امریکا میں اس رمضان اذان کی آوازیں

186

رمضان المبارک کی قیمتی ترین ساعتیں مبارک ہوں۔کوشش کروں گاکہ آ پ کی عبادات میں یہ تحریر رکاوٹ نہ بنے ۔ جو چند منٹ آپ اس تحریر کو دیں وہ کسی درجے میں آپ کے ایمانی شعور میں اضافے کا باعث ضرور بنیں۔
اس ہفتہ ایک خبر جو سوشل میڈیا پر مسلم حلقوں میں وائرل رہی وہ یہ تھی کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیا پولس میں رمضان کے دوران صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے کی اجازت دے د ی گئی۔ کورونا ایام میں 2020کے رمضان میں بھی یہ اجازت دی گئی تھی، بلکہ برطانیہ و یورپی ممالک میں بھی اذان کی لاوڈ اسپیکر پر اجازت دی گئی ،یہی نہیں بی بی سی ریڈیو نے بھی اپنی نشریات میں پہلی بار اذا ن نشر کی ۔اب اس کوکیا کہیں یہ میں نہیں جانتا البتہ قرآن کی یہ آیت ضرور یاد آتی ہے جس میں اللہ فرماتا ہے کہ جب وہ پھنس جاتے ہیںتو انکو اللہ ہی یاد آتا ہے۔ اس خبر پر مقامی مسلمانوں کی خوشی دیکھ کر مجھے ، دار الکفر کی مناسبت سے حکیم الامت علامہ اقبال کے یہ اشعار یاد آئےکہ
ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد
اے مردِ خدا! تجھ کو وہ قُوّت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نو میدیِ جاوید
جس کا یہ تصّوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!
امریکا کی بات چلی ہے توانکے موضوعات بھی ایک نظر دیکھ لیں۔ٹوئٹر پر جمعرات کو عالمی سطح پر معروف ہالی ووڈ اداکار ’بروس ولس‘کے دماغی مریض بن جانے کی وجہ سے 67 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا موضوع سرفہرست ڈسکس ہوتا نظر آیا۔اس سے 2 دن قبل ایک اور معروف ہالی ووڈ اداکار ول اسمتھ ٹاپ ٹرینڈ پر تھے (پاکستان میں بھی(، اس لیے نہیں کہ انکو آسکر ایوارڈ ملا ۔انہوں نے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں میزبان ’کرس راک‘کو اسٹیج پر جا کر تھپڑ رسید کر دیا تھاکہ اُس نے ول اسمتھ کی بیوی کا ایسامذاق اڑایاجو اس سے برداشت نہ ہوا۔حسن اتفاق سے دونوں ہی سیاہ فام تھے ،بلکہ تینوں یعنی ول اسمتھ، اسکی بیوی اور میزبان ، وگرنہ یقین مانیں برطانوی اخبار ’دی گارجین‘نے ایک مضمون شائع کیا جو اسی ہیش ٹیگ کے ذیل میں نظر آیا۔ اس کی سرخی یہ تھی کہ ’سفیدفاموں کا ول اسمتھ کے تھپڑ کے بارے میں غصہ کی جڑان کی سیاہ فاموں سے نفرت ہے۔یہ سادہ نظر میں عدم مساوات ہے۔‘
White outrage about Will Smith’s slap is rooted in anti-Blackness. It’s inequality in plain sight
متذکرہ سرخی والے کالم کا آغاز ایک ایسے حیرت انگیز جملے سے ہوا ، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’ ہم تشدد برداشت نہیں کرتے۔‘ جبکہ تشدد سے بھرپور فلموں کا بادشاہ تو خود ہالی ووڈ ہی ہے۔اس میں اہم بات سیاہ فام و سفید فام والی تھی ، جسے خوب اچھالا گیا ، وہ بتاتی ہے کہ نسلی تعصبات کا خاتمہ لبرل قانون سازی سے بھی ممکن نہیں ۔بہرحال ابتدا میں بتانے کا مقصد یہ تھا کہ باہر دنیا میں سب مست ہیں فلموں میں، انہی ہیروز کی زندگیوں میں اور اپنے نسلی تعصبات میں ۔ اب ذرا ہمارے موضوعات دیکھ لیں۔
