اخلاص

نیت کی حقیقت
دل کا کسی ایسی چیز کی طرف ابھرنا جس کو وہ اپنی غرض و نفی کے موافق سمجھتا ہے نیت کہتے ہیں اور اس کے معنی ارادہ اور قصد کے ہیں۔ اسی سے کام پر قدرت پیدا ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کام کے لیے اول علم کی ضرورت ہوتی ہے اور علم کے بعد ہی اس پر عمل کرنے کا مقصد و ارادہ پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد ہاتھ پائوں ہلانے اور اس کام کے کرنے کی قدرت پیدا ہوتی ہے ۔
شروع میں ایک بار نیت کرلینا کافی ہے۔ اگر ہر بار نیت کی ضرورت ہو تو کوئی بھی فعل اختیاری نہ ہو سکے گا۔
اخلاص
اصلاح اعمال میں اخلاص کا اولین درجہ ہے۔ اخلاصِ عمل کے بغیر کوئی عمل قابلِ اجر و معتبر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
’’ترجمہ: اور کوئی حکم نہیں ہوا مگر اس بات کا کہ عبادت کریں اللہ تعالیٰ کی خالص کرنے والے ہوں اس کے واسطے دین اور ہر طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہوں۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ترجمہ: حق تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کی طرف نظر نہیں فرماتے لیکن تمہاری نیتوں اور اعمال پر نظر فرماتے ہیں۔‘‘
حقیقت اخلاص
اپنی طرف سے صرف اللہ تعالیٰ کے تقرب و رضا کا قصد رکھنا اور مخلوق کی خوشنودی و رضامندی یا اپنی کسی نفسانی خواہش کو ملنے نہ دینا۔ یہ اخلاص ہے۔
اخلاص کے وجوداً اور عدماً تین درجے ہیں۔ ایک یہ کہ فعل کے وقت غایت کا صحیح قصد ہو۔ یہ تو غایت اخلاص ہے اور یہی مقصود اور مرتبہ کمال کا ہے۔ دوسرے یہ کہ غایت فاسدہ کا قصد ہو یہ بالکل اخلاص کے خلاف ہے۔ ایک یہ کہ کچھ بھی قصد نہ ہو۔ نہ غایت صحیح کا نہ غایت فاسدہ کا بلکہ یونہی معمول کے موافق ایک کام کرلیا۔ یہ درجہ بین بین ہے اس کو اخلاص سے اتنا بعد نہیں جتنا دوسرے درجہ کو بعد ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، اور قصد یہ ہو کہ خدا تعالیٰ ہم سے راضی ہوں گے، اس کے سوا اور کوئی نیت نہ ہو۔ یہ تو اخلاص کا درجۂ کمال ہے۔ ایک یہ صورت ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے کسی دوسرے شخص کے دکھانے کا خیال ہو کہ فلاں شخص ہمارے خشوع و خضوع کو دیکھ کر ہمارا معتقد ہو جائے گا یہ بالکل اخلاص کے خلاف ہے ایک یہ صورت ہے کہ ہم معموں کے موافق نماز پڑھیں نہ وہ خیال دل میں ہو نہ یہ خیال ہو۔ یہ مرتبہ بین بین ہے۔ یہ اگر اخلاص کا درجہ کمال نہیں تو اخلاص کے زیادہ منافی بھی نہیں، اس کو اخلاص سے قرب ضرور ہے۔
اخلاص کے فائدے
اگر کوئی نیک کام ہو گرچہ معمولی نوعیت کا ہومگر خلوص کے ساتھ ہو تو اس میں برکت ہوتی ہے، چاہے اس کا کوئی بھی معاون نہ ہو جس قدر اخلاص زیادہ ہو گا اسی قدر ثوب بڑھتا جائے گا اور اسی واسطے حدیث میں آیا ہے کہ میرا صحابی اگر نصف مد یعنی آدھ سیر جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ دوسرے کے احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ بات یہ ہے کہ ان حضرات کے اندر خلوص اور محبت اس قدر تھاکہ اوروں کے اندر اتنا نہیں، اسی وجہ سے ان کے صدقات و حسنات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اخلاص پیدا کرنے کا طریقہ
ریا کو دفع کرنا اخلاص کو حاصل کرنا ہے۔ انسان اپنے کو جس قدر ریا سے پاک کرتا جائے گا۔ اس کے عمل میں اتنا ہی اخلاص پیدا ہوتا جائے گا۔
اخلاص کی مثال
مشہور بزرگ حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ ایک مرتبہ دریائے وجلہ کے کنارے جارہے تھے تو ایک جگہ دیکھا کہ شراب کے مٹکے کشتیوں سے اتر رہے ہیں۔ پوچھا ان میں کیا ہے؟
کشتی والے نے کہا کہ شراب ہے، خلیفۂ وقت کے لیے آئی ہے وہ دس مٹکے تھے۔
شیخ کو غصہ آیا۔ کشتی والے کی لکڑی مانگ کر انہوں نے نو مٹکے یکے بعد دیگرے توڑ ڈالے اور ایک مٹکا چھوڑ دیا۔
چونکہ یہ شراب خلیفہ کے لیے لائی گئی تھی ان لیے اس کا براہ راست خلیفہ کے ہاں چالان کر دیا گیا۔
خلیفہ نہایت ہیبت ناک صورت میں بیٹھ کر اجلاس کیا کرتا تھا۔ لوہے کی ٹوپی اوڑھتا تھا اور لوہے کی زرہ اور لوہے کا گرز ہاتھ میں ہوتا تھا اور لوہے کی کرسی پر بیٹھتا تھا۔
نہایت کڑک کر ہولناک آواز سے پوچھا۔ تم نے یہ کیا کیا؟ شیخ:۔ جو کچھ میں نے کیا آپ کو بھی معلوم ہے۔ دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ میں یہاں تک نہ لایا جاتا۔
یہ جواب سن کر برہم ہوا اور پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ کیا تم محتسب ہو؟
شیخ نے فرمایا۔ ہاں محتسب ہوں۔
حلیفہ نے پوچھا۔ تم کو کس نے محتسب بنایا۔
شیخن ے جواب دیا:۔ جس نے تجھ کو خلیفہ بنایا ہے۔
خلیفہ نے پوچھا کوئی دلیل ہے۔
حضرت نے قرآن کی ایک آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ ہے،
قائم کر نماز کو، حکم کر نیک باتوں کا اور روک لوگوں کو بری باتوں سے اور تجھ کو جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔
یہ باتیں سن کر متاثر ہوا اور کہا کہ ہم نے تم کو آج سے محتسب بنایا۔ مگر ایک بات بتائو کہ ایک مٹکا تم نے کیوں چھوڑ دیا۔
فرمایا کہ جب نو مٹکے میں نے توڑ ڈالے تو نفس میں خیال آیا کہ اے ابوالحسن تو نے بڑی ہمت کا کام کیا کہ خلیفۂ وقت سے بھی نہ ڈرا، میں نے اسی وقت ہاتھ روک لیا کیونکہ اس سے پہلے تو اللہ کی رضا مندی کے لیے توڑے تھے۔ اگر اب توڑوں گا تو وہ نفس کے لیے ہوگا اس لیے دسواں مٹکا چھوڑ دیا۔
(درسِ رمضان
تفہیم القرآن سوسائٹی کراچی)

حصہ