خاتون کربلا زینب بنت علی ؄

143

اسلامی معاشروں میں کون سا گھر ہو گا جہاں عائشہ، فاطمہ، خدیجہ، زینب، حفصہ، میمونہ جویریہ وغیرہ ناموں کی خواتین نہ پائی جاتی ہوں۔ نومولود کا نام رکھنا ہماری مسلم اقدار و روایات میں ایک حساس کام شمار ہوتا ہے۔ نام رکھنے ہوئے اس کے معنی دیکھے جاتے ہیں لیکن امہات المومنینؓ و صحابیاتؓ کے نام رکھتے ہوئے لوگ عموماً معنی کی بھی پروا نہیں کرتے کہ آلِ رسولؐ کے گھرانے کے نام ہی برکت و سعادت کے لیے کافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام کی ان عظیم ہستیوں کے نام ہر مسلمان خاندان کی زینت ہیں۔
یہاں سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ان ناموں سے ہماری وابستگی محض عقیدت و برکت کی حد تک رہے گی یا ان ناموں کے پیچھے جو عظیم شخصیات ہیں ہمیں اپنے بچوں کو ان کی عظمت سے بھی متعارف کرانا چاہیے…؟ امہات المومنین ہوں یا صحابیات رسولؐ اولاً تو ان ہستیوں کی بہت کم روایات ہم تک پہنچی ہیں۔ کیونکہ نبی پاکﷺ کی رحلت کے بعد ابتدائی صدیوں میں تمام تر توجہ علوم قرآن و حدیث کی تدوین پر مرکوز رہی۔ جن عظیم ہستیوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا قیامت تک ان کی کاوشیں ان کے لیے صدقیہ جاریہ کا کام کریں گی۔ ان شاء اللہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں جتنا روشن کردار مردوں کا ہے اتنا ہی ٹھوس کر دار اس دور کی خواتین کا بھی ہے۔ ان مقدس ہستیوں کے درخشندہ تذکرے ایمان کو جلا دیتے ہیں۔ ان سے کسبِ نور کرکے ہم ظلمتوں کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی شخصیت کا تذکرہ کیا جائے تو عہد نبویؐ اور خلفائے راشدین کی پوری تاریخ نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔
مکی دور میں اہل ایمان نے جو صعوبتیں برداشت کیں وہ تنہا مردوں کی قربانی نہ تھی خواتین نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ جاں فرسا آزمائشوں کا مقابلہ کرکے توحید کے علم کو بلند کرنے میں مساوی کردار ادا کیا۔ ہجرت حبشہ ہو یا ہجرت مدینہ، مکہ کا پرفتن دور ہو یا مدینہ کی نو آموز اسلامی ریاست کے خلاف سازشیں اور کمر توڑ جدوجہد خواتین ہر دور اور ہر قافلے میں اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ ہجرتیں کیں، گھر بار چھوڑے، جنگوں میں خدمات انجام دیں یہاں تک کہ زخم بھی کھائے۔ شوہر، بھائی، باپ اور بیٹے میدان جہاد کے لیے روانہ کیے۔ شہادت کی خبریں پائیں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اس وقت مسلم امہ آزمائش کے جس پر فتن دورسے گزر رہی ہے اس میں کرنے کا کام یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اور صحابیات رسولؐ کی زندگی کے ہر ہر پہلو سے آنے والی نسلوں کو روشناس کرایا جائے۔ ان تاب ناک کرداروں کے تذکرے جنہیں ہم بڑی حد تک فراموش کر چکے ہیں آج بھی ہماری ملی وجود کو حیاتِ نو بخشنے کے لیے کافی ہیں۔
بات سادہ سی ہے کہ ہم نے اپنے تابناک ماضی اور اس سے جڑی عظیم ہستیوں کی سیرتوں کو فراموش کر دیا۔ جب نشانِ منزل دھندلائے تو ہم نے اندھا دھند اغیار کی تقلید شروع کر دی۔ آج ہمارا زوال اسی غفلت کا شاخسانہ ہے۔ تہذیبوں کی اس جنگ میں ہماری فتح اپنی تہذیب اور اس کی اعلیٰ اقدار سے وابستہ ہونے میں ہے۔ جس کا عملی نمونہ پاک باز ہستیوں نے پیش کیا۔
ضرورت ہے کہ قرآن نے جنہیں ’’مومنات‘‘ ’’صالحات‘‘ قانتات کہہ کر پکارا ہے ہم محض ان کی عقیدت میں نام رکھنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے گھروں میں امہات المومنین، نباتِ مطہرات اور دیگر عالی مرتبہ صحابیات کے تذکرے کریں۔ ان کرداروں کو پھر سے زندہ کریں۔ اپنے خانگی اور معاشرتی ماحول کو ان کے پر نور تذکروں سے معطر و منور رکھیں۔ ان عظیم ہستیوں سے ہمیں جو نسبت ہے محض ان کے نام اختیار کر لینے سے اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔
ع ان سے ہی مجھے نسبت ہے مگر کب ان کی حقیقت پہچانی
یہ سوانح نہ صرف ہمارے ایمان کی بالیدگی کا ذریعہ ہیں بلکہ ان حالات واقعات میں ہمارے لیے درس عبرت بھی ہے کہ قرونِ اولیٰ کی خواتین نے اسلام کی تمام حدود کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے کتنے عظیم کارنامے سر انجام دیے۔ آج عقل حیران ہوتی ہے کہ وہ کیسی تعلیم و تربیت اور مشن سے کیسا عشق تھا جس نے چودہ صدیاں قبل عظمت کے ان اشعاروں سے تاریخ کو روشناس کر دیا!
