اقبال کا شاہین تو شاعری میں رہ گیا

199

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
تیزی سے نئے کوچنگ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ نئے ماحول کی کسی گھبراہٹ کا قطعی شکار نہ تھا ایک تو سال کے اندر یہ اس کا تیسرا تجربہ تھا کہ بقول ابو کے ہرجگہ غیر سنجیدہ اور انجوائمنٹ کا ماحول ہے ایسے میں پڑھائی خاک ہوگی جو کہ ہمیشہ سنجیدگی سے ہواکرتی ہے پھر دوسرے یہ کہ ہلا گلہ کبھی کبھی تو چلتا ہے مگر آے روز کی پارٹیاں‘ گانوںکے مقابلے اور لطیفہ گوئی بچوں کا کیرئیر برباد کررہی ہیں۔ایک تو ویسے ہی پینڈیمک کا ایشو ہر ایک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اوپر سے یہ کھوکھلے اللے تللے مرے کو مارے شاہ مدار ۔
ابو نے سر شبیر کی تعریف کئی افراد سے سنی تھی تھوڑے سخت اصولی ہیں مگر محنت اور خلوص سے پڑھاتے ہیں کمرشل ازم کی چھاپ ان پہ نہیں لگ سکتی‘ یہ بات اب نایاب نہیں تو کم یاب ضرور تھی خاص طور پہ کوچنگ جیسی جگہ پہ۔ لیکن عمر کا اٹھارہواں سال اور وہ بھی مرد بچے کا اپنی ایک ترنگ تو بہرحال رکھتا ہے۔
’’دیکھ لیں گے یار اور بھی تو ہوں گے ہمارے جیسے۔‘‘اس نے خود کو سمجھایا۔ بہرحال اس کے محلے کے دو اور دوست بھی وہاں موجود تھے۔ وہ خیالوں میں گم کلاس روم تک پہنچ ہی گیا۔
’’لو آگیا ایک اور نوا سوھنیا رافع ہمارا۔‘‘ حمزہ اور حارث نے بیک وقت جیسے اس کو ویلکم کیا۔ علیک سلیک کے بعد یہ ہائی الرٹ کرنے کا سگنل تھا۔
’’کیا مطلب ؟؟‘‘ رافع جیسے جان کر مزید جاننے کا خواہاں تھا۔
’’بیٹا پڑھنے تو میتھ آئے ہو مگر یہاں اسلامیات‘ مطالعۂ پاکستان‘ خاندانی عزت سب کے مزے چکھنے پڑیں گے۔‘‘ حمزہ نے الرٹ کیا۔
’’کیوں ورغلارہا ہے یار اصولی سہی مگر بہت جان لگاتے ہیں اپنا بچہ سمجھ کر ٹائٹ رکھتے ہیں ہمارے ہی بھلے کو نا۔‘‘ حارث کی اپنی رائے تھی۔
’’بہرحال ذرا بچ کے بیٹا موبائل بند رکھنا دوران کلاس۔‘‘سعد نے اپنا حصہ ڈالا ۔
’’چلو دیکھتے ہیں مارکس تو امپروو ہوجائیں گے نا۔‘‘ رافع کے سامنے اپنے بااصول والد کا چہرہ آگیا جو کبھی رات دیر سے گھر آنے پہ جو اتنی بھی دیر نہیں ہوتی تھی۔ اس کو الو‘ گدھا‘ بے ہودہ‘ آوارہ اور نہ جانے کیا کیا القابات سے نوازتے تھے اور ڈنڈا بھی کبھی ساتھ ہوجاتا تھا۔ اس کے آگے امی آہی جاتیں پھر صبح سمجھاتیں کہ ابو تمھارے کیرئیر کے لیے بہت فکر مند ہیں بڑا کمپیٹیشن ہے اب تو اور اس ٹوکنے میں تمھارا ہی بھلا ہے چندا۔ ٹچ موبائل تو اسے اب تک نہیں مل سکا تھا۔
