زکوٰۃ کی اہمیت

برادرانِ اسلام! نماز کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن زکوٰۃ ہے۔ عام طور پر چوں کہ عبادات کے سلسلے میں نماز کے بعد روزے کا نام لیا جاتا ہے‘ اس لیے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ نماز کے بعد روزے کا نمبر ہے‘ مگر قرآن مجید سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کے بعد سب سے بڑھ کر زکوٰۃ کی اہمیت ہے۔ یہ دو بڑے ستون ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان کے ہٹنے کے بعد اسلام قائم نہیں رہ سکتا۔
زکوٰۃ کے معنی:
زکوٰۃ کے معنی ہیں پاکی اور صفائی کے۔ اپنے مال میں سے ایک حصہ حاجت مندوں اور مسکینوں کے لیے نکالنے کو زکوٰۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس طرح آدمی کا مال اور اس مال کے ساتھ خود آدمی کا نفس بھی پاک ہو جاتا ہے۔ جو شخص خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے خدا کے بندوں کا حق نہیں نکالتا اس کا مال ناپاک ہے اور مال کے ساتھ اس کا نفس بھی ناپاک ہے کیوں کہ اس کے نفس میں احسان فراموشی بھری ہوئی ہے۔ اس کا دل اتنا تنگ ہے‘ اتنا خود غرض ہے‘ اتنا زر پرست ہے کہ جس خدا نے اس کو حقیقی ضروریات سے زیادہ دولت دے کر اس پر احسان کیا‘ اس کے احسان کا حق ادا کرتے ہوئے بھی اُس کا دل دکھتا ہے۔ ایسے شخص سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دنیا میں کوئی نیکی بھی خدا کے واسطے کر سکے گا‘ کوئی قربانی بھی محض اپنے دین و ایمان کی خاطر برداشت کرے گا۔ لہٰذا ایسے شخص کا دل بھی ناپاک اور اس کا وہ مال بھی ناپاک جسے وہ اس طرح جمع کرے۔
زکوٰۃ ایک امتحان:
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا فرض عائد کرکے ہر شخص کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جو شخص بہ خوشی اپنے ضرورت سے زیادہ مال میں سے خدا کا حق نکالتاہے اور اس کے بندوں کی مدد کرتا ہے وہی اللہ کے کام کا کام آدمی ہے اور وہی اس لائق ہے کہ ایمان داروں کی جماعت میں اس کا شمارکیا جائے اور جس کا دل اتنا تنگ ہے کہ وہ اتنی ذرا سی قربانی بھی خداوندِ عالم کے لیے برداشت نہیں کرسکتا‘ وہ اللہ کے کسی کام کا نہیں۔ وہ ہرگز اس لائق نہیں کہ اہلِ ایمان کی جماعت میں داخل کیا جائے۔ وہ تو ایک سڑا ہوا عضو ہے جسے جسم سے الگ ہی کر دینا بہتر ہے‘ ورنہ سارے جسم کو سڑا دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ رسالت ماآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب کے بعض قبیلوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اُن سے اس طرح جنگ کی جیسے کافروں سے کی جاتی ہے‘ حالانکہ وہ لوگ نماز پڑھتے تھے اور خدا اور رسولؐ کا اقرار کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کے بغیر نماز‘ روزہ اور ایمان کی شہادت سب بے کار ہیں‘ کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
تمام انبیاؑ کی امتوں پر زکوٰۃ کی فرضیت:
قرآن مجید اٹھا کر دیکھیے آپ کو نظر آئے گا کہ قدیم زمانے سے تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ و السلام کی امتوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم لازمی طور پر دیا گیا ہے اور دین اسلام کبھی کسی نبی کے زمانے میں بھی ان دو چیزوں سے خالی نہیں رہا۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کے انبیاؑ کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد ہوتا ہے ’’ہم نے ان کو انسانوںکا پیشوا بنایا‘ وہ ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے‘ ہم نے وحی کے ذریعے سے ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تعلیم دی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔‘ (الانبیاء 73:21)
سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے ’’وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک برگزیدہ تھے۔‘‘ (مریم 55:19)
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے دعا کی کہ خدایا! ہمیں اس دنیا کی بھلائی بھی عطا کر اور آخرت کی بھلائی بھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ جواب میں ارشاد ہوا ’’میں اپنے عذاب میں جسے چاہوںگا گھیر لوں گا اگرچہ میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے‘مگر اس رحمت کو میں انہی لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو مجھ سے ڈریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ (اعراف 156:7)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم چونکہ چھوٹے دل کی تھی اور روپے پر جان دیتی تھی۔ جیسا کہ آج بھی یہودیوں کا حال آپ دیکھتے ہیں‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اتنے جلیل القدر پیغمبر کی دعا کے جواب میں صاف فرما دیا کہ تمہاری امت اگر زکوٰۃ کی پابندی کرے گی تب تو اس کے لیے میری رحمت کا وعدہ ہے ورنہ ابھی سے صاف سن رکھو کہ وہ میری رحمت سے محروم ہو جائے گی اور میرا عذاب اسے گھیر لے گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ کے بعد بھی بار بار بنی اسرائیل کو اس بات پر تنبیہ کی جاتی رہی۔ بار بار ان سے عہد لیے گئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کریں۔ (سورۃ بقرہ‘ رکوع 10) یہاں تک کہ آخر میں صاف نوٹس دے دیا گیا کہ:
’’اے بنی اسرائیل! میں تمہارے ساتھ ہوں‘ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو‘ اور میرے رسولوں پر ایمان لائو جو رسول آئیں ان کی مدد کرو‘ اور اللہ کو قرضِ حسن دو تو میں تمہاری برائیاں تم سے دور کر دوں گا۔‘‘ (المائدہ 12:5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ سو اُن کو بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ حکم دیا‘ جیسا کہ سورۃ مریم میں ہے ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے برکت دی جہاں بھی میں ہوں اور مجھے ہدایت فرمائی کہ نماز پڑھوں اور زکوٰۃ دیتا رہوں جب تک زندہ رہوں۔‘‘ (مریم 31:19)
اس سے معلوم ہو گیا کہ دینِ اسلام ابتدا سے ہر نبی کے زمانے میں نماز اور زکوٰۃ کے ان دو بڑے ستونوں پر قائم ہوا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر ایمان رکھنے والی کسی امت کو بھی ان دو فرضوںسے معاف کیا گیا ہو۔
امتِ مسلمہ پر زکوٰۃ کی فرضیت:
اب دیکھیے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں یہ دونوں فرض کس طرح ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید کھولتے ہی سب سے پہلے جن آیات پر آپ کی نظر پڑتی ہے وہ کیا ہیں؟ یہ کہ ’’یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں‘ یہ پرہیزگاروں کو دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتاتا ہے اور پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ3:2)
پھر فرمایا ’’ایسے ہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور فلاح ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔‘‘ (البقرہ۔ 5:2)