ملک میں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔سیاسی جوڑ توڑ کی بدترین کیفیت نظر آئی جس نے کم ازکم یہ بات واضح کر دی کہ سارا جمہوری تماشا صرف ڈھونگ ہے اور سب کٹھ پتلی کی مانند کسی اور ہی اشارے پر چل رہے ہوتے ہیں۔دِکھاوے کے طور پر مفادات ضرور سامنے ہوتے ہیں ، جیسے کسی کو وزارت اعلی تو کسی کو وزارت یا کوئی اور ڈیل ۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر مستقل یہی شور مچا رہا۔فروغ نسیم، الطاف حسین، مارشل لاء، ایم کیو ایم بازاری پارٹی ، پی ایم ہاوس، باجوہ، غیرت کارڈ، آرمی ، راولپنڈی، پاکستانی شرمندہ ہے، ہر سازش ہوگی ناکام، 3اپریل ڈی چوک، اسٹیپ ڈاون عمران خان، گیم اوور عمران خان، نو کانفیڈنس موشن، تبدیلی کوڑے دان میں،امر بالمعروف ، میں عمران خان ہوں، سرپرائز، جاگ اٹھا سارا پاکستان،پرویز الٰہی، عثمان بزدار، سی ایم پنجاب، عدم اعتماد بیرونی سازش، کپتان کا اصل شیر بزدار جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ لسٹ پرچلتے رہے،جن کے مندرجات آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔
اس سب میں جو بات اولین اہمیت کی حامل ہے ، وہ یہ ہے کہ پاکستان جب سے امریکی کالونی بنا (بشکل قرضہ جات و مرعوب زدہ غلام ذہنیت( تب سے ہی پاکستان پر امریکی پالیسی کو چلانے والے حکمران آتے رہے ہیں، انکو زیادہ سے زیادہ کرپٹ حکمران اس لیے درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ قوم کو مزید قرضوں میں اور ملک پر اُن کے پنجے مضبوط کر سکیں، انکی پالیسیز کو دھکا دے سکیں ، ایسٹ انڈیا کمپنی بشکل ملٹی نیشنل کا سرمایہ دارانہ راج قائم کرا سکیں۔تاریخ گواہ ہے کہ صدرایوب خان نے جن مراسلات سے امریکہ کو اقتداری امور میں مداخلت رستہ فراہم کیا تب سے ہی اس کو مزے لگ گئے ۔ ہنری کسنجر نے کہا ہے ’’امریکہ کی دشمنی خطرناک ہے مگر اس کی دوستی جان لیوا ہے۔‘‘بدقسمتی سے پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے کبھی ہنری کسنجر کی بات پر غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لیکر صدر ضیاء الحق کے دھماکے ہوں، بے نظیر قتل سے لیکر عمران خان حکومت کا انجام ہو ۔کیا شک ہے کہ سب ملک میں امریکی بالا دستی کا واضح اعلان کرتے نظر آتے ہیں۔
امریکا ، پاکستان کے بعد اب چلتے ہیں اپنے شہر ۔ کہنے کو تو شہر کے اندر ایک علاقے کے اندر ایک یونیورسٹی ، پھراس کے اندر ایک چھوٹے سے ادارے آئی بی اے کا معاملہ ہے جواس وقت عالمی استعماری ایجنڈا لے کر چل رہاہے ۔ گوکہ موضوع بنے ہوئے 2 ماہ قبل منعقد ہونے والی کوئی ڈانس پارٹی کی وڈیو سماجی میڈیا پر لیک ہونےسے بات شروع ہوئی ۔اس پر آئی بی اے کی کمیٹی نے 2 نامعلوم کواپنے طور سے سزا دے دی۔مگر با ت تو ختم نہیں ہوتی نظر آرہی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس ادارے کو بڑا فنڈ کر کے دینے والے سابق طلبا نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، ایسے بدنام ادارے کی فنڈنگ پر از سر نو سوچنے کا عندیہ دیا، اس کے علاوہ سماجی پریشر بھی ساتھ ساتھ کارگر رہا۔