گھر میں کمپیوٹر پہ آن لائن کلاسز کی وجہ سے سب بھائی بہنوں کی باریاں لگتیں اور اس کو تو یہ بتاتے بھی شرم آتی تھی۔ عمر کا یہ دور من موجی ہونے‘ خواب دیکھنے اور انجوائے کرنے کا ہوتا ہے مگر ڈنڈا چاہے ابا کا ہو یا استاد کا ایک بہت ضروری چیز ہے کبھی کبھی ہونا چاہیے۔ بہرحال تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آہی گیا۔ وہ بڑے باوقار انداز میں سلام کرتے ہوے کلاس میں داخل ہوئے
’’یو ویلکم ینگ مین۔‘‘ جیسے آتے ہی ان کی نظر رافع پہ پڑی۔
’’گڈ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘ تعارف کے بعد انھوں نے رافع کو بڑی عزت سے دیکھا۔ دوستوں نے جو ڈر بٹھانے کی کوشش کی تھی اس پہ پہلی ضرب لگ چکی تھی۔
’’بیٹا جی! یہ میتھ ہمارا سبجیکٹ ضرور ہے مگر ایک حساب تم کو زندگی میں وقت کا بھی کرنا ہے اپنے خدا پہ یقین اپنے وطن اور نظریے کا بھی اور اپنے والدین کے اس مان کا بھی جو انھوں نے تمہیں دیا ہے تاکہ یوم حساب آسان رہے کیوں دنیوی امتحان کے ساتھ ؟؟
’’اوکے سر !‘‘
’’کلاس میں ایک دوسرے سے تعاون اور عزت کا رویہ رکھنا خصوصا طالبات سے۔‘‘ انھوں نے ایک جانب بیٹھی تین لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا جن کے لباس پورے اور سر دوپٹے سے ڈھکے تھے۔ جو کہ کوچنگ میں کم ہی نظر آتا ہے۔
’’اور یاد رکھو شارٹ کٹ کا چکر کھڈے میں گراتا ہے ہر چیز ایک پراسیس سے ہوتی ہے۔‘‘وہ کہہ رہے تھے کچھ ایسا غلط تو نہیں۔
وہ سوچنے لگا پڑھائی تو ٹھیک ہوگی نا۔ بہرحال پڑھائی وقت کی پابندی سے شروع ہوئی اور سختی کے ساتھ جاری رہی۔ مگر اس سختی میں حقارت کے بجائے اپنائیت تھی اعتماد بحال ہونے لگا تھا۔ دردمندی کاجذبہ ٹیچر کی سختی کو ڈھانپ لیتا منتھلی ٹیسٹ میں سب کی کارکردگی پہلے سے ہو رہی تھی۔
’’سر!آج تو کچھ نہ کچھ ہلا گلہ ہونا چاہیے برابر میں کلاس میں سب خالی پڑا ہے آج وہاں سر نہیں اس لیے تھوڑی تفریح چلنی چاہیے وقفہ ضروری ہے نا۔‘‘حمزہ دل کی بات کہہ گیا۔
’’نہیں سر! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کئی سوال ہیں ذہن میں۔‘‘ رافع بے چین تھا۔
’’سر! ابو اپنے آفس کولیگ سے کہہ رہے تھے کہ کرگس کی قوم میں بھی ایسے کرگس نہیں جو انسانوں میں ہیں یہ گِدھ مردار اور دوسرے کے شکار پہ جھپٹتا ہے نا ہڈیاں تو چھوڑ دیتا ہے مگر انسانی گِدھ شکار کی ہڈیاں تک چبا جاتے ہیں‘ پھر زمین چاٹنے لگتے ہیں سیری پھر بھی نہیں ہو پاتی۔‘‘ وہ شاید چنچی کا کرایہ بڑھنے کی وجہ تلاش کرتے ہوئے ابو کی بات یاد کررہا تھا۔
’’واہ میرے راج کمار! اس سے پہلے کہ میں اس بات پر آتا تم پہنچ گئے اچھی تلاش ہے جیو۔‘‘سر شبیر یک دم خوش ہو کر بولے۔
’’سیدھی سی بات ہے بچو! حرام منہ کو لگ جائے تو سارا مزا اسی میں آتا ہے‘ نہ کراہیت باقی رہتی ہے نہ نظریہ۔ پیٹ بھر جاتا ہے نیت نہیں بھرتی‘ قے کرکے دوبارہ حرام کھایا جاتا ہے۔‘‘
’’سرجی! یہ تو پاگل پن ہوا نا پھر۔‘‘ حارث بولا۔
