ہم کیوں مسلمان ہوئے

161

عبدالرحمن (بھارت)
ذیل کا روح پرور اور معلومات افزا مضمون ہندوستان کے تمکین آفاقی نے مرتب کیا اور کتابچے کی صورت میں مکتبہ اسلامی دہلی نے شائع کیا۔ دونوں کے شکریے کے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جارہا ہے۔
…٭…
جماعتِ اسلامی حلقہ آندھرا پردیش کے پہلے اجتماع ارکان کے موقع پر ایک کشیدہ قامت نوجوان پر نظر پڑھتے ہی میں ٹھٹک کر رہ گیا۔ بڑی بڑی سوچ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں‘ سیاہی مائل گہرا گندمی رنگ‘ کلین شیو اور قمیص پتلون میں ملبوس ان صاحب کو دیکھ کر مجھے الجھن سی ہونے لگی۔کون ہو سکتے ہیں یہ صاحب؟ میں نے سوچا۔ یہ اجتماع ارکان ہے تو کیا یہ صاحب بھی رکن جماعت ہیں؟ مگر داڑھی؟ اور اگر یہ صاحب رکنِ جماعت نہیں ہیں تو پھر غیر متعلق لوگوں کی یہاں موجودگی کا کیا مطلب؟ اونہہ! خیر کسی سے دریافت کر لوں گا اور پھر میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ دوسری بار جب میں ناشتے سے فراغت کے بعد چائے کے لیے عمارت کے صحن میں لگے ہوئے ٹی اسٹال کی طرف جارہا تھا تو پھر ایک بار انہی صاحب پر نظر پڑی۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کسی گہری سوچ میں غرق تنہا کھڑے ہوئے تھے۔ مجھے ایک بار پھر الجھن ہونے لگی کہ آخر یہ کون ہو سکتے ہیں؟ چنانچہ میں ٹی اسٹال کی طرف جانے کے بجائے ان کے پاس پہنچ گیا اور وہ میری طرف متوجہ ہوئے۔
’’السلام علیکم!‘‘ میں ان کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا۔
’’وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔‘‘ ان کے ہونٹوذں پر ایک بااخلاق مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔
’’جنابِ والا کی تعریف…‘‘ میں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’میں عبدالرحمن ہوں…… کا رہنے والا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنا تعارف کروایا۔ اگرچہ وہ صاف اردو بول رہے تھے لیکن لب و لہجہ کچھ اجنبی سا تھا‘ جیسے اردو ان کی مادری زبان نہ ہو۔ میری دلچسپی مزید بڑھ گئی۔
’’آپ…؟‘‘ میں نے استفہامی انداز میں جملے کو نامکمل چھوڑ دیا۔
وہ میرا مطلب سمجھ کر مسکرائے۔ ’’میں رکنِ جماعت ہوں۔‘‘ اور ان کے اس جواب کے ساتھ ہی بے ساختہ میری نظریں ان کی ٹھوڑی پر مرکوز ہو گئیں اور میں نے دیکھا کہ حقیقتاً وہ کلین شیو نہیں ہیں۔ ان کی ٹھوڑی پر چار پانچ بال تھے جو اگرچہ مضحکہ خیز لگ رہے تھے لیکن غالباً اتباعِ سنت کے جذبے کے تحت انہوں نے انہیں ہی بطور ڈاڑھی رکھ چھوڑا تھا۔ یہ بال دور سے بالکل نظر نہ آتے تھے‘ جس کی وجہ سے وہ کلین شیو لگتے تھے۔ دراصل ان کے چہرے پر بالوں کی فطری روئیدگی ہی نہیں تھی۔
’’آپ کتنی مدت سے جماعت اسلامی کے رکن ہیں؟‘‘ میں نے گفتگو کو طول دیا۔
’’دس سال سے۔‘‘ انہوں نے اطمینان سے جواب دیا۔