جامعہ کراچی میں یہ ادارہ ایک ایسے جزیرے کی مانند رہا ہے جیسے ہم کراچی میں کلفٹن پل کے بعد اور اس سے پہلے کی تشبیہہ دیتے ہیں۔باوجود اسے معیاری کہا جاتا ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ’’معیار“ بھی واضح ہو رہا ہے۔اسکول ، کالج و جامعات شروع ہی سے استعماری مقاصد کے گڑھ رہے ہیں، انکی فارمیشن ہی ایسی ہے۔ لبرل اقدار نے اپنے نفوذ کے لیے جو ادارتی صف بندی کی اس میں تعلیمی ادارے اولین مقام رکھتے تھے ۔بات مشکل لگ رہی ہے۔ اچھا چلیں دو مثالوں سے آسان کرتا ہوں۔ پڑوسی ملک بھارت میں حالیہ دنوں لڑکیوں کو تعلیمی ادارے میں ’مخصوص‘کپڑا نہ پہننے کا قانون سیٹ ہوا ہے اور ہمارے ملک میں آئی بی اے نے مخصوص کیا کپڑے نہ پہننے کا معیار سیٹ کرا ہے۔چند مخصوص طلبہ کی خیرخواہی و مبینہ زیادتیوں کے ازالے کے لیے ڈریس کوڈ ہی ختم کیا گیا ہے۔ اب مثال سمجھ آئی، دونوں صورتوں میں تعلیمی اداروں کی قانون سازی کس کا بھلا کرتی ہے؟؟بہرحال بات آگے بڑھاتے ہیں، جو آئی بی اے سے متعلق ہے۔
جان لیں کہ لبرل نظریات پر قائم معاشرہ ،روایتی تعلقات سے کاٹ کر بنتا ہے ، اقداری تعلقات کو ختم کر کے بنتا ہے ۔اس لیے سب کی آزادی کو محفوظ و یقینی بنانےکے لیے وہ قانون سازی کا سہارا لیتا ہے ۔آزادی جیسے جیسے بڑھے گی تو کسی قسم کی اخلاقیات (مذہبی ، سماجی، کمیونٹی، خاندانی )تو کھڑی ہی نہیں ہیں کسی فرد کے پیچھے آزادی کے تحفظ اور کنٹرول کے لیے تو اب قانون ہی سے قابو کیا جائے گا۔چنانچہ ایسے ایسے قوانین بن گئے کہ کتے بھونکنے کے قوانین، بیوی کو ڈسٹرب کرنے والے خراٹوں کے لیے قانون سازی ، بیوی کے ساتھ بدتمیزی کے لیے قانون ، بچوں کے ساتھ سلوک پر قانون،غرض کہ آزادی کا دائرہ آپ کے بیڈ روم تک پہنچ جاتا ہے اورکچھ نجی نہیں رہتا، سب قانون کی وجہ سے پبلک ہوجاتاہے۔اس کا دوسر اپہلو یہ نکلتا ہے کہ لبرل معاشرے میں واحد ترجیح اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم مجرم کو کتنی دیر میں پکڑ لیتے ہیں ،جبکہ اسلامی معاشرہ میں ہمیشہ ترجیح اس بات کی ہوتی ہے کہ جرم ہونے سے پہلے روکا جائے اور اس کے لیے ہمارا دین پوری ترتیب دیتا ہے جو تمام تر خوف خدا پر مبنی ہوتی ہے۔یہ رمضان کی ٹریننگ اس کی زبردست مثال ہے کہ کسی قانونی دباؤ کے بغیر صرف خوف خدا کی بنیاد پر آپ اطاعت میں ڈوب کر اپنا روزہ مکمل کرتے ہیں۔
