حقوق نسواں کے نام پر زہر آلود کھیل ،بندوق کی نشست کیسی ہوتی ہے؟

188

یہ ہفتہ سیاسی ہلچل سے بھرا نظر آیا۔ پیپلز پارٹی وفاق کی پالیسیوں کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہی تھی تو تحریک انصاف سندھ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کراچی کی جانب مارچ کرتی نظر آئی۔ سوشل میڈیا پر دھمال مچا رہا۔ ظاہر تھا کہ دونوں میں کیا معاملہ چل رہا ہے۔ تیسری جانب تحریک عدم اعتماد کا الگ شور چھایا تھا جو مستقل حکومت کو دباؤ میں لیے جا رہا تھا۔ اشارے مل رہے تھے کہ ’’سلیکٹرز‘‘ کو اپنے سابقہ فیصلہ یا ’’چوائس‘‘ سے رجوع کرنا ہوگا کیوں کہ مزید اچھے خدمات گاروں کی قطار تیار ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے کم وقت میں سب سے زیادہ بدنام ہونے والے وزیر اعظم کی محبت میں بات یہاں تک گئی کہ مائی باپ امریکا کے سفیر کو نکالنے کی مہم سوشل میڈیا پر #ExpelAmericanAmbassador کے ہیش ٹیگ تلے ٹرینڈ لسٹ پرآج کھڑی کر دی گئی۔ اس ٹرینڈ اور اس کے اندر کے مواد کو دیکھ کر تو مجھے بھی یہی لگا کہ ’’اینج تے گل مک گئی اے۔‘‘ پھر مجھے یاد آیا کہ جب کوئی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کر رہا تھا تو اُن سب کو کیا کچھ نہیں کہا گیا اور اب عشق عمران میں امریکی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کا مطالبہ… واہ کیا بات ہے۔ یہ تو خالق کائنات کی جانب سے انتقامی اشارہ لگ رہا ہے جو یہ بھی بتا رہا تھا کہ اِن بڑے عشق رسول کے دعوے کرنے والے جیسوں کے دل میں نبی پاک کی عظیم الشان، عالی مقام، تاقیامت نہ کم ہونے والی حرمت کا کیا مقام تھا اور عمران خان کے مستقل تذلیل پر مبنی عہدے کے لیے کیا مقام ہے جو آج امریکی سفیر کو نکالنے کے درپے ہو گئے؟
یہی نہیں بلکہ وزیر اعظم صاحب کی دو تقاریر کے کلپس بھی میم کی صورت انتہائی وائرل رہے۔ ایک تو اخلاقیات کا زبردست درس تھا جس کے چند منٹ بعد ہی وہ خو د اُسی تقریر کے دوران سیاسی مخالفین کے لیے ایسے الفاظ بولتے سنائی دیے جو اُن کے اپنے اخلاقیات کے درس کے منافی ہیں۔ یہ کلپ بہت وائرل رہا کیوں کہ کلپ نکالنے والوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کہ ایک ہی تقریر میں انتہائی متضاد دل چسپ بیانیے موجود تھے۔ یقین مانیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف و زرداری ٹولے نے پاکستان کو بھرپور لوٹا، ہمیشہ دین، قوم، ملکی مفادات کو نقصان پہنچایا، مگر اتفا؍ق سے موجودہ حکومت 3 سال بعد بھی خود اپنے اعداد و شمار میں اُن دونوں سے کسی طور کم نہیں ہے۔ اس لیے رد عمل تو بنتا ہے۔ پھر وزیر اعظم صاحب نے دو دن بعد کراچی میں زبردست جوش خطابت کے دوران ’’بندوق کی نشست‘‘ کا ذکر کر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا موقع بنا لیا۔ لوگوں نے بندوق کی نشست بنا بنا کر خوب میم بنائیں۔ اس سے قبل بلاول بھٹو پر ’’خراب اردو‘‘ کی تنقید وہ کئی بار کر چکے تھے۔ بلاول کے جاں نثاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کی تمام خراب اردو کے کلپس نکال کر پھیلا دیے۔ ان میں وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری کی وڈیو سر فہرست رہی جس میں وہ ’’خاتم النبیین‘‘ کا لفظ ادا ہی نہ کر سکے تھے۔ کانپیں ٹانگ رہی ہیں، بندوق کی نشست، عمران باؤلا ہو گیا ہے ، NoconfidenceMotion، GameoverNiazi، میرا اعتماد عمران خان، مولانا رُلا رہا ہے، ہارا ہوا کپتان، پاکستان بچانا ہے، خوف زدہ سلیکٹڈ وزیر اعظم جیسے ہیش ٹیگ مستقل ہفتہ بھر ٹرینڈ کرتے رہے۔ اس کے جواب میں بھی #BehindYouSkipper، IStandwithImranKhan،جیسے ٹرینڈ چلائے گئے۔