’’دس سال…‘‘ مجھے حیرت ہوئی ’’مگر آپ کی عمر؟ میرا مطلب ہے کہ آپ کی عمر کچھ زیادہ نہیں۔‘‘
’’زیادہ کیوں نہیں۔‘‘ وہ مسکرائے۔ ’’میری عمر 33 سال ہے‘ سولہ سال کی عمر میں مسلمان ہوا اور تئیس سال کی عمر میں جماعت اسلامی کا رکن بنا۔ اب یہ اور بات ہے کہ ڈاڑھی مونچھ نہ ہونے کی وجہ سے پچیس‘ چھبیس سے زیادہ کا نہیں لگتا۔‘‘ انہوں نے ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا کر میری الجھن کو رفع کردیا۔
’’مسلمان ہوا‘ یعنی کیا مطلب؟‘‘ میں نے مزید وضاحت چاہی۔
’’ارے آپ مسلمان ہونے کا مطلب نہیں سمجھتے؟‘‘ وہ کھکھلا کر ہنس پڑے۔ ’’بھائی! میں دراصل نو مسلم ہوں۔ میرا سابق نام سوریا نائیڈو ہے۔ ہندو مت کا پیرو تھا اور اب الحمدللہ عبدالرحمن ہوں… رحمن کا بندہ۔‘‘ انہوں نے بے تکلفی سے بتایا۔
’’نو مسلم!‘‘ میرے قلب میں محبت کی ایک لہر سی اٹھی اور مجھے بے ساختہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آگیا کہ اگر تم اپنے بھائی سے محض اللہ کے لیے محبت کرتے ہو تو اس پر اپنی محبت کا اظہار بھی کر دو (اوکما قال) اور میں نے معانقے کے لیے دونوں ہاتھ پھیلا دیے اور پھر ہم گرم جوشی سے بغل گیر ہو رہے تھے۔ ہمارے جسم ہی ایک دوسرے کے وجود کو محسوس نہیں کر رہے تھے بلکہ ہمارے قلوب کی دھڑکیں بھی جیسے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو گئی تھیں۔
’’آیئے چائے پی لیں۔‘‘ میں ان کا ہاتھ تھامے ٹی اسٹال کی طرف بڑھا اور پھر ہم چائے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ اجتماع کی کارروائی کا اعلان ہوا اور ہم لپک کر اجتماع گاہ میں پہنچ گئے۔ دوران اجتماع آپس میں گفتگو کرنے کا تو سوال ہی نہیں تھا‘ البتہ شام میں نماز عشا کے بعد پھر ایک بار ہماری ملاقات ہوگئی اور میں بات چیت کرتا ہوا انہیں اپنی قیام گاہ میں لے آیا۔ ایک نئے رفیق کو میرے ساتھ دیکھ کر لیٹے اور بیٹھے ہوئے رفقا ہمارے پاس آگئے میں نے سب سے عبدالرحمن کا تعارف کروایا۔ تعارف کے بعد جب سب لوگ بے تکلفی سے بیٹھ گئے تو میں نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب ذرا تفصیل سے بتایئے کہ آپ کیوں مسلمان ہوئے اور پھر مسلمان ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے رکن کیسے بنے اور اپنے اس ایمان و اسلام کی کیا قیمت آپ کو ادا کرنی پڑی؟
تفصیل سے؟ میرے بھائی یہ ایک طویل کہانی ہے اور کافی وقت چاہتی ہے۔ البتہ آپ چاہیں تو میں مختصراً اشارے کرتا چلاجائوں گا۔ آپ خود کہانیاں لکھتے ہیں۔ آپ میری اس کہانی کے خلا کو پُر کرلیں اور یوں انہوںنے اپنے ماضی کے اوراق الٹنے شروع کردیے۔
