شعرو شاعری

147

ظفر اقبال
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
یہ تماشا اب سرِ بازار ہونا چاہئے
خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی
پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے
ڈوب کر مرنا بھی اسلوبِ محبت ہو تو ہو
وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے
اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے
بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں
کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے
دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریقِ کار ہونا چاہئے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہئے
…٭…
ظفرگورکھپوری
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو
یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں
بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو
نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ
میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو
اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو وسعت نہیں گھر میں
یہ سب کچھ جان کر آوارگی سے چاہتے کیا ہو
کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے
گھروندے بھی نہیں توڑے ندی سے چاہتے کیا ہو
چراغِ شامِ تنہائی بھی روشن رکھ نہیں پائے
اب اور آگے ہوا کی دوستی سے چاہتے کیا ہو
…٭…
فہیم گورکھپوری
اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہے
اک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہے
جب نہ یہ دنیا تھی قائم تو ہمارے دل میں تھا
جب سے یہ دنیا ہے قائم تو ہمارے دل میں ہے
اضطرابِ تیغ مقتل میں کوئی دیکھے ذرا
صاف ہوتا ہے گماں بجلی کفِ قاتل میں ہے
آج ان کے جور کے شکوے ہیں کیا کیا حشر میں
آج کیسی ان کی رسوائی بھری محفل میں ہے
نزع میں اے نا مرادی اس کی تو رہنا گواہ
جو مرے دل کی تمنا تھی وہ میرے دل میں ہے
قتل ہو کر بھی رہا قاتل سے قائم واسطہ
روح میری بن کے جوہر خنجرِ قاتل میں ہے
ہوشیار اے رہرو راہ محبت ہوشیار
ہر قدم پر جان کا کھٹکا تری منزل میں ہے
اے خیال ترک الفت قہر ہے مٹ جائے گی
یہ جو اک دنیائے غم آباد میرے دل میں ہے
نقص سے خالی نہیں ہوتے حسیں بھی اے فہیمؔ
دیکھ تو سوئے فلک دھبہ مہ کامل میں ہے
…٭…
ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
عنایت علی خاں
ہم ان کو لائے راہ پر مذاق ہی مذاق میں
بنے پھر ان کے ہم سفر مذاق ہی مذاق میں
پڑے رہے پھر ان کے گھر مذاق ہی مذاق میں
مزے سے ہو گئی بسر مذاق ہی مذاق میں
ہوا ہے جدے میں جو اک مزاحیہ مشاعرہ
ہم آ گئے خدا کے گھر مذاق ہی مذاق میں
لطیفہ گوئی کا جو رات چل پڑا تھا سلسلہ
ابل پڑے کئی گٹر مذاق ہی مذاق میں
اٹھو کہ اب نمازِ فجر کے لیے وضو کریں
کہ رات تو گئی گزر مذاق ہی مذاق میں
یہاں عنایتؔ آپ کو مشاعروں کی داد نے
چڑھا دیا ہے بانس پر مذاق ہی مذاق میں
…٭…
ابن صفی
یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی
دور سے دوستی نہیں ہوتی
جب دلوں میں غبار ہوتا ہے
ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی
چاند کا حسن بھی زمین سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی
جو نہ گزرے پری وشوں میں کبھی
کام کی زندگی نہیں ہوتی
دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
شام کو واپسی نہیں ہوتی
آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی
اک مرض کے ہزار ہیں نبّاض
پھر بھی تشخیص ہی نہیں ہوتی
…٭…
افتخار عارف کے
پانچ پسندیدہ اشعار

خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
…٭…
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
…٭…
دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم
…٭…
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی
…٭…
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
…٭…

عبید اللہ علیم کے اہم اشعار
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
…٭…
کاش دیکھو کبھی ٹوٹے ہوئے آئینوں کو
دل شکستہ ہو تو پھر اپنا پرایا کیا ہے
…٭…
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
…٭…
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر
اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے
…٭…
ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے
…٭…
جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی
بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی
…٭…
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
عبد الحمید عدم
ہنس کے بولا کرو بلایا کرو
آپ کا گھر ہے آیا جایا کرو
مسکراہٹ ہے حسن کا زیور
روپ بڑھتا ہے مسکرایا کرو
حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو
جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو
حکم کرنا بھی اک سخاوت ہے
ہم کو خدمت کوئی بتایا کرو
بات کرنا بھی بادشاہت ہے
بات کرنا نہ بھول جایا کرو
تاکہ دنیا کی دل کشی نہ گھٹے
نت نئے پیرہن میں آیا کرو
ہم حسد سے عدمؔ نہیں کہتے
اس گلی میں بہت نہ جایا کرو
…٭…

جنوری
افتخار عارف کے پانچ پسندیدہ اشعار
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
…٭…
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
…٭…
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
…٭…
وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا
…٭…
وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا
…٭…
فروری
افتخار عارف کے پسندیدہ اشعار
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
…٭…
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں
…٭…
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
…٭…
ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے
…٭…
خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے
…٭…
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
…٭…
مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی
…٭…
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
افتخار عارف
…٭…

حصہ