پشاور میں امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش دھماکے نے جہاں سیکورٹی اداروں کی کار کردگی پر سوال اٹھایاوہاں بھارتی پشت پناہی کو بھی ابھارا گیا۔ یاد رہے کہ بھارتی الیکشن ہوں تو پاکستان میں دھماکوں کا شور ضرور سنائی دیتا ہے۔ بھارت کی بات آئی تو وہاں کی صورت حال یاد دلانا ضروری ہے۔ بھارتی ریاست کرناٹک میں طالبات کے سر پر کپڑا رکھنے )حجاب( کو اتنا بڑا قومی مسئلہ بنا دیا گیا کہ عدالت بھی اپنےملکی آئین کے مطابق بڑا فیصلہ کرنے میں تاحال ٹالنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور حجاب سے روکنے پر عارضی حکم تاحال برقرار ہے۔ جس کے ساتھ ریاست کے مختلف علاقوں میں باحجاب طالبات کالجوں اور اسکولوں میں داخل ہونے سے محروم ہو گئی ہیں اس کے نتیجے میں وہ امتحانات میں بھی شریک نہیں ہوسکی ہیں۔ اب سینکڑوں طالبات کالجوں سے غیر حاضر رہتے ہوئے عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ہائی کورٹ انہیں کالج میں حجاب کی اجازت سے منع نہیں کرے گی۔ اس میں تازہ لہر اُس وقت آئی جب کسی کالج کے طلبہ و طالبات کے واٹس ایپ گروپ میں ایک طالبہ نے پاکستانی پرچم کا اسٹیکر شیئر کر دیا۔ اس پر باقاعدہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا اور اس ناقابل برداشت عمل پر متعلقہ طالبہ کے والدین کو کالج نے نوٹس بھیج دیا جب کہ مقامی طلبہ تنظیم نے کالج سے خارج کرنے اور ساتھ ساتھ پولیس کیس کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس سے آپ وہاں کی صورت حال کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ معاملہ ہائی کورٹ میں جانے کے بعد باحجاب طالبات کو آئینی تناظر میں بجائے کوئی راحت ملنے کے اُن کے لئے مزید مسائل پیدا کر دیے گئے ہیں۔ بھارت کی مسلم خواتین اس بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ اب مسلم شناخت کو ’’کرمنلائز‘‘ کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی خواتین کالج کی یونین لیڈر آفرین فاطمہ کہتی ہیں کہ ’’مسلمانوں کی مذہبی رسومات کو مستقل نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلمانوں کو شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے خصوصاً اگر وہ کسی مسلم شناخت مثلاً داڑھی، ٹوپی، حجاب، برقعہ کے ساتھ نظر آرہے ہوں۔ مسلم شناخت ہی نہیں بلکہ بھارت میں مسلم نام بھی معاشرے میں ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ تبریز انصاری جیسی کئی مثالیں موجود ہیں، اذان پر پابندی کے کئی پٹیشن عدالتوں میں چل رہے ہیں ، گرگرام میں نماز پڑھنے سے روکنے کے علاوہ اجتماعی تشدد کی بھی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اِسی تناظر میں بھارت میں سوشل میڈیا پر عالمی یوم خواتین لبرل اقدار کے فروغ کے تناظر میں بھرپور جوش و جذبے سے مگر صرف ایک ہی دن منایا گیا۔
خواتین کے عالمی دن کی آڑ لی کر یہ ہفتہ عورت مارچ سے بھرا نظر آیا۔7 مارچ سے عورت آزادی مارچ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ بن کر ابھرا جو 10مارچ تک WomenDay کے عنوان تک لسٹ پر منڈلاتا رہا۔ ایک جانب تو بھارت میں مسکان خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے چکر میں پاکستان میں عورت مارچ کو ختم کرنے کی ایک بیانیہ کوشش بظاہر اچھا قدم تھا لیکن آپ کو سمجھنا ہوگا کہ وہ قوتیں جو لبرل اقدار کے ساتھ کھڑی ہیں ان کو یہ قبول ہی نہیں تھا کہ کسی بھی بہانے مسکان کے خطرناک نعروں کا اثر کہیں بھی پھیل سکے۔ مطلب نعرہ تکبیر کا اور حجاب اپنانے کا۔ ترکی نے ہمت کی اور استنبول کے میئر نے کئی دہائیوں سے جاری عورت مارچ پر امسال پابندی لگا دی۔ اسلام آباد، لاہور کراچی میں عورت آزادی جلسے یا مارچ منعقد ہوئے، جواب میں مذہبی جماعتوں نے بھی اپنے بیانیے کے ساتھ ریلیاں نکالی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آگ گھروں تک جا پہنچی ہے۔ ان سب ریلیوں کے باوجود پاکستان میں جس طرح لبرل اقدار و نظریات آزادی، مساوات، حقوق انسانی کے نام پر سرایت کرتے جا رہےہیں اس کے اثرات ہر سال ایسے مواقع پر ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ ’’برہنہ ہونا‘‘ فیشن ہو گیا ہے اور اب اِس کا مقابلہ چل نکلا ہے کہ ہم زیادہ اچھے انداز سے ’’برہنہ‘‘ ہو سکتے ہیں۔ )برہنہ مطلب اپنی تہذیب، روایات، اقدار کو اُتار پھینکنا( پاکستان میں 9 مارچ کو ٹوئٹر ٹرینڈ لسٹ میں ایک بار پھر LGBT کا ہیش ٹیگ سب کو جھنجھوڑتا نظر آیا۔ ایک دن قبل عورت مارچ کے ڈرامے چلتے رہے اگلے روز یہ نمودار ہوگیا۔
گزشتہ ہفتے میں خواتین کانفرنس میں شریک تھا جہاں ایک مہمان خاتون سے انٹرویو کے دوران معلوم ہوا کہ اُسی تقریب میں ہی کوئی 3 خواتین نے ہمت کر کے اُن سے اپنے بچوں کی کونسلنگ کے لیے وقت مانگا کہ ایلیٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ان کے بچے ہم جنس پرستی و الحادی گروپس میں شامل ہو گئے تھے اور اُس ماں کو آج کی تقریر سن کرکچھ پریشانی محسوس ہو رہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ یقین مانیں ایسے ہی بڑے اسکول اور کالج اس وقت لبرل اقدار کے فروغ کے ساتھ الحاد کا ایسا گڑھ بنے ہوئے ہیں کہ عام مسلمان تو ان کے ساتھ ایک منٹ بات نہیں کر سکتا تو تصور کریں کہ وہ کتنے خطرناک ہیں جو خاموشی سے نوجوانوں کے اذہان میں با آسانی یہ زہر انڈیل رہے ہیں۔ اِسی ذیل میں کراچی میں ایک پیڈسٹرین برج پر نمایاں رنگوں میں عالمی یوم خواتین کے عنوان سے مجھے یہ بینر بھی منہ چڑاتا نظر آیا کہ ’’ورکنگ وومن کو مردوں کے مساوی تنخواہ دو۔‘‘ ہمارے ایک دوست اس نعرے کی بڑی تعریف کرنے لگے کہ یہ دیکھو عورت مارچ کا بیانیہ کتنا مقبول عام اور زبان زد عام ہو رہا ہے۔ لوگ اسلام کی بنیادی روح یعنی ’’عدل‘‘ کو چھوڑ کر تخم خبیث یعنی مغرب کے نعرے ’’مساوات‘‘ بمعنی برابری کی بات عام کرنے لگے ہیں، یقیناً پھر اِس طریقے پر چلتے ہوئے کل عورت کے حق میں مکمل گواہی اور پھر غامدی کی طرح وراثت میں مرد کے برابر حصے کی بات کی جائے گی۔ یوں ’’بچے کچھے دین‘‘ کا تیاپانچہ خود نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں ہی انجام دیا جا سکے گا۔ ہمارے دوست نے اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی لاعلمی کو اگلے سوال میں چھپانے کی کوشش کی کہ ’’پھر عورت پر ظلم ہونے دیں؟‘‘ تو میں نے سمجھایا کہ بھائی کیا اسلام کسی پر ظلم کر سکتا ہے؟ وہ بولے نہیں تو میں نے سمجھایا کہ ’’عدل‘‘ کا مطلب ’’کسی کو اس کا اصل مقام دینا ہے۔‘‘ دین میں عورت کا اصل مقام ’’گھر‘‘ ہے، اسلام میں عورت کی تنخواہ کا کوئی ذکر اس لیے نہیں ملے گا کہ ایسا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا‘ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ سورۃ الحجرات کی تفسیر میں مخلوط ماحول پر کوئی حکم نہیں ملتا۔ 1400سال سے اس پر امت کا اجماع چلا آ رہا ہے کہ ’’قرن فی بیوتکن‘‘ (اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں) کا حکم تمام مسلمان خواتین کے لیے عام ہے۔ باہر نکلنے کی شرائط و قواعد الگ مقرر کر دیے گئے ہیں۔ خود مولانا مودودی علیہ رحمہ مرحوم اپنی شہرہ آفاق ’’تفہیم القرآن‘‘ میں اس آیت کی تفسیر میں واضح لکھتے ہیں کہ ’’آیت کا منشا یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے، اُس کو اسی دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہیے، گھر سے باہر صرف بوقت ضرورت ہی نکلنا چاہیے۔‘‘ یہ منشا خود آیت کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث اس کو مزید واضح کر دیتی ہیں۔ حافظ ابو بکر بَزار ؓحضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ ساری فضیلت تو مرد لُوٹ لے گئے، وہ جہاد کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ ہم کیا عمل کریں کہ ہمیں بھی مجاہدین کے برابر اجر مِل سکے؟ جواب میں فرمایا ’’جو تم میں سے گھر میں بیٹھے گی وہ مجاہدین کے عمل کو پالے گی‘‘۔

حصہ