سوشل میڈیا پر نان ایشوز کا راج

125

عید الفطر کی مبارک بادکے ساتھ سوشل میڈیا کے نئے ہفتہ کا آغاز کرتے ہیں۔ گرم ترین سیاسی ماحول میں عید مبارک، عید الفطر مبارک ، چاند، عید 2022 کے ہیش ٹیگ چلتے رہے۔ اہم بات یہ بتانی تھی کہ چند سال قبل تک اس طرح کے ہیش ٹیگ میں احادیث، آیات یا دیگر دینی احکامات و معلومات بھری ہوتی تھی جو امسال بڑی تیزی سے ختم ہوتی نظر آئی۔ اس میں ایک‘ دو ہیش ٹیگ تو بھارتی تھے جن میں زیادہ تر شور تو بھارتی اداکاروں کی عید مصروفیت سے جڑا تھا جب کہ باقی سارا زور اس میں بھی عمران خان کے چاہنے والوں نے لگایا ہوا تھا۔
’’امپورٹڈ حکومت نامنظور‘‘ کا ہیش ٹیگ مستقل دوسرے ہفتے میں داخل رہا۔ دبائو بڑھانے کے لیے ’’ہفتہ کی چھٹی بحال کرو‘‘ بھی چلایا گیا۔ رمضان کے آخری ایام میں حسب روایت پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سعودی عرب اور عمرے کا پلان ترتیب دیا، جس میں ان کے ہمراہ بڑا وفد گیا۔ اس دوران مسجد نبویؐ میں حکومتی ارکان کے ساتھ ’’چور کی ہوٹنگ‘‘ کا ایک واقعہ پیش آیا، جسے سوشل میڈیا کی زینت بنایا گیا۔ حیرت اس بات ہوئی کہ لوگوں نے اس کو بھی اپنے مذموم سیاسی کھیل کا حصہ بنالیا۔ لوگ سوشل میڈیا پر سیاسی تعلق کی بنیاد پر جذباتی ہوگئے جس کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔
کئی روز بعد حکومت نے مدینہ میں ہونے والے واقعہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی پیش رفت کی ،مگر یہ کسی کی سمجھ نہیں آئی۔ اگر سعودی حکومت اس واقعہ کو نظر انداز کرتی تو حکومت سفارتی چینل کے ذریعے تحقیقات پر زور ڈال سکتی تھی جب کہ سعودی حکومت اس واقعے کو اپنے قوانین کے مطابق پہلے ہی ہینڈل کر چکی تھی۔ بلال احمد اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ ’’عمران خان یا کسی دوسرے‘ تیسرے شخص پر مقدمے کے اندراج پر اعتراض کا مسئلہ نہیں لیکن جس طرح مسجد نبویؐ کے واقعے کو سیاسی مخالفت اور پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اس کے سنگین نتائج ہوں گے، اگر ملزمان بری ہوئے تو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق اور دیگر اداروں کے اس اعتراض پر مہر ثبت ہو جائے گی کہ پاکستان میں توہینِ رسالت قانون ذاتی رنجش، سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی جیسی سیکولر جماعت کی جانب سے توہین مسجدِ نبویؐ نامنظور کی مہم اور ٹرینڈ چلانا کسی بڑی شہادت سے کم نہیں۔‘‘
اہم بات یہ ہے کہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے میں مسجد نبویؐ کے احترام کے نام پر ایسا کرتے نظر آئے، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت، دین، احکام کو وہ خود جس جس طرح عملی زندگی میں روندتے یا روندتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ یہ دوغلا پن درحقیقت پوری امت مسلمہ کے لیے زہرِ قاتل بنتا جا رہا ہے۔ ٹھیک ہے کہ حالیہ واقعے میں ہوٹنگ ہوئی، مگر کیوں اس معاملے کو ان کا انفرادی فعل قرار دیاگیا؟ بعدازاں جو سعودی حکومت نے اس واقعے کے بعد سختیاں کیں تو اس کے اثرات باقی پاکستانیوں پر پڑے، جس کا اظہار سب نے سوشل میڈیا پر کیا۔ بلاشبہ دربار نبی کے آداب ہیں کہ آواز نیچی رکھی جائے، مگر اس ادب کے معاملے کو گندی سیاست کا رنگ دیا گیا، یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کی منصوبہ بندی سے یہ کام ہوا۔ میں اس معاملے میں یہی بات نوٹ کر رہا تھا کہ دینی جماعتوں نے بحیثیت مجموعی اس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ جے یو آئی نے ’’ٹوکن مظاہرہ‘‘ ضرور کیا جبکہ اگر وہ چاہتی تو مدارس کو میدان میں اتارنا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ کے پی کے کی مساجد سے سوشل میڈیا پر اطلاعات آئی کہ وہاں جن مساجد کے علما نے اس پر بات کی تو تحریک انصاف کے ٹائیگر ان پر حملہ آور بھی ہوئے، مگر جے یو آئی‘ بلکہ تمام دینی جماعتیں‘ اِس معاملے پر درست حکمت عملی کے تحت خاموش رہیں۔ بات یہی ہے کہ بحیثیت مجموعی لبرل اقدار کو اپنانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان و عقائدکھیل تماشا بن جاتے ہیں جسے جو جب چاہتا ہے اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیتا ہے اور اس ضمن میں جو اہم بات ہوتی ہے وہ پیچھے رہ جاتی ہے، جسے ہمارے معروف شاعر عنایت علی خان مرحوم و مغفور نے اپنی مشہور نعت میں بہت درد کے ساتھ بیان کیا تھا کہ:
میں ترے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا
ترے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا
یقین مانیں، یہی افسوس ناک منظرنامہ آج بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، لبرل اقدار کو اپنا نے کے نتیجے میں جو ایمان و عقائد کی تباہی کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ اِس خوشی تک محدود ہوتا جا رہا ہے جس کا ذکر عنایت علی خان نے یوں کیا:
تِرے حُسنِ خلق کی اک رمق مری زندگی میں نہ مل سکی
میں اِسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دَر و بام کو تو سجا لیا
اس میں کوئی شک نہیں کہ چور دونوں جانب ہی موجود ہیں، بس ایک نے چوری کرنے سے قبل خوب طاقت سے شور مچا کر سب کو چور قرار دے دیا اور اپنی پوزیشن بغیر بولے واضح کردی۔ مگر اب جب عمران خان کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تو مشکل پیدا ہوگئی۔ فرح گوگی کیس سے لے کر القادر یونیورسٹی، توشہ خانہ سے لے کر چینی اسکینڈل سمیت‘ بے شمار کیسز یقینا سامنے آئیں گے کیوں کہ سب جانتے تھے کہ عمران خان کے دائیں بائیں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو اپنی بھاری سرمایہ کاری مکمل منافع کے ساتھ واپس بھی لینی ہے۔ یہ نہ کوئی اچنبھے کی بات ہے اور نہ ہی اس کی دفاع کی ضرورت ہے۔ یہ مکمل نظام ہی ایسا ہے، نیت کوئی کیسی ہی اچھی کر لے، اس کو کیچڑ میں اترنا پڑتا ہے اور کیچڑ اس کو لازمی خراب کر دیتی ہے۔ یہ خرابی اس حد تک گئی کہ وہی کردار کشی کا پرانا چلن بھی استعمال کیا گیا۔ ماضی میں نواز شریف نے جو بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے ساتھ کیا تھا، مگر نتیجہ الٹ ہی رہا تھا۔ اس بار عمران خان کے ساتھ یہی کام کیا گیا۔ کچھ عرصے قبل مسلم لیگ کے ایک اہم رہنما کی وڈیو لیک کی گئی۔ عمران خان کے ساتھ ایم کیو ایم نے کراچی کے در و دیوار سے لے کر اسمبلی کے فلور تک جو کچھ کیا تھا اس پر عمران خان کی خاموشی اور بعد ازاں انہیں ’’نفیس لوگ‘‘ کہہ کر حکومت میں شامل کرلینا ،نہایت قبیح فعل تھا۔
اس میں اہم بات یہ تھی کہ عمران خان کی وڈیو لیک سے قبل ہی سوشل میڈیا پر فیک وڈیو کے بارے میں معلومات اور عزائم نشر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اس پر بیان دیے جا رہے تھے کہ ایک جعلی وڈیو آنے والی ہے، یہ چور کی داڑھی کا سب سے بڑاتنکا تھا جو شاید سادہ لوح عوام محسوس نہ کر سکے کہ عمران خان اینڈ کمپنی کو قبل از وقت یہ کیسے معلوم ہوا کہ ان کی کوئی جعلی وڈیو آنے والی ہے، جو کہ غیر اخلاقی بھی ہے؟ کمال منصوبہ بندی سے مستقل ہزاروں کی تعداد میں فیک وڈیوز‘ مطلب چہرہ بدل بدل کر ڈالی جاتی رہیں اور اتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے چاہنے والوں نے منظم طریقے سے یہ وڈیوز پھیلائی کہ بعد میں اگر کوئی اصلی وڈیو بھی آئے تو لوگ ا س کو ازخود جعلی کہہ دیں۔
