ایمان اور اطاعت

اطاعت کے لیے علم اور یقین کی ضرورت
پچھلے باب میں تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ اسلام دراصل پروردگار کی اطاعات کا نام ہے۔ اب ہم بتانا چاہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اُس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اسے چند باتوں کا علم نہ ہو اور وہ علم یقین کی حد تک پہنچا ہوا نہ ہو۔
سب سے پہلے تو انسان کو خدا کی ہستی کا پورا پورا یقین ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اسے یہی یقین نہ ہو کہ خدا ہے، تو وہ اس کی اطاعت کیسے کرے گا؟
اس کے ساتھ خدا کی صفات کا علم بھی ضروری ہے۔ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خدا ایک ہے اور خدائی میں کوئی شریک نہیں، وہ دوسروں کے سامنے سر جھکان اور ہاتھ پھیلانے سے کیونکر بچ سکتا ہے؟ جس شخص کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ خدا سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، وہ اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے کیسے روک سکتا ہے؟ اس بات پر جب تم غور کرو گے، تو تم کو معلوم ہوگا کہ خیالات اور اخلاق اور اعمال میں اسلام کے رستے پر چلنے کے لیے انسان میں جن صفات کا ہونا ضروری ہے وہ صفات اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتیں جب تک کہ اس کو خدا کی صفات کا ٹھیک ٹھیک علم نہ ہو۔ اور یہ علم بھی محض جان لینے کی حد تک نہ رہے، بلکہ اس کو یقین کے ساتھ دل میں بیٹھ جانا چاہیے تا کہ انسان کا دل اُس کے مخالف خیالات اور اس کی زندگی اس علم کے خلاف عمل کرنے سے محفوظ رہے۔
اس کے بعد انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ کس بات کو خدا پسند کرتا ہے، تا کہ اسے اختیار کیا جائے۔ اور کس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے، تا کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو خدائی قانون اور خدائی ضابطہ سے پوری واقفت ہو۔ اس کے متعلق وہ پورا یقین رکھتا ہو کہ یہی خدائی قانون اور خدائی ضابطہ ہے، اور اسی کی پیروی سے خدا کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اگر اس کو سرے سے علم ہی نہ ہو تو وہ اطاعت کس چیز کی کرے گا؟ اور اگر علم تو ہو لیکن پورا یقین نہ ہو، یا دل میں یہ خیال ہو کہ اس قانون اور ضابطہ کے سوا دوسرا قانون اور ضابطہ بھی درست ہوسکتا ہے تو اُس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کیسے کرسکتا ہے؟
پھر انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کے خلاف چلنے اور اس کے پسند کیے ہوئے ضابطہ کی اطاعت نہ کرنے کا انجام کیا ہے اور اس کی فرماں برداری کرنے کا انعام کیا ہے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ اُسے آخرت کی زندگی کا، خدا کی عدالت میں پیش ہونے کا، نافرمانی کی سزا پانے کا اور فرماں برداری پر انعام پانے کا پورا علم اور یقین ہو۔ جو شخص آخرت کی زندگی سے ناواقف ہے وہ اطاعت اور نافرمانی دونوں کو بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس کا خیال تو یہ ہے کہ آخر میں اطاعت کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر ہی رہیں گے، کیونکہ دونوں کاک ہوجائیں گے۔ پھر اُس سے کیونکر اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اطاعت کی پابندیاں اور تکلیفیں برداشت کرنا قبول کرلے گا، اور اُن گناہوں سے پرہیز کرے گا جن سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اس کو اندیشہ نہیں ہے۔ ایسیع قیدے کے ساتھ انسان خدائی قانون کا کبھی مطیع نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی اطاعت میں ثابت قدم نہیں ہوسکتا جسے آخرت کی زندگی اور خدائی عدالت کی پیشی کا علم تو ہے مگر یقین نہیں۔ اس لیے کہ شک اور تروُّد کے ساتھ انسان کسی بات پر جم نہیں سکتا۔ تم ایک کام کو دل لگا کر اسی وقت کرسکو گے جب تم کو یقین ہو کہ یہ کام فائدہ بخش ہے اور دوسرے کام سے پرہیز کرنے میں بھی اسی وقت مستقل رہ سکتے ہو جب تمہیں پورا یقین ہو کہ یہ کام نقصان دہ ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک طریقہ کی پیروی کے لیے اس کے انجام اور نتیجہ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ اور یہ علم ایسا ہونا چاہیے جو یقین کی حد تک پہنچا ہوا ہو۔
ایمان کی تعریف
اوپر کے بیان مین جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہے اسی کا نام ایمان ہے۔ ایمان کے معنی جاننے اور ماننے کے ہیں۔ جو شخص خدا کی وحدانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں۔ اور ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہوجاتا ہے۔