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں میرا اصل نام سوریا نائیڈو تھا۔ میرے والد ایک پجاری تھے۔ میں بچپن ہی سے کافی سنجیدہ اور خاموش قسم کا لڑکا تھا اور غالباً اسی وجہ سے میری بچپن ہی میں میرے والد نے یہ طے کر دیا تھا کہ ان کے بعد میں ہی ان کا روحانی جانشین ہوں گا۔ مجھ سے بڑے دو بھائی تھے لیکن والد صاحب ان کی فطرت سے اس لیے مایوس تھے کہ ان دونوں کو مذہبی امور سے بالکل دل چسپی نہ تھی۔ تیرہ سال کی عمر میں جب کہ میں ساتویں جماعت میں پڑھ رہا تھا‘ پہلی بار اپنے مذہب سے متعلق میرے قلب و ذہن میں بے اطمینانی پیدا ہوئی۔ والد صاحب ہی میرے اتالیق تھے اور ان کی موجودگی میں مذہبی آداب و رسوم سیکھنے کے لیے مجھے مندر ہی میں رہنا پڑتا تھا۔ والد صاحب گھنٹوں اپنی پوجا میں مصروف رہتے اور میں غور و فکر میں کھویا رہتا۔ یہ بات میرا دل قبول کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہوتا تھا کہ انسانی ہاتھوں کے تراشیدہ یہ بت ہمارے خدا ہو سکتے ہیں۔ یعنی انسان خود جن بتوں کا خالق تھا وہی بت خود اس کے خالق و معبود کہلانے لگیں؟ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ میری بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی گھتی تھی جسے سلجھانے کی ہر کوشش کے بعد میں یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ مزید الجھ گئی ہے اور مجبوری یہ تھی کہ کسی کے سامنے آزادانہ طور پر میں اپنی ان الجھنوں کا اظہار بھی نہیں کرسکتا تھا۔
مندر میں میرے والد کے پچاس ساٹھ شاگرد رہتے تھے۔ ایک بار خیال ہواکہ ان سے بحث مباحثہ کرکے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کروں لیکن پھر یہ سوچا کہ ان سے گفتگو کرنے کے بجائے کیوں نہ والد صاحب ہی سے پوچھ لوں۔ وہی تو میرے اور ان تمام لوگوں کے استاد اور گورو تھے اور پھر ایک دن جب کہ مندر میں والد صاحب اور میں ہی تھے‘ اس موضوع پر میں نے پہلی بار اظہارِ خیال کیا۔ پہلے پہل جب والد صاحب کو میرے خیالات کا علم ہوا تو وہ نہ صرف یہ کہ چونک پڑے بلکہ خوف اور اندیشے سے انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی میرے ان ’’کافرانہ‘‘ خیالات کو سن تو نہیں رہا۔ والد صاحب کا اندیشہ اس لحاظ سے بہرحال درست تھا کہ چونکہ ان کے بعد مجھے ہی اس مندر کا پچاری ہونا تھا‘ اس لیے اگر کسی کو میرے ان خیالات کا پتا چل جاتا تو بڑا فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔ بہرحال جب والد صاحب کو اطمینان ہو گیا کہ مندر میں ان کے اور میرے علاوہ کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہے تو انہوں نے بڑی جاںسوزی اور محبت سے میری اس ذہنی پھانس کو نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے وید اور اپنشدوں کے حوالے سے فلسفیانہ انداز میں اس بت گری اور بت پرستی کی توجیہہ پیش کرنے کی کوشش اور میں خاموشی سے سنتا رہا۔ والد صاحب کو خود بھی اچھی طرح اندازہ تھا کہ اگرچہ عمر کے اعتبار سے میں بچہ ہوں لیکن ذہنی طور پر بہرحال بچہ نہیں ہوں۔ وہ مجھے سمجھانے کے لیے خود بھی الجھتے چلے گئے۔ میری خاموشی انہیں اور بھی بوکھلائے دے رہی تھی۔ اور یہ احساس غالباً انہیں پریشان کیے دے رہا تھاکہ انہی کا ایک نوعمر بیٹا اپنے عجیب و غریب سوالات کے ذریعے ان کے فلسفے اور آبائی ذہنی تصورات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فلسفیانہ الجھاوئوں سے وہ خود ہی کچھ دیر میں اکتا گئے اور آخر میں انہوں نے مجھے نصیحت کرنے کی کوشش کی کہ میں اس قسم کے کافرانہ خیالات سے اپنے دل و دماغ کو بچائوں ورنہ میں گمراہ ہو جائوں گا۔ یہ کہہ کر والد صاحب نے گویا خود اپنی شکست کا اعتراف کر لیا تھا کہ وہ علمی اور عقلی طور پر مجھے مطمئن کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ میں خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا۔
دوسری بار جب کہ پنڈت جی کلاس روم میں رامائن کے ایک واقعہ سے متعلق لیکچر دے رہے تھے‘ میں نے اٹھ کر سری رام چندر جی کے اپنے بچوں کے معاملے میں غیر عادلانہ رویے پر اعتراض کر دیا کہ رام چندر جی اگر دیوتا ہیں تو پھر اس ناانصافی کی توقع ان سے کیسے کی جاسکتی تھی؟ جب کہ ایک عادم آدمی کے معاملے میں بھی یہ رویہ سخت قابلِ اعتراض ہے۔ پنڈت جی نے میرا اعتراض سن کر بجائے اس کے کہ کوئی عقلی اور علمی توجیہہ پیش کرتے‘ مجھے دھمکانے کی کوشش کی کہ اگر میں یوں ہی اعتراض کرتا رہا تو میرا دھرم بھرشت ہو جائے گا وغیرہ اور میں دل ہی دل میں ہنس پڑا۔
تیسری بار شری کرشن جی سے متعلق میں نے پنڈت جی کے سامنے اعتراض کر دیا کہ آپ کہتے ہیں کہ شری کرشن جی دیوتا تھے چلیے مان لیتا ہوں کہ وہ دیوتا ہی تھے‘ لیکن پھر ان کا جو کردار گوپیوں اور دوسری عورتوں کے معاملے میں ہمارے سامنے آتا ہے‘ اس سے انہیں دیوتا ماننے والوں کو کیا سبق حاصل کرنا چاہیے؟ کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ میں یا کوئی اور نوجوان ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی کردار اور طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے؟ میری بات سن کر پنڈت جی کا چہرہ فق ہو گیا اور بڑی دیر تک سوچنے کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ دیوتا یا بزرگ جو غلطیاں کرتے ہیں وہ دراصل غلطیاں ہوتی ہی نہیں نہ ان غلطیوں کی اتباع کرنا چاہیے اور نہ ان پر تنقید۔ پنڈت جی کی اس عجیب تاویل سے میرے ہونٹوں پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ آگ بگولہ ہو گئے۔ بڑی دیر تک جوش اور غصے میں نہ جانے کیا کیا بکتے جھکتے رہے اور پھر آخر میں انہوں نے چیلنج کے انداز میں مجھے اس بات کا مشورہ دیا کہ میں اپنشدوں کا مطالعہ کروں۔ میں نے سعادت مندی سے کہا کہ ٹھیک ہے۔ آپ ہی کوئی مستند تلگو ترجمہ فراہم کر دیں اور انہوں نے بخوشی اپنی آمادگی کا اظہار کر دیا اور پھر اسی شام انہوں نے میرے ہاتھوں میں ایک کتاب تھما دی اور میں اسے گھر لے آیا اور کافی رات تک اس کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ دورانِ مطالعہ ایک فقرے پر میری نگاہ جم کر رہ گئی ’’بھگوان ایک ہی ہے اور ایک کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘ دوسرے دن مندر میں‘ میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ فلاں کتاب میں تو لکھا ہے کہ بھگوان ایک ہی اور ایک کے علاوہ کچھ نہیں جب کہ آپ اور دوسرے لوگ ہزاروں خدائوں کے پرستار ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرما دیجیے۔والد صاحب نے جزو اور کُل کی فلسفیانہ بحث شروع کر دی اور جب انہوں نے دیکھا کہ میری آنکھوں میں اطمینان کے بجائے مزید سوالات کی بے چینی کروٹیں لے رہی ہے تو وہ یک بارگی خاموش ہوگئے۔ مجھے ان کی بے بسی پر رحم آگیا۔ اسی دن اسکول میں‘ میں نے پنڈٹ جی سے بھی یہی سوال کیا تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ میری بے زاری بڑھتی جارہی تھی۔ انہی دنوں میں نے ہندو مت سے متعلق تمام لٹریچر کامطالعہ کر لیا اور بجائے اس کے کہ میری تشنگی ہوتی‘ میری پیاس اور بڑھ گئی۔
پنڈت جی سے ایک بار میں نے ذات پات کی غیر عادلانہ تفریق و تقسیم کے موضوع پر بھی گفتگو کی۔ برہمن‘ کھتری‘ دیش اور شودر۔ کسی پر عزت و عظمت کا تاج اور کوئی پیدائشی ذلیل اور حقیر…؟ انسانوں کے درمیان یہ اونچ نیچ اور اس قدر غیر فطری درجہ بندی؟ غرضیکہ میں تنہائیوںمیں گھنٹوں اسی قسم کے موضوعات پر غور و فکر کیا کرتا اور پھر اپنے نتائجِ فکر کی بنیاد پر کبھی والد صاحب سے اور کبھی پنڈت جی اور دوسرے مذہبی رہنمائوں سے بحث و مباحثے کیا کرتا اور انہیں اس درجہ زچ کیا کرتا کہ وہ اپنی زبان سے اس بات کا اعتراف کرنے لگے کہ وہ میرے سوالات کے علمی جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ اب لوگ پہلے کی طرح مجھے فلسفیانہ چنیں چناں میں الجھانے کی کوشش کرنے سے خود ہی بچنے لگے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے جذبۂ تحقیق و تجسس کی وجہ سے میں نے پورے مذہبی لٹریچر کو کھنگال ڈالا تھا۔ اب میں وید‘ بھگوت گیتا اور اپنشدوں کے اشلوکوں ہی سے ان کا رد کرنے لگا تھا۔ مجھے کتنے ہی سنسکرت اشلوک زبانی یاد ہو گئی تھے۔ علمی اعتبار سے میری تیاری اس درجہ کی ہوگئی تھی کہ اچھے خاصے پنڈٹ اورمذہبی رہنما مجھ سے گفتگو اور بحث مباحثہ کرنے سے کترانے لگے تھے۔ میں مختلف طریقوں سے انہیں دعوتِ مبارزت دیتا اور وہ جھنجھلا کر خاموش ہو جاتے۔
ایک روز میں نے اپنے والد صاحب کی زبان سے بھی اعترافِ حق کروا کر چھوڑا کہ خدائے واحد کی پرستش ہی عقلی و علمی طریقہ ہے اور خود ویدوں سے بھی یہی ثابت ہے اورجب میں نے ان سے پوچھا کہ جانتے بوجھتے آپ بتوں اور ایک سے زائد خدائوں کی پرستش کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے وہی جواب دیا جو ہرزمانے کے مشرک دیتے رہے ہیں کہ باپ دادا سے یونہی چلا آرہا ہے اور پھر شرک اور بت پرستی آج اس درجہ عام ہے کہ کوئی شخص اس کے خلاف کوئی دوسری بات سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں اور اگر کوئی ایسا کر بیٹھے تو پھر اس کا جینا دشوار ہو جائے۔ ان کا اشارہ دراصل میری طرف تھا اور وہ مجھے ڈھکے چھپے انداز میں دھمکا رہے تھے کہ خبردار کوئی جرأتِ رندانہ نہ کر بیٹھنا۔ میں خاموش ہو گیا۔