اب دیکھتے ہیں آئی بی اے کو جس کے سارے معاملات وقت کے ساتھ ساتھ کھلتے جا رہے ہیںکہ ظاہری چکا چوند، صفائی ستھرائی، معیار کے ڈبوں کے نیچے اتنی گندگی، غلاظت و درندگی بسی ہوئی ہے کہ آپ کی سوچ بھی نہ جاتی ہوگی۔صرف گرلز ہاسٹل کے باہرکی سی سی ٹی وی فوٹیجز آپ کو کئی عنوانات سے دہلا سکتی ہے۔جہاں قائدے، قانون، نظم و ضبط و اصول سب دھوکہ نظر آئے گا، کیوں کہ بے چارے گارڈ سے لے کر ہاسٹل وارڈن تک سب اپنی ’نفسانی خواہشات ‘ کی تسکین کے بدلے خاموش ہیں۔ سب سمجھتے ہیں کہ شکایت یا فرض کی ادائیگی سے جو کچھ ملے گا وہ شکایت نہ کرنے کے بدل سے تو بہت ہی کم ہے۔ہاسٹل سے لے کر ادارے کے اندرون تک طلبہ کیا طالبات میں شراب و منشیات اتنی عام ہے کہ نشے میں طالبات وہیں ڈھیر پائی جاتی رہی ہیں۔ یہ سب شخصی آزادی و لبرل نظریہ آزادی کی خاطر پروان چڑھایا جاتا ہے کہ سب کو سب کرنے کا حق ہے۔ اسکے بالغ ہو جانے کے بعد کسی قسم کی پابندی بلا جواز ہے۔ اسلام سمیت تمام مذاہب نے ’ہم جنس پرستی‘ کو مکمل رد کیا ہے ۔ہوتا یہ ہے کہ ہم جنس پرستوں کا معاملہ خواجہ سرا کی آڑ لیکر بیان کیا جاتا ہے تاکہ مظلومیت برقرار رہے۔ان اَقدارکی تباہی پر کچھ با ضمیر اساتذہ نے ہمت دکھائی اور یہ معاملہ6 فروری سے اُن کی اظہار تشویش پر مبنی ای میل سے شروع ہوا ۔ان کو صاف محسوس ہوا کہ پورے اخلاص سے آئی بی اے کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکبر زیدی نے معاشرتی اقدار کو روندنے کے لیے اقدامات کی زبردست سیریز شروع کر رکھی ہے۔دوسرا یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں سے لوگ معاشرے میں کلیدی جگہوں پر جاتے ہیں اگر یہاں سے ایسی نسل نکل کر معاشرے میں جائے گی تو اس کے بھیانک اثرات سے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔اس معاملے میں اندر بے چین طلبہ و طالبات نے بھی انکا ساتھ دیا اور معاملات کی لیکیج میڈیا تک ہوئی۔یہ بات ٹھیک ہے کہ برائی اگر پردہ میں ہے یا چہار دیواری میں ہے تو اس کو عام کرنا صریحاً ، اخلاقاً اور دینی حوالےسے بھی غلط ہے۔مگر یہاں مقصود عام کرنا نہیں بلکہ لگی ہوئی آگ کی جانب متوجہ کرنا اور اس کو سماجی پریشر سے روکنا مقصود تھا ۔ ایک جانب نوکریاں تھیں تو دوسری جانب بھاری فیس و مشکل سے ہوئے داخلوں کا اسٹیک تھا۔
بہرحال میں لبرل اقدار، ملحدانہ فکر، سیکولرازم کے مستقل پھیلتے اثرات پر تواتر سے متوجہ کرتا رہا ہوں۔ہمارے چیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی نے تین سال قبل ہی کہہ دیا تھا کہ وہ پاکستان میں تیزی سے ہم جنس پرستی کا سیلاب آتا دیکھ رہے ہیں۔وہی نہیں سب راسخ العقیدہ اہل عقل و نظر مستقل معاشرے کی صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ یوتھ کلب نے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اس پر ابلاغی محاذ پر بہت بروقت کام کیا ہے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اقدار سے معاشرے کی روایات کو توڑ کر جہاں سے رستہ بنایا ہے انکو بحال کیا جائے ۔اس میں اہم بات یہ ہے کہ وہ عناصر جن سے ڈرتے یا خوف کھاتے تھے وہ سب اس معاشرتی بگاڑ پر ایسے خاموش ہیں جیسے کہ کوئی اندھا یا بہرا شخص ہو۔ایسے وقت میں جب تمام موثر طبقات خاموش ہوں، منبر و محراب سے بھی خاموشی ہو تو کسی کو تو یہ کام کرنا ہی ہوگا ۔

حصہ