دوسری جانب خان صاحب اپنے کام میں مگن رہے، عید کے دوسرے روز ایک نجی چینل پر عمران خان کا ماضی کے مشہور فلمسٹار شان شاہد کو دیا گیا انٹرویو مزید عوام کی کنوینسنگ کر گیا۔ عمران خان نے تمام ابلاغی ہتھیاروں کو جامع حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا اور اپنے بیانیے کے ساتھ اپنے حق میں عوامی رائے برقرا ر رکھی۔ امریکا کو گالی دیے بغیر اس کی ڈٹ کر مخالفت بھی کر دی۔ وڈیو سے انکار بھی نہیںکیا اور اپنی عوامی پذیرائی بھی کم نہ ہونے دی۔ اس انٹرویو میں تو بطور صوفی بھی اپنے آپ کو متعارف کرایا۔ یہی نہیں گزشتہ ہفتے عمران خان نے طویل اور معروف ترین ٹوئٹر اسپیس میں کوئی 165000 سامعین کے ساتھ عالمی ریکارڈ بنا کر اپنے آڈیو سیشن کو بھی خوب استعمال کیا۔ یہی نہیں کئی پوڈ کاسٹ اور ٹی وی انٹرویوز سے چھائے رہے۔ جنید اکرم بھی اس ضمن میں عمران خان کے ساتھ اپنی پوڈ کاسٹ کی وجہ سے خاصا مقبول ہوئے۔ ہر انٹرویو میں انہوں نے نئے رنگ دکھائے، مثلاً آخری پوڈ کاسٹ کا سب سے مقبول جملہ یہ تھاکہ ’’مجھے جولائی سے معلوم ہو چکا تھا کہ یہ حکومت گرانا چاہتے ہیں۔‘‘ اس بات پر دونوں اینکرز کی ہمت ہی نہ ہوئی یہ سادہ سا سوال کرنے کی کہ اگر جولائی سے معلوم تھا تو خط والی کہانی کیوں لائی گئی؟ مطلب اس ہفتے کے آغاز میں عمران خان کی جانب سے تو فوج کے حق میں نعرے بلند کر کے فوج کو محفوظ راستہ دیا گیا اور عمومی سیاسی گند ایک دوسرے پر اچھالنے کا سلسلہ تیزی پکڑ گیا۔ اس کے باوجودہفتہ کے اختتام تک DGISI، COAS ٹرینڈ لسٹ میں نظر آگئے۔ فوج کو دوبارہ ہاتھ گھما کر نشانہ بنالیا گیا۔
ایسا نہیں تھا کہ فطری جواب نہیں آ رہے تھے، فطری ردعمل میں ’’عمران ڈو‘‘ کی نئی اصطلاح سوشل میڈیا پر عمران خان کے بڑے ناقدین کی جانب سے وڈیو کلپ کی صورت ’’ناشپاتی‘‘چینل نے متعارف کرائی گئی جو بھرپور انداز سے وائرل ہوئی۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا کہ جو عمران کی do پر یقین رکھتا ہو یعنی جو کچھ عمران خان نے کام کیا۔ اس پر اردو انگریزی میں ٹرینڈ بھی بنے اور خوب رگڑا لگایا گیا۔ اس سے قبل بھی مصطفی چوہدری و خالد بٹ کی جوڑی عمران خان کے پیروڈی انٹرویوز کی شکل میں خاصی داد سمیٹ چکی ہے۔ اسی طرح ایک جانب رضا باقر کی تبدیلی پر بھی تحریک انصاف اپنے کارنامے گنواتی رہی تو مفتاح اسماعیل کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 240 روپے لیٹر ہونے کے عندیہ پر خوب معاملہ اچھالا گیا۔ یہ عوام کی پوری ذہن سازی کی جا رہی تھی کہ اب پیٹرول کی قیمت بڑھنے والی ہے۔ اسی طرح ’’لتر ایڈجسٹمنٹ، گوگی بچائو تحریک، گوگی کون ہے؟‘‘ کے ٹرینڈ عمران خان مخالفت میں جاری رہے مگر ظاہر ہے کہ عمران خان کی ٹیم کا مقابلہ کرنے کو ناکافی تھے۔
بھارت اور پاکستان میں ’’میسور‘‘ اور ’’ٹیپو سلطان‘‘ کے نام سے 5 مئی کو ٹرینڈ ابھرا۔ میسور کے والی‘ شیر میسور سلطان ٹیپو انگریزوں سے اپنے قلع کا دفاع کرتے ہوئے 4 مئی کو شہید ہوئے تھے۔ ٹیپو سلطان بھارت میں بھی جنگِ آزادی کے عظیم ہیرو جانے جاتے ہیں، گو کہ متعصب ہندو آج بھی غیر معروف انگریز تاریخ دانوں کے حوالے سے ہندو نسل کشی کا الزام لگاتے ہیں، مگر خود بنگولورو میں سلطان ٹیپو کو اسکول نصاب میں شامل کیا گیا، اس مضمون کو بھی مستقل کم کرنے پر کام جاری ہے مگر تاحال مضمون موجود ہے۔ یہاں بھی عمران خان کے چاہنے والے کود پڑے اور سلطان ٹیپو کی جدو جہد آزادی کو عمران خان کی جدوجہد سے جوڑتے نظر آئے۔ فواد چوہدری نے اس ضمن میں ٹیپو سلطان کو بیک وقت میسور و بنگال کا شیر لکھ کر ٹوئیٹ کر دیا، ایک صحافی دوست نعمت خان کی توجہ پر بعدازاں غلطی تسلیم کرتے ہوئے ڈیلیٹ بھی کر دیا گیا۔ یہ خبر ملک کے مؤقر نیوز چینل کی ہیڈ لائن بھی بنی۔ میں نے صاف محسوس کیا کہ کسی کی جانب سے مکمل آرڈر ہیں کہ کوئی ہیش ٹیگ چل رہا ہو، اس میں کود پڑو اس کو اپنے بیانیے سے مکمل بھر دو تاکہ لوگوں کے سامنے بار بار عمران خان ہی آتا رہے۔

حصہ