاس ہے اور اُس تک جانے کا کوئی راستہ نہیں۔‘‘
وہ حیران رہ گئے، بڑھیا انھی کا نام لے رہی تھی۔ انہوں نے پوچھا ’’اماں آپ نے ایسا کیا عمل کیا جس نے میرے جہاز کو یہاں لینڈ کروایا، پھر گاڑی کے ذریعے قدرت مجھے گھسیٹتے ہوئے یہاں لائی؟ دراصل کانفرنس نہیں آپ کی دعا کھینچ لائی ہے۔‘‘
بڑھیا آنسوؤں کے سا تھ بولی ’’بیٹا! میں استغفار بہت کرتی ہوں، ساتھ ہی دعا بھی کہ اللہ تم سے ملاقات کا کوئی راستہ بنا دے۔‘‘
واقعہ ایمان افروز تھا۔ وہ ذات جس کے لیے پانچ وقت مساجد سے بڑائی کا اعلان ہوتا ہے، ہمارا ایمان نہ جانے کیوں پختہ نہیں ہوپاتا۔ اس درس نے ایمانی کیفیت کو بڑھا دیا تھا۔
دفعتاً میرے ذہن میں امام احمد بن حنبلؒ کا واقعہ آیا۔ ایک شام وہ خادم کے بغیر ہی گھر سے نکل پڑے۔ ایک مسجد میں قیام کیا۔ مسجد کے نگراں نے مسجد بند کرتے ہوئے ان کو باہر جانے کو کہا اور ان کی کسی گزارش کو بھی خاطر میں نہ لائے۔
اب وہ سڑک پر تھے۔ سامنے نان بائی، نان بنا رہا تھا۔ اس نے کہا ’’جناب آپ مسافر ہیں، میرے ہاں رات گزاریے۔‘‘
امام صاحب اس کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ نان بائی کام کرتا جاتا اور استغفراللہ کہتا جاتا۔ امام صاحب نے پوچھا ’’اس کا کوئی فائدہ بھی زندگی میں محسوس کیا؟‘‘
نان بائی نے کہا ’’ہاں میری ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ لیکن بہت دنوں سے ایک دعا کررہا ہوں جو قبول نہیں ہوئی، سنا ہے ایک بڑے عالم دین ہیں، تمنا ہے اُن سے ملاقات ہوجائے۔‘‘
امام صاحب کھڑے ہوگئے، مسرت سے اسے گلے لگا کر بولے ’’وہ میں ہی ہوں۔ شاید آج مجھے تمھاری ملاقات کے لیے ہی گھر سے اکیلے نکالا گیا اور پھر مسجد میں بھی نہیں ٹھیرنے دیا گیا۔‘‘
’’یہ زندگی جسے اللہ نے آزمائش بنایا، اس کے لیے ہر طرح سے رہنمائی دی، اس کے فتنوں سے بچنے کا سامان کیا۔ بھٹکنے کی صورت میں توبہ، رجوع، استغفار کا راستہ بھی دکھایا۔ ہم ہی غافل ہیں جو رہنمائی نہیں لے پاتے۔‘‘
بہن نے فارغ ہوتے ہی فون کیا تھا، بتا رہی تھیں کہ ’’اپنی اَنا کو چھوڑ کر رب کی مانی تو گھر کا مسئلہ منٹوں میں حل ہوگیا۔ جہاں کسر ہے وہ بھی رب دور کردے گا۔‘‘
باتوں میں واضح محسوس ہونے والا سکون اور ٹھیراؤ سا تھا جو آپا کی آواز سے بھی جھلک رہا تھا۔

حصہ