’’بالکل کراہیت کا نہ رہنا‘ غیرت کا مرجانا پاگلوں ہی میں تو ہوتا ہے‘ یہ جو شروع سے میں تم کو شارٹ کٹ سے منع کرتا ہوں نا اسی لیے بچو کہ یہ راستہ اسی وحشی پن کی منزل کو جاتا ہے پھر اسی کے نتیجے میں کرپشن اور پھر مہنگائی کی فصلیں اُگتی ہیں‘ عام آدمی کے لیے زندہ رہنا مشکل سے مشکل ہونے لگتا ہے کیوں؟‘‘
’’جی سر کل پیٹرول ڈلوایا تھا بائیک میں اس کا ریٹ بہت جمپ لگا رہا ہے برگر لینے کے پیسے بھی تیل ہوگئے اسی میں۔‘‘سعد نے اپنا تجربہ بیان کیا۔
’’تم خود متاثر ہورہے ہو تو بڑوں کا کیا حال ہوگا۔ جو فیملی کے سپروائزر ہیں تمھارے ابو کی بات ٹھیک ہے حمزہ آج ہم اسی پہ بات کریں گے۔‘‘
’’سر علامہ اقبال کا شاہیں تو شاعری میں رہ گیا کرگس اور گِدھ کی نسل آلودگی اور مردہ دلی بڑھا رہی ہے۔‘‘یہ علیزہ کی آواز تھی۔
’’شکر ہے چپ کا روزہ ٹوٹا‘ گرل چلڈرن کی طرف سے بھی مگر ایسا قطعی نہیں ہے بیٹا‘ شاھین اب بھی اسی جہان میں زندہ ہے کم کم ہی سہی۔ مگر اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بتاؤ یہ اپنے علامہ اقبال کو پڑھا ہے؟‘‘ سر شبیر نے جواب میں سوال ڈال دیا۔
’’جی سر لب پہ آتی ہے۔‘‘
’’سر ہمدردی…‘‘
’’سر جی وہ مکڑا اور مکھی۔‘‘
کئی اطراف سے جواب آنے لگے۔
’’بس یہی تو بات ہے بچے ہم چند بچوں کی نظموں سے آگے اقبال کی شاعری کو جانتے نہیں۔ اصل میں شاھین ایک علامت ہے‘ اس کی غیرت مند صفات اقبال مسلمان میں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کی پہلی صفت کسی کو معلوم ہے؟‘‘ گفتگو کا ماحول بہت دلچسپ ہونے لگا تھا۔
’’سر! وہ چٹانوں پہ بسیرا کرتا ہے گھر نہیں بناتا۔‘‘ایک جواب آیا۔
’’یعنی پراپرٹی نہیں رکھتا رینٹ پہ رہتا ہے۔‘‘ سر سمیت پوری کلاس ہنسنے لگی‘ سختی کو بریک لگ گیا دوستی کا ماحول بن رہا تھا۔
’’دیکھووہ اس دنیا کو عارضی قیام گاہ سمجھتا ہے‘ اس میں دل لگانے کے بجائے اعلیٰ مقاصد کی طرف پرواز کرتا ہے پھر اپنا شکار خود کر کے کھاتا ہے یعنی غیرت سے حلال کھاتا ہے۔ بلندی پہ پرواز کرتا ہے اور اسی سطح سے اپنا شکار دیکھ لیتا ہے‘ دور اندیشی نوٹ کرو۔‘‘ سر اوصاف گنا رہے تھے۔
’’پھر پرواز سے تھک کر نہیں گرتا شاہین۔‘‘رافع بول پڑا۔
’’شاباش ٹائٹ شیڈول میں جدوجہد کرتا ہے‘ کوشش پیہم۔‘‘
’’اس کا بالکل الٹ کردو تو کرگس یا گدھ مردار کھانے والا۔‘‘ سعد نے حصہ لیا۔
’’لیکن سر اب جس دور میں ہم ہیں وہاں شاعری‘ شاہین سب کتابوں میں ہیں۔ گِدھ البتہ بقول رافع کے والد بہت ہیں فیسیلٹیز اور شارٹیج کی ریسلنگ ہو رہی ہے‘ پیٹرول مہنگا ہے اور پیزا‘ برگر‘ بروسٹ کارنر گلی گلی عام‘ پتا نہیں ہم اوپر جا رہے ہیں یا نیچے۔‘‘ حارث کا شکوہ جیسے سب کے دل کی بات تھی۔