ایمان کی اس تعریف سے تم خود سمجھ سکتے ہو کہ ایمان کے بغیر کوئی انسان مسلم نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کا تعلق وہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا البتہ ہوسکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے، یا آب و ہوا اچھی نہ ملنے کی وجہ سے درخت ناقص نکلے۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ ’’مسلم‘‘ ہو۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان ہو مگر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری صحبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو۔
ایمان اور اسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں:
جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انہیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنادیتا ہے۔ جس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے اس سے وہ اس طرح بچتے ہیں جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانے سے بچتا ہے۔ اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسے شوق سے کرتے ہیں جیسے کوئی شخص دولت کمانے کے لیے شوق سے کام کرتا ہے۔ یہ اصلی مسلمان ہیں۔
جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انہیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنادے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کے لوگ ہیں لیکن بہرحال مسلم ہیں۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کے لحاظ سے سزا کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے باغی کی نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ بادشاہ کو بادشاہ مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں۔
وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل باغی ہیں۔ ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے، اس لیے اس کو کچھ اعتبار نہیں۔ ان کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اور اس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔ یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کررہا ہو جو قانون کے خلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کے قانون کا پیرو ہے۔ اس کا شمار تو بہرحال باغیوں ہی میں ہوگا۔
وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں۔ یہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں، کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔
انسانی طبقوں کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ایمان ہی پر دراصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اسلام خواہ وہ کامل ہو یا ناقص، صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں ایمان نہ ہوگا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہوگا، جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں، کواہ وہ بدتر درجہ کی بغاوت ہو یاکم تر درجہ کی۔
علم حاصل ہونے کا ذریعہ
اطاعت کے لیے ایمان کی ضرورت تو تم کو معلوم ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کی پسندیدہ قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق صحیح علم جس پر یقین کیا جاسکے کس ذریعہ سے حاصل ہوسکتا ہے؟ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا کی کاریگری کے آثار پھیلے ہوئے ہیں، جو اس بات پر گواہی دے رہے ہیں کہ اس کارخانے کو ایک ہی کاریگر نے بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ ان آثار میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اس کی حکمت، اس کا علم، اس کی قدرت، اس کا رحم، اس کی پروردگاری، اس کا قہر، غرض کون سی صفت ہے جس کی شان اس کے کاموں میں نمایاں نہیں ہے۔ مگر انسان کی عقل اور اس کی قابلیت نے ان چیزوں کے دیکھنے اور سمجھنے میں اکثر غلطی کی ہے۔ یہ سب آثار آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ان کے باوجود کسی نے کہا خدا دو ہیں اور کسی نے کہا کہ تین ہیں۔ کسی نے بے شمار خدا مان لیے۔ کسی نے خدائی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور کہا ایک بارش کا خدا ہے، ایک ہوا کا خدا ہے، ایک آگ کا خدا ہے، غرض ایک قوت کے الگ الگ خدا ہیں اور ایک خدا ان سب کا سردار ہے۔ اس طرح خدا کی صفات کو سمجھنے میں لوگوں کی عقل نے بہت دھوکے کھائے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
آخرت کی زندگی کے متعلق بھی لوگوں نے بہت سے غلط خیالات قائم کیے کسی نے کہا کہ انسان مر کر مٹی ہوجائے گا، پھر اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ کسی نے کہا کہ انسان بار بار اسی دنیا میں جنم لے گا اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے گا۔
خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے قانون کی پابندی ضروری ہے اس کو تو خود اپنی عقل سے بنانا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔
اگر انسان بہت صحیح عقل رکھتا ہو اور اس کی علمی قابلیت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو، تب بھی سالہا سال کے تجربے اور غور و خوص کے بعد کسی حد تک ان باتوں کے متعلق رائے قائم کرسکے گا اور پھر بھی اس کو کامل یقین نہ ہوگا کہ اس نے پورا پورا حق معلوم کرلیا ہے۔ اگرچہ علم اور عقل کا پورا امتحان تو اسی طرح ہوسکتا تھا کہ انسان کو بغیر کسی ہدایت کے چھوڑ دیا جاتا۔ پھر جو لوگ اپنی کوشش اور قابلیت سے حق اور صداقت تک پہنچ جاتے، وہی کامیاب ہوتے اور جو نہ پہنچتے وہ ناکام رہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے سخت امتحان میں نہیں ڈالا۔ اس نے اپنی مہربانی سے خود انسانوں ہی میں ایسے انسان پیدا کیے جن کو اپنی صفات کا صحیح علم دیا۔ وہ طریقہ بھی بتایا جس سے انسان دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے۔ آخرت کی زندگی کے متعلق بھی صحیح واقفیت بخشی۔ اور ان کو ہدایت کی کہ دوسرے انسانوں کو یہ علم پہنچادیں۔ یہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ جس ذریعہ سے خدا نے ان کو علم دیا ہے اس کا نام وحی ہے۔ اور جس کتاب میں ان کو یہ علم دیا ہے اس کو اللہ کی کتاب اور اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اب انسان کی عقل اور اس کی قابلیت کا امتحان اس میں ہے کہ وہ پیغمبر کی پاک زندگی کو دیکھے اور اس کی اعلیٰ تعلیم پر غور کرنے کے بعد اس پر ایمان لاتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ حق شناس اور حق پرست ہے تو سچی بات اور سچے انسان کی تعلیم کو مان لے گا اور امتحان میں کامیاب ہوجائے گا۔ اور اگر اس نے نہ مانا تو انکار کے معنی یہی ہوں گے کہ اس نے حق اور صداقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھودی ہے۔ یہ انکار اس کو امتحان میں ناکام کردے گا۔ اور خدا اور اس کے قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق وہ کبھی کوئی صحیح علم حاصل نہ کرسکے گا۔
ایمان بالغیب
دیکھو، جب تم کو کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا تو تم علم رکھنے والے کو تلاش کرتے ہو اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہو۔ تم بیمار ہوتے ہو تو خود علاج نہیں کرلیتے، بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔ ڈاکٹر کا سند یافتہ ہونا، اس کا تجربہ کار ہونا، اس کے ہاتھ سے بہت سے مریضوں کا شفایات ہونا، یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے تم ایمان لے آتے ہو کہ تمہارے علاج کے لیے جس لیاقت کی ضرورت ہے وہ اس ڈاکٹر میں موجود ہے۔ اسی ایمان کی بناپر وہ جس دوا کو جس طریقہ سے استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے اس کو تم استعمال کرتے ہو اور جس چیز سے پرہیز کا حکم دیتا ہے، اس سے پرہیز کرتے ہو۔ اسی طرح قانون کے معاملہ میں تم وکیل پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ تعلیم کے مسئلہ میں استاد پر ایمان لاتے ہو اور جو کچھ وہ تمہیں بتاتا ہے اس کو مانتے چلے جاتے ہو۔ تمہیں کہیں جانا ہو اور راستہ معلوم نہ ہو تو کسی واقف کار پر ایمان لاتے ہو اور جو راستہ وہ تمہیں بتاتا ہ اسی پر چلتے ہو غرض دنای کے ہر معاملہ میں تم کو واقفیت اور علم حاصل کرنے کے لیے کسی جاننے والے آدمی پر ایمان لانا پڑتا ہے اور اس کی اطاعت کرنے پر تم مجبور ہوتے ہو۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔
ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کو معلوم نہیں اس کا علم جاننے والے سے حاصل کرو اور اس پر یقین کرلو۔ خداوند تعالیٰ کی ذات و صفات سے تم واقف نہیں ہو۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے فرشتے اس کے حکم کے ماتحت تمام عالم کا کام کررہے ہیں اور تم کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ تم کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ تم کو آخرت کی زندگی کا بھی صحیح حال معلوم نہیں۔ ان سب باتوں کا علم تو تم کو ایک ایسے انسان سے حاصل ہوتا ہے جس کی صداقت، راست بازی، خدا ترسی، نہایت پاک زندگی اور نہایت حکیمانہ باتوں کو دیکھ کر تم تسلیم کرلیتے ہو کہ جو کچھ کتہا ہے، سچ کہتا ہے اور اس کی سب باتیں یقین لانے کے قابل ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے۔ کیونکہ پیغمبر کے سوا کسی اور ذریعہ سے تم کو صحیح علم حاصل ہو نہیں سکتا اور صحیح علم کے بغیر تم اسلام کے طریقہ پر ٹھیک ٹھیک چل نہیں سکتے۔

حصہ