اب تک جو باتیں عرض کر چکا ہوںیہ دراصل میرے قبولِ اسلام کا پس منظر ہے اور اب میں یہ بات عرض کروں گا کہ کس مرحلے پر میں اسلام کی طرف متوجہ ہوا۔ میں بچپن ہی سے مصوری اور پینٹنگ کا دلدادہ رہا ہوں۔ زمانۂ طالب علمی میں مجھے ڈرائنگ سے دیوانگی کی حد تک لگائو تھا۔ انہی دنوں ہمارے اسکول میں ایک نئے مسلمان ڈرائنگ ماسٹر صاحب تبدیل ہو کر آئے۔ ڈرائنگ سے میری غیر معمولی دلچسپی کے پیش نظر ایک تیچر نے نئے ڈرائنگ ماسٹر صاحب سے میری سفارش کر دی کہ وہ مجھ پر خصوصی توجہ دیں۔ بعد میں اس ٹیچر نے مجھے بتا بھی دیا کہ میں نے ڈرائنگ ماسٹر صاحب سے تمہاری سفارش کر دی ہے اور انہوں نے خصوصی توجہ کا وعدہ کیا ہے اور تمہیں گھر پر ملنے کے لیے کہا ہے۔ چنانچہ اس ٹیچر کی ہدایت کے مطابق شام کو میں ان کے گھر جا پہنچا۔ وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔ اگرچہ میں پہلی بار ہی ان سے مل رہا تھا لیکن میری آواز سنتے ہی وہ فوراً باہر آئے اور بڑی شفقت و محبت سے میرا ہاتھ تھام کر اندر لے گئے۔ وہ تنہا ہی تھے۔ غالباً ان کی بیوی بچے کچھ دن بعد آنے والے تھے انہوں نے لوٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھ دھو لیجیے اور کھانے میں شریک ہو جایئے۔ ’’جی…؟‘‘ مجھے حیرانی کا شدید جھٹکا لگا۔
’’کیوں بھئی؟‘‘ وہ مسکرائے۔ ’’جی… میں…میں دراصل ہندو ہوں۔‘‘ مجھے خیال ہوا کہ شاید وہ مجھے مسلمان سمجھ رہے ہیں۔
’’ہاں‘ ہاں مجھے معلوم ہے۔ سوریا نائیڈو تمہارا نام ہے۔‘‘
’’پھر میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر کیسے کھا سکتا ہوں؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’کیوں نہیں کھا سکتے؟‘‘ انہوں نے بھی حیرت سے کہا ’’کیا میں انسان نہیں ہوں یا تم انسان نہیں ہو‘ ہندو یا مسلمان ہونے سے کیا ہوتا ہے‘ تمہیں بھی اسی خدا نے پیدا کیا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور یہ غذا جسے کھانے کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں‘ یہ بھی انسانوں ہی کے کھانے کی ہے اور اس کا پیدا کرنے والا بھی وہی خدا ہے‘ جس نے تمہیں اور مجھے پیدا کیا ہے… آئو‘ آئو۔‘‘
’’کیا آپ کا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایک غیر مذہب کے ماننے والے کسی شخص کو اپنے دستر خوانپر بٹھائیں؟‘‘
’’ہاں! ہاں! اجازت دیتا ہے‘ جبھی تو میں تمہیں کھانے کے لیے کہہ رہا ہوں‘ تم تو پھر بھی نائیڈو ہو اگرکوئی شودر بھی چاہے تو میرے ساتھ بیٹھ کر یہی کھانا کھا سکتا ہے اور پھر آخر کیوں نہ کھائے؟ بھئی دنیا کے تمام انسان ایک ہی ماں باپکی اولاد ہیں اور اس رشتے سے آپس میں بھائی بھائی ہیں اور پھر خدا کی نظر میں بھی حقیقتاً تمام انسان برابر ہیں۔ نہ کوئی بڑا نہ کوئی چھوٹا۔ ہاں اگر ان کے درمیان کوئی فرق ہے اور کوئی خداکو زیادہ پسند ہے اورکوئی ناپسند تو وہ محض اس بنا پر ہے کہ کون اللہ سے زیادہ ڈر کر دنیا میں اس کے احکام کے عین مطابق زندگی گزارنے والا ہے اورکون اس کا نافرمان ہے۔ ورنہ یہ ذات پات‘ اونچ نیچ‘ نسل و وطن اور رنگ و زبان کی بنیاد پر انسانوں نے اپنے درمیان جو تفریقیں پیدا کرلی ہیں‘ اس سے خدا کی ذات بری الذمہ ہے اور حقیقتاً وہ پاک ذات ان سطحی قسم کے جذبات سے بہت بلند اور پاک ہے۔‘‘
مساوات اور انسانی اخوت کے جو تصورات میرے ذہن میں تھے‘ وہ یہی تو تھے جو ماسٹر صاحب بتا رہے تھے۔ میں گہری سوچ میں غرق ہوگیا۔
’’بھئی تم کیا سوچنے لگے۔ آئو کھانا کھائو‘ ٹھنڈا ہوا جارہا ہے اور پھر ہمیں ابھی دوسرے کام بھی تو کرنے ہیں۔‘‘ انہوذں نے مجھے ٹوکا تو میں اپنے خیالات کی دنیا سے نکل آیا اور یہ دیکھ کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ وہ میرے انتظار میں ابھی تک ہاتھ روکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے جلدی سے لوٹا اٹھا کر ہاتھ دھویا اور دستر خوان پر بیٹھ گیا اور میں پھر ایک بار یہ دیکھ کر حیران سا ہو گیا کہ چاول کا برتن ایک ہی ہے۔
’’بھئی کب تک سوچتے رہو گے؟ کھانا لیتے کیوں نہیں؟‘‘ انہوں نے مجھے الجھن میں مبتلا دیکھ کر پھر ٹوکا۔
’’جی کچھ نہیں‘ کیا اسی برتن سے کھانا لوں؟‘‘
’’ہاں ہاں… پھر اور کس سے لو گے؟ چلو شرو کرو۔‘‘
اور میں نے کھانے کے برتن کی طرف ہاتھ بڑھا دیا اور خاموشی سے کھانے لگا۔ میرے دل و دماغ میں ایک عجیب سا ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ ہمارے اپنے طرزِ معاشرت اور آدابِ نشست و برخواست سے یہ طریقے کس درجہ ممتاز اورفطری تھے۔ کوئی تکلف نہیں‘ کوئی اجنبیت نہیں‘ کوئی اونچ نیچ نہیں اور پھر ماسٹر صاحب کی شفقت و محبت نے بھی مجھ پر سحر سا کر دیا تھا۔ میں نے چور آنکھوں سے ان کے سراپا کا جائزہ لیا۔ نکلتا ہوا قد‘ ورزشی جسم‘ بلند و بالا پیشانی‘ کھڑا جسم‘ بھرپور سیاہ ڈاڑھی‘ کانوں تک زلفیں‘کپڑے کی دوپلی ٹوپی سر پر‘ آنکھوںمیں سادگی‘ شرافت اور معصومیت‘ پیوستہ لب‘ بیک نظر بڑے خاموش اور سنجیدہ معلوم ہوئے۔ لیکن بات کرتے تو مسکراہٹ کی چاندنی چہرے پر پھیل جاتی اور پھلجھڑیاں سی چھوٹنے لگتیں۔ اچانک انہوں نے نگاہیں اٹھا کر مجھے دیکھا تو جیسے میری چوری پکڑی گئی۔
وہ میری گھبراہٹ دیکھ کر مسکرائے۔ ’’بھئی تم کھاتے کیوں نہیں؟ کیا سوچ رہے ہو‘ تکلف بالکل نہ کرو اوراسے اپنا ہی گھر سمجھ کر اطمینان سے کھائو۔‘‘
’’ماسٹر صاحب!‘‘ بڑی دیر بعد مین نے زبان کھولی ’’انسانی مساوات وغیرہ سے متعلق ابھی جو باتں آپ نے بتائی ہیں‘ یہ آپ کے شخصی خیالات ہیں یااسلام ہے ہی ایسا روادار اور فطری مذہب؟‘‘
’’میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ اسلام کے احکام اور اس کی تعلیمات ہی ہیں۔ میری کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ میں اوّل اور آخر مسلمان ہوں‘ گھر میں بھی اور گھر سے باہر بھی۔ اسلام میں دراصل اس قسم کی دو رنگی اور ڈبل ایکٹنگ کی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ آدمی ایک موقع پر خدا کی اطاعت کا پابند ہو اور ایک موقع پر اپنی مرضی اور خواہشات کا تابع۔ اسلام غیر مشروط اطاعت اور لامحدود دائرۂ اقتدار چاہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ معروف معنوں میں محض مذہب نہیں ہے بلکہ ایک دین ہے۔ ایک طریقۂ زندگی (Way of Life) ہے‘ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ آئندہ کے لیے بھی یہ ہدایت نوٹ کر لو کہ تم مجھے جو کچھ بھی کرتے یا کہتے ہوئے دیکھو گے ان شاء اللہ وہ سب اسلام کی ہدایات کے مطابق ہی ہوا اور پھرمیری اپنی پسند یا ناپسند کا سوال ہی کیا ہے۔ میں کیا جانوں کہ کون سی بات اور کون سا طرزِ عمل میرے لیے صحیح ہے یا غلط ہے۔ یہ تو ہمارااور اس کائنات کا خالق و فرمانروا ہی جان سکتا ہے کہ میرے لیے کیا اچھا ہی اور کیا برا۔ جس طرح ایک مشین کا بنانے والا ہی صحیح طور پر یہ بات جان سکتا ہے کہ… پرزے کیسے بنائے جائیں۔ کہاںفٹ کیے جائیںاور کس طرح اس مشین کو استعمال کیا جائے کہ وہ اپنے بنائے جانے کے مقصد کو پورا کرے۔ بالکل ایسا ہی معاملہ ہمارا اور خالقِ کائنات کا ہے۔ وہی ہمارا خالق بھی ہے‘ علیم و خبیر بھی۔ اس مصلحت سے واقف بھی جو ہمارے مقصد وجود کی اصل وجہ ہے۔ وہی یہ بات قطعی طور پر بتا سکتا ہے کہ ہمارے لیے مفید و مضر اور خیر و شر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کے لیے صحیح ترین طرزِ عمل یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خالق کی ہدایات اور احکام کے مطابق ہی اپنی زندگی گزارے ورنہ اسکا بھی وہی حشر ہوگا جو بندر کے ہاتھ میںاسترا دینے کی صورت میں ہو سکتا ہے اور فی الواقع جب اور جہاں بھی انسان نے ان حدود سے تجاوز کی کوشش کی جو خالق کائنات نے اس کے لیے مقرر فرمائے تھے تو تاریخ شاہد ہے کہ انسان کا وہی حشر ہوا جو استرا بدست بندر کا ہو سکتا ہے۔
’’لیکن سوال یہ ہے کہ خالقِ کائنات کی رہنمائی آخر کہاں سے ملے اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جس چیز کو خدائی رہنمائی کہہ کر پیش کیا جارہا ہے وہ فی الواقع خدائی رہنمائی ہے‘ کچھ خود غرض انسانوں یا طبقات کے حصولِ مفاد کا ذریعہ نہیں؟‘‘ میں نے ماسٹر صاحب کی بات کاٹ کر پوچھا۔ میرا متجسس ذہن بیدارہونے لگا تھا اور دیر سے اجنبی ماحول اور خود ماسٹر صاحب کی مسحور کن شخصیت کی وجہ سے میں اپنے دل و دماغ پر جو بوجھل پن محسوس کر رہا تھا‘ وہ اب چھٹ رہا تھا۔
’’یہ معلوم کرنا تو کچھ زیادہ مشکل نہین‘ ذرا سے غور و فکر سے ہم ایک ایسی کسوٹی فراہم کر سکتے ہیںجس پر گھِس کر ہم کھرے اور کھوٹے