’’ہم بہرحال برائی کی مذمت اور کچھ ہی لوگوں کی مزاحمت کی وجہ سے معلق ہیں نیچے نہیں دھنسے۔‘‘ سر نے گویا پیمائش کرکے احوال بتایا۔
’’اقبال نے ہی کہا ہے کہ فیصلہ تیرے ہاتھوں میں دل یا شکم ہشیار خبردار ہم کو خصوصاً تمہاری جنریشن کو لذتوں کے نت نئے جال میں پھنسا کر شکم سے سوچنے پہ مجبور کیا جا رہا ہے ادھر اسی حساب سے بھوک کا تناسب بڑھ رہا ہے‘ آج کے دور کایہی امتحان ہے مانو گے تم۔‘‘
’’جی بالکل سر!‘‘ ساری کلاس کورس میں بول پڑی۔
’’بس یہیں سے حرام کے راستے کھلنے آسان ہوتے ہیں ترجیح لذت رہ جاتی۔‘‘
’’اور لذت میں مست ہونا کرگس بناتا ہے اور غیرت اور عزت کو ترجیح دینا‘ روکھی سوکھی کھا لینا شاہین کا وصف ہے۔‘‘ سر نے بات آگے بڑھائی۔
’’اور شاھین کم سہی‘ زندگی کی اسی فضا میں محو پرواز ہے اسی جہان میں بلکہ اسی وطن میں بادِ مخالف تیز و تند سہی نہیں پروا اسے۔‘‘
’’مثلاً سر؟‘‘ حمزہ بیتابی سے بولا۔
’’میں سمجھا جب کرکٹ ٹیم جیتتی ہے تو ہم میں گنتی کی محنت اور لگن کو سلام کرتے ہیں۔‘‘ رافع سمجھنے لگا تھا۔
’’بالکل درست‘ مگر یہ بہت چھوٹی مثال ہے کھیل کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اقبال کا خواب تعبیر بننے میں کتنی جدوجہد کتنی قربانیاں مانگتا ہے جو اب ایک خیال و خواب لگتی ہیں مگر یہ معجزہ نما واقعہ ہوکے رہا۔ قیامِ پاکستان حیرت انگیز کامیابی شاہیں صفات کے بغیر کیسے ہوسکتی تھی۔‘‘ سر کا سوال فطری سا تھا۔
’’جی سر! یہ تو ہے کہ بڑی قربانیاں دے کر ہمارا وطن بنا ہے۔‘‘ سعد کی آواز کی تائید سب نے کی۔
’’چلو یہ سب نوٹ کرلو‘ ٹائم اوور ہونے لگا ہے… اقبال کے شاہیں کی کہانی اگلے ہفتے پہ رکھتے ہیں میتھ کا حرج نہ ہونے پائے‘ آج کے پوائنٹس اچھے رہے ذہن میں رکھنا اس کو لے کر کہانی شروع ہوگی۔‘‘
دوستانہ ماحول میں سب توجہ سے سنتے رہے اور ہاں پکنک کا پروگرام بھی ان شاء اللہ رہے گا‘ آگے مگر پہلے شاہین کی کہانی اوکے اللہ حافظ بچو!‘‘
شوخ عمر میں سنجیدگی بری تو نہیں ہوتی یہ عمومی سوچ ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ نوجوان ہر وقت قہقہے لگاتے‘ مستیاں کرتے اور مزے لیتے رہیں
ہر تنظیم‘ ہر ترتیب اور ہر تحریک میں یہ گرم خون‘ یہ نو عمر ایندھن کا کام دیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کے ہر دور میں یہی ثابت کیا ہے جوان خون کو راہنمائی مل جائے‘ منزل آسان اور کامرانی مقدر بن جاتی ہے اور اگر بدقسمتی سے یہ نسل گمراہی کے راستوں پر چل پڑے تب ناکامی کی گہری کھائیاں قوموں کا نصیب بن جاتی ہیں۔
بہرحال ایک ہفتہ ٹف قسم کی پڑھائی کے بعد کہانی کا دن آہی گیا۔ سب من موجی دور کے جواں سال اسٹوڈنٹ جاننے کے لیے سنجیدہ اور بے تاب تھے یہ مثبت تبدیلی کا آغاز تھا‘ جو سر شبیر کے لیے اچھا سائن تھا کہانی شروع ہوچکی تھی۔