حضرت زینب بنتِ علیؓ/ عزیمت کی اس کہکشاں سے حضرت زینب بنتِ علیؓ کے تذکرے سے درس نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
حضرت زینب بنتِ علیؓ کی عمر رسولِ پاکؐ کے انتقال کے وقت چھ برس تھی۔ آپ کی خوش بختی تھی کہ نبی پاکؐ نے اپنے دھنِ مبارک میں کھجور چبائی اور لعاب مبارک بچی کے منہ میں ڈالا نومولود کو دیر تک گود میں لیے رکھا اور اس کا نام ’’زینب‘‘ تجویز فرمایا۔ اور فرمایا ’’یہ ہم شبیہ خدیجہ ہے‘‘ آپ 5ہجری میں پیدا ہوئیں۔
پرورش: یہ پھول جس گلشن میں کھلا تھا اس پر انسانیت آج بھی نازاں ہے۔ وہ اس روئے زمین کا بہترین اور قابلِ فخر گھرانہ تھا۔ جس بچی کے نانا سید الابنیاء رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفیٰؐ ہوں، نانی حضرت خدیجہؓ ہوں، باپ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہ ہوں اور ماں فاطمۃ الزہرہ بتول ہوں۔ اس بچی کی پرورش میں کیا کسر رہ سکتی ہے؟ مزید اعزاز یہ کہ اس کے بھائی حضرت امام حسنؓ و حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار کا لقب پا چکے ہوں۔ اس کے نصیب پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ آپ کی پرورش اور تربیت براہ راست نبی کریمؐ، حیدر کرار اور سیدہ النساء کے زیر سایہ ہوئی۔روایات میں ہے کہ آپؐ بچوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ حضرت زینبؓ بھی آپؐ کی لاڈلی تھیں۔ کئی مرتبہ وہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح نانا کے کاندھوں پر سوار دیکھی گئیں۔ جب آپؐ حجۃ الوداع کے لیے مکمہ معظمہ تشریف لے گئے اس سفر میں حضرت زینبؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھیں۔ اس وقت ان کی عمر پانچ برس تھی اور یہ ان کا پہلا سفر تھا۔ اس نو عمری میں اللہ نے ان کو اس عظیم مکتب سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع عطا فرمایا۔
روایات میں ہے کہ عہد طفلی میں ایک مرتبہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہی تھیں سر سے اوڑھنی ڈھلک گئی۔ سیدہ فاطمہ الزہرہ نے دیکھا تو بیٹی کے سر کو اوڑھنی سے ڈھکتے ہوئے فرمایا کہ ’’بیٹی اللہ کا کلام ننگے سر نہیں پڑھتے‘‘۔
سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کی آغوش میں پلنے والا یہ پھول جو ایک عالم کو معطر کرنے والا تھا کہ ننھی سیدہ زینبؓ چھ برس کی عمر میں نانا رسول خداؐ کی گھنی چھائوں سے محروم ہوئیں اور ٹھیک چھ ماہ بعد ماں کی جدائی کا عظٍم صدمہ سہنا پڑا۔ معصوم بہن بھائیوں نے ان صدمے کو کیسے سہا ہو گا۔ البتہ باب العلم خود معلم تھے اس خاندان کے ہر موقع پر انہوں نے ان معصوم ذہنوں کو علم و حکمت کے خزانوں سے جس طرح بھرا ہو گا۔ اس کا ثبوت آپ کے خاندان کو پیش آنے والی مشکلات میں ان کی ثابت دیکھ کر ہوتا ہے۔ حضرت امام حسنؓ و حسینؓ اور سیدہ زینبؓ نے تاریخ کا جو باب رقم کیا ہے اس کی توقع اس سے کم درجہ کے کسی کردار سے نہیں کی جا سکتی۔ تاریخ کا رخ ایسی ہی عظیم ہستیاں بدلتی ہیں۔ عمارت معمار کے ہاتھوں کا پتا دیتی ہے۔ سیدہ زینبؓ کے علم و فضل کی ایک جھلک ہمیں ان تقاریر میں ملے گی جو انہوں نے انتہائی غم و الم کے مختلف مواقع پر اپنے خاندان کے لہو سے ہولی کھیلنے والوں کے سامنے کیں۔
ازدواجی زندگی کا آغاز:
طبقات ابن سعدؒ میں روایات ہیں کہ سیدہ زینب بنتِ علیؓ جب سن بلوغ کو پہنچیں تو قبیلہ کندہ کے رئیس اشعت نے ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت علیؓ نے اپنی لخت جگر کے لیے یہ رشتہ قبول نہ کیا۔ اس کے بعد ان کے بھتیجے حضرت جعفر طیارؓ (جو جنگِ موتہ میں شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہو چکے تھے) ان کے فرزند عبداللہ اپنے چچا حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت علیؓ کی نظریں دیکھ رہی تھیں کہ نکاح کا خواہش مند وہ نوجوان ہے جس کی تربیت اس کے باپ کی شہادت کے بعد خود نبی محترمؐ نے فرمائی تھی۔ اس تراشیدہ ہیرے سے بہتر اور کون ہو سکتا تھا جس کے ہاتھ میں وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ دیتے۔ اس وقت حضرت علیؓ بحیثیت چچا ان کے نگراں اور سر پرست تھے۔ وہ نوجوان سیرت و صورت میں قریش میں اعلیٰ مقام رکھتا تھا۔ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کے باعث۔ نکاح کی تاریخ مقرر ہوئی۔ یہ سیدنا عمر فاروقؓ کا دور خلافت تھا۔ اس وقت سیدہ زینبؓ کی عمر بارہ یا تیرہ برس تھی۔ سادگی سے نکاح کے بعد خاندان کی خواتین انہیں عبداللہ بن جعفرؓ کے گھر پہنچا کر آگئیں۔ ان کے مہر کی رقم میں روایات میں اختلافات ہیں۔ کہیں 480 درہم اور کہیں چالیس ہزار درہم درج ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ مستحکم مالی حیثیت کے مالک تھے۔ تجارت کرتے تھے۔ اگلے دن دعوت ولیمہ میں دوست و احباب نے شرکت کی۔
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کے گھر میں لونڈیاں اور خادم تھے لیکن سیدہ زینبؓ شوہر کی خدمت کو اعزاز سمجھتے ہوئے ان کے کام اپنے ہاتھوں سے کرکے خوشی محسوس کرتیں۔ حضرت عبداللہ کی یہ سخاوت رہتی دنیا تک تاریخ کی کتابوں میں حضرت زینبؓ کے کردار کی گواہی کے طور پر موجود رہے گی کہ ’’زینبؓ بہترین گھر والی ہے،‘‘
دونوں میاں بیوی جو دوسخا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ ناممکن تھا کہ کوئی مسائل ان کے در پر آئے اور خالی ہاتھ چلا جائے۔ کتنے محتاج و مسکین گھرانوں کا وہ سہارا تھے۔ ان کی دریا دلی دیکھتے ہوئے امام حسینؓ نے ایک بار سرزنش کی کہ غیر مستحق لوگوں کے ساتھ دریا دلی کا معاملہ نہ کیا کریں۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ’’اللہ نے مجھے دولت دی ہی اس لیے ہے کہ اس کے بندوں میں تقسیم کردوں‘‘۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل سیدہ زینبؓ کے مزاج پر اثر انداز نہ ہوسکی وہ زندگی بھر صبر و قناعت، سادگی اور جفاکش کا پیکر دکھائی دیں۔
بحیثیت عالمہ:
37 ہجری میں اپنے عہد خلافت میں حضرت علیؓ نے کوفہ کو جائے مقام بنایا تو حضرت زینبؓ مع شوہر کے مدینہ منورہ سے کوفہ آگئیں۔ روایات میں ہے کہ جانفشاں سے درس و تدریس اور وعظ و د ہدایت کے کام میں مشغول ہو گئیں۔ خواتین کے لیے مرجع خلائق قرار پائیں۔ خواتین قرآن و حدیث کے درس کے ساتھ ساتھ اپنے فقہی مسائل میں بھی ان کے علم کے سرچشمہ سے سیراب ہوتیں۔ ان کے علم و فضل کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تھی۔
دورِ ابتلا کا آغاز:
سیدہ زینبؓ اپنے نانا اور والدین سے حاصل کیے ہوئے علم کی شمعیں روشن کر رہی تھیں کہ 17 رمضان المبارک 40ہجری میں مسجہ کوفہ میں سجدہ ریز حضرت علیؓ کو دشمنِ دین عبدالرحمٰن بن ملجم نے قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا۔ حضرت زینبؓ غم سے نڈھال تھیں۔ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ تو دور ابتلا کا آغاز ہے۔
خاتونِ کربلا:
روایات میں ہے کہ ذی الحج 60 ہجری میں اس وقت در پیش حالات و واقعات کی روشنی میں سیدنا امام حسینؓ مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔ اس کا محرک اہل کوفہ کی باربار کی دعوت تھی۔ حضرت زینبؓ کو اس کی خبر ہوئی تو بے تاب ہو گئیں اور دو کم عمر فرزندوں کے ہمراہ اس مقدس سفر میں شامل ہو گئیں۔ شوہر عبداللہ بن جعفرؓ خود تو بوجوہ شریک نہ ہو سکے مگر حضرت زینبؓ کے جذبات کو دیکھتے ہوئے ان کو اور بچوں کو جانے کی اجازت دے دی۔

حصہ