یعنی جن میں ایمان نہیں اور جو نماز اور زکوٰۃ کے پابند نہیں وہ نہ ہدایت پر ہیں اور نہ انہیں فلاح نصیب ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد اسی سورۃ بقرہ کو پڑھتے جایئے۔ چند صفحوںکے بعد پھر حکم ہوتا ہے ’’نماز کی پابندی کرو‘ زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوںکے ساتھ رکوع کرو (یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔)‘‘ (البقرہ۔ 43:2)
پھر تھوڑی دور آگے چل کر اسی سورہ میں ارشاد ہوا ’’نیکی محض اس کا نام نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف تم نے منہ کر لیا‘ بلکہ نیکی اُس شخص کی ہے جس نے اللہ اور آخرت اور ملائکہ اورکتابِ الٰہی اور پیغمبروں پر ایمان رکھا اور اللہ کی محبت میں اپنے حاجت مند رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سائلوں پر اپنا مال خرچ کیا اور (قرض یا اسیری) سے گردنیں چھڑانے میں مدد دی اور نماز کی پابندی کی۔ اور زکوٰۃ ادا کی اور نیک لوگوں وہ ہیں جو عہد کرنے کے بعد اپنے عہد کو پورا کریں اور مصیبت اور نقصان اور جنگ کے موقع پر صبر کے ساتھ راہِ حق پر ڈٹ جائیں۔ ایسے ہی لوگ سچے مسلمان ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی و پرہیزگار ہیں۔‘‘ (البقرہ۔ 2:177)
پھر آگے دیکھیے‘ سورۃ مائدہ میں کیا ارشاد ہوتا ہے ’’مسلمانو! تمہارے حقیقی دوست اور مددگار صرف اللہ اور رسولؐ اور ایمان دار لوگ ہیں‘ یعنی ایسے لوگ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا کے آگے جھکتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ اور رسولؐ اور ایمان دار لوگوں کو دوست بنائے وہ اللہ کی پارٹی کا آدمی ہے اور اللہ کی پارٹی ہی غالب ہونے والی ہے۔‘‘ (المائدہ۔ 55-56:5)
اہلِ ایمان کی نشانی… نمازو زکوٰۃ:
اس عظیم الشان آیت میں ایک بڑا قاعدہ بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو اس آیت سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ اہلِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ ان دو ارکانِ اسلام سے جو لوگ رُو گردانی کریں ان کا دعوائے ایمان ہی جھوٹا ہے۔ پھر اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ اور رسولؐ اور اہلِ ایمان کی ایک پارٹی ہے اور ایمان دار آدمی کا کام یہ ہے کہ سب سے الگ ہو کر اسی پارٹی میں شامل ہو جائے۔ جو مسلمان اس پارٹی سے باہر رہنے والے کسی شخص کو خواہ وہ باپ ہو‘ بھائی ہو‘ بیٹا ہو‘ ہمسایہ یا ہم وطن ہو‘ یا کوئی بھی ہو‘ اگر وہ اس کو اپنا دوست بنائے گا اور اس سے محبت اور مددگاری کا تعلق رکھے گا تو اسے یہ امید نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ اس سے مددگاری کا تعلق رکھنا پسند فرمائے گا۔ سب سے آخر میں اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہلِ ایمان کو غلبہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب وہ یکسو ہو کر اللہ اور رسولؐ اور صرف اہلِ ایمان ہی کو اپنا ولی‘ مددگار‘ دوست اور ساتھی بنائیں۔
اسلامی اخوت کی بنیادیں:
اب آگے چلیے۔ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار و مشرکین سے جنگ کا حکم دیا ہے اور مسلسل کئی رکوعوں تک جنگ ہی کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے ’’پھر اگر وہ کفر و شرک سے توبہ کریں‘ ایمان لے آئیں اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔‘‘ (التوبۃ 11:9)
یعنی محض کفر و شرک سے توبہ کرنا اور ایمان کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہے۔ اس بات کا ثبوت (کہ وہ واقعی کفر و شرک سے تائب ہو گئے ہیں اور حقیقت میں ایمان لائے ہیں) صرف اسی طرح مل سکتا ہے کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں۔ لہٰذا اگر وہ اپنے اس عمل سے اپنے ایمان کا ثبوت دے دیں تب تو تمہارے دینی بھائی ہیں‘ ورنہ ان کو بھائی نہ سجھو اور ان سے جنگ بند نہ کرو۔
پھر آگے چل کر اسی سورہ میں فرمایا ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں اور ان مومن مردوں اور عورتوں کی صفات یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں‘ بدی سے روکتے ہیں‘ نماز قائم کرتے ہیں‘ زکوٰۃ دیتے ہیں‘ اور خود اور رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ (التوبہ 71:9)
سن لیا آپ نے! کوئی شخص مسلمانوں کا دینی بھائی بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اقرارِ ایمان کرکے عملاً نماز اور زکوٰۃ کی پابندی نہ کرے۔ ایمان‘ نماز اور زکوٰۃ یہ تین چیزیں مل کر ایمان داروں کی جماعت بناتی ہیں۔ جو لوگ ان تینوں کے پابند ہیں وہ اس پاک جماعت کے اندر ہیں اور انہی کے درمیان دوستی‘ محبت‘ رفاقت اور مددگاری کا تعلق ہے اور جو ان کے پابند نہیں‘ وہ اس جماعت کے باہر ہیں‘ خواہ وہ نام کے مسلمان ہی کیوں نہ ہوں‘ ان سے دوستی‘ محبت اور رفاقت کا تعلق رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے اللہ کے قانون کو توڑ دیا اور اللہ کی پارٹی کو منتشر کر دیا‘ پھر تم دنیا میں غالب ہو کر رہنے کی امید کیسے کرسکتے ہو؟
اللہ کی مدد کی شرائط:
اور آگے چلیے۔ سورۂ حج میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے‘ اور اللہ زبردست قوت والا اور سب پر غالب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیںجن کو اگر ہم زمین میں حکومت بخشیں تو یہ نماز قائم کریں گے‘ زکوٰۃ دیں گے‘ نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیںگے اور سب چیزوں کا انجام خداکے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (الحج 40-41:22)
اس آیت میں مسلمانوں کو بھی وہی نوٹس دیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا۔ ابھی آپ کو سنا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کیا نوٹس دیا تھا۔ ان سے صاف فرما دیا تھا کہ میں اسی وقت تک تمہارے ساتھ ہوں جب تک تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے نبیوں کے مشن میں ان کا ساتھ دو گے۔ یعنی میرے قانون کو دنیا میں جاری کرنے کی کوشش کرتے رہو گے۔ جونہی تم نے اس کام کو چھوڑا‘ پھر میں اپنا ہاتھ تمہاری مدد سے کھینچ لوں گا۔ ٹھیک یہی بات اللہ نے مسلمانوں سے بھی فرمائی ہے۔ ان سے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر زمین میں طاقت حاصل کرکے تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دو گے اور نیکیاں پھیلائو گے اور بدیوں کو مٹائو گے‘ تب تو میں تمہارا مددگار ہوں‘ اورجس کا میں مددگار ہوں اُسے کون دبا سکتا ہے۔ لیکن اگر تم نے زکوٰۃ سے منہ پھیرا‘ اور زمین میں حکومت حاصل کرکے نیکیوں کے بجائے بدیاں پھیلائیں اور بدیوں کے بجائے نیکیوں کو مٹانا شروع کیا اور میرا کلمہ بلند کرنے کے بجائے اپنا کلمہ بلند کرنے لگے‘ اور خراج وصول کرکے اپنے لیے زمین پر جنتیں بنانے ہی کو وراثتِ اراضی کا مقصود سمجھ لیا‘ تو سن رکھو کہ میری مدد تمہارے ساتھ نہ ہوگی۔ پھر شیطان ہی تمہارا مددگار رہ جائے گا۔
مسلمانوں کو تنبیہ:
اللہ اکبر! کتنا بڑا عبرت کا مقام ہے۔ جو دھمکی بنی اسرائیل کو دی گئی تھی‘ اس کو انہوں نے خالی خولی زبانی دھمکی سمجھا اور اس کے خلاف عمل کرکے اپنا انجام دیکھ لیا کہ آج روئے زمین پر مارے مارے پھر رہے ہیں‘ جگہ جگہ سے نکالے جارہے ہیں اور کہیں ٹھکانا نہیں پاتے۔ کروڑہا کروڑ روپے کے کھتے (گودام) ان کے پاس بھرے پڑے ہیں‘ دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہیں‘ مگر یہ روپیہ ان کے کسی کام نہیں آتا۔ نماز کے بجائے بدکاری اور زکوٰۃ کے بجائے سود خواری کا ملعون طریقہ اختیار کرکے انہوںنے خود بھی خدا کی لعنت اپنے اوپر مسلط کرالی اور اب اس لعنت کو لیے ہوئے طاعون کے چوہوںکی طرح دنیا بھر میں اسے پھیلاتے پھر رہے ہیں۔ پھر یہی دھمکی مسلمانوں کو دی گئی اور مسلمانوں نے اس کی کچھ پروا نہ کرکے نماز اور زکوٰۃ سے غفلت کی اور خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو نیکیاں پھیلانے اور بدیوں کو مٹانے میں استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ اسی کا نتیجہ دیکھ کو کہ حکومت کے تخت سے اتار کر پھینک دیے گئے‘ دنیا بھرمیں ظالموں کا تختۂ مشق بن رہے ہیں اور روئے زمین میں ہر جگہ ضعیف اور مغلوب ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ کو چھوڑنے کا انجامِ بد تو دیکھ چکے‘ اب ان میں ایک جماعت ایسی پیدا ہوئی ہے جو مسلمانوں کو بے حیائی‘ فحش اور بدکاری میں مبتلا کرنا چاہتی ہے‘ اور ان سے کہہ رہی ہے کہ تمہارے افلاس کا علاج یہ ہے کہ بینک اور انشورنس کمپنیاں قائم کرو اور سود خواری شروع کر دو۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے یہ کیا تو وہی ذلت اور خواری ان پر مسلط ہو کر رہے گی جس میں یہودی مبتلا ہوئے ہیں اور یہ بھی خدا کی اُس لعنت میں گرفتار ہو جائیں گے جس نے بنی اسرائیل کو گھیر رکھا ہے۔
زکوٰۃ نہ دینے والوں کا انجام:
برادرانِ اسلام! آئندہ خطبوں میں‘ میں آپ کو بتائوں گا کہ زکوٰۃ کیا چیز ہے۔ کتنی بڑی طاقت اللہ نے اس چیز میں بھر دی ہے‘ اور آج جس رحمتِ خداوندی کو مسلمان ایک معمولی چیز سمجھ رہے وہ حقیقت میںکتنی بڑی برکتیں رکھتی ہے۔ آج کے خطبے میں میرا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ نماز اور زکوٰۃ کا اسلام میں کیا درجہ ہے۔ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں اور ان کے مولوی ان کو رات دن یہ اطمینان دلاتے رہتے ہیں کہ نماز نہ پڑھ کر اور زکوٰۃ نہ دے کر بھی وہ مسلمان رہتے ہیں‘ مگر قرآن اس کی صاف الفاظ میں تردید کرتا ہے۔ قرآن کی رُو سے کلمہ طیبہ کا اقرار ہی بے معنی ہے اگر آدمی اس کے ثبوت میں نماز اور زکوٰۃ کا پابند نہ ہو۔ اسی بنا پر حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ سے انکارکرنے والوں کو کافر سمجھ کر ان سے خلاف تلوار اٹھائی تھی۔ جیسا کہ میں ابھی آپ سے بیان کر چکا ہوں۔ صحابۂ کرامؓ کو ابتدا میں شبہ تھا کہ آیا وہ مسلمان جو خدا اور رسولؐ کا اقرار کرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے‘ ان لوگوں کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں جن پر تلوار اٹھانے کا حکم ہے‘ مگر جب حضرت ابوبکرؓ، جن کو اللہ نے مقامِ نبوت کے قریب درجہ عطا فرمایا تھا‘ اپنی بات پر اَڑ گئے اور انہوں نے اصرار کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی قسم‘ اگر یہ لوگ اس زکوٰۃ میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیا کرتے تھے‘ اونٹ کی ایک رسی بھی روکیں گے تو میں اُن پر تلوار اٹھائوں گا‘ تو بالآخر تمام صحابہؓ کے دلوں کو اللہ نے حق کے لیے کھول دیا اور سب نے یہ بات تسلیم کر لی کہ زکوٰۃ سے انکار کرنے والے پر جہاد کرنا چاہیے۔ قرآن مجید تو صاف کہتا ہے کہ زکوٰۃ نہ دینا ان مشرکین کا کام ہے جو آخرت کے منکر ہیں۔
’’تباہی ہے اُن مشرکین کے لیے جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت سے منکر ہیں۔‘‘ (حم ٰ سجدہ 6-7:41)
(جاری ہے)

حصہ