’’ہاں بھئی! تم لوگوں نے ایک غلط‘ مگر اہم بات کہی کہ شاہیں شاعری میں گم ہے‘ ایک واہمہ بن گیا یعنی آس پاس کہیں نہیں ملتا۔ مگر وہ اب بھی محو پرواز ہے۔ رافع کے ابو کی کہی ہوئی بات اگر سچ مان لی جائے تو یہ بھی سچ ہے کہ شاہیں کا سب سے بڑا سپروائزر کہہ رہا تھا کہ انسانوں میں اب بھی اقبال کے شاہین سے زیادہ وصف رکھنے والا شاہین یہیں‘ اسی وطن میں موجود رہا ہے‘ ہم شاہ بازوں کی دنیا میں کوئی نہیں ایسا۔‘‘ سر انکشاف کر رہے تھے یا بریکنگ نیوز دے رہے تھے۔
’’ساری کلاس متحیر بیٹھی تھی واقعی سر…!‘‘
’’کیا یہ حقیقت ہے؟‘‘
’’یقین نہیں آتا…‘‘
اس قسم کے جملے اطراف سے آئے۔
“بالکل حقیقت بڑا سچ‘ کہانی غور سے اور پوری سنو سب سمجھ میں آئے گا۔‘‘
’’دیکھو غیرت وہ جذبہ ہے جو انسان کو شاہین بنا سکتا ہے‘ پھر تعلیم خلوص اور درد مندی کے جوہر اس کو زندگی عطا کرنے والا مسیحا بنادیتے ہیں‘ یہ آج بھی ہے‘ اسی وطن میں جہاں کرگسوں کی بہتات ہے۔‘‘
’’مگر سر! غیرت کے نام پہ تو عورتوں کے قتل سنے ہیں‘ زندگی کیسے عطا ہوتی ہے۔‘‘ ثمن اچانک بول پڑی۔
’’ہاں بچی! یہ قیمتی لفظ جرم کا محرک بنا دیا گیا جو نری جہالت ہے‘ اس میں تمھارا کیا قصور خبر چلانے والوں کی عقل کا فتور ہے جو اندھا دھند جھوٹی انا کو غیرت کا نام دے دیتے ہیں… یہ اور ہی انمول دولت ہے۔ بہرحال ہمارے وطن ہی کی نہیں مسلم دنیا کی ہزار سالہ تاریخ کا بدترین دور وہ تھا جب ملک دولخت ہوا‘ اس کے اسباب کیا تھے پھر کبھی بات کریں گے مگر تب قوم جس سوگ میں ڈوبی میرے بزرگ بتاتے ہیں اور تاریخ بھی کہتی ہے کہ ہر ایک روتا تھا تب ایک شاھین صفت نوجوان اٹھا‘ غم نے اس کو توڑا نہیں بلکہ کچھ کرگزرنے کا عزم اور یہی غیرت اس کو چٹانوں کی مشقت پہ آمادہ کرگئی۔ وہ یورپ کی آرام دہ اور رنگین زندگی چھوڑ کر وطن واپس آگیا یہاں جدھر کے نوجوان کہتے ہیں کہ ’’یہاں رکھا ہی کیا ہے آخر؟‘‘ یہ جملہ بہت سنتے رہتے ہیں نا سب لوگ‘ مگر یہاں وہ رکھا ہے لاڈلے جو پوری مسلم دنیا میں نہیں۔
اس عزم کو لے کر اس درویش غیور نے بڑی جان توڑ محنت کی یہ اتنا آسان نہ تھا میرے بچو! اقبال کے شاھین سے بھی اچھا تھا اس میں وطن کی نسلوں کو زندگی دینے کا ہنر بھی تھا اس نے اقبال کو پڑھ کے جذب کیا تھا نا…
غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ ودو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا
سر شبیر نے مسکراتے ہوئے کلاس میں استہفامیہ نظر ڈالی … پہچان گئے؟
’’کیوں نہیں سر! وہ شاھین سے بڑے شاہین ہمارے محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان ہیں جن کا ابھی پچھلے دنوں انتقال ہوا ہے۔‘‘ رافع سرے تک پہنچ گیا۔
’’سر ہم بھی کئی آوازیں بیک وقت آنے لگیں۔‘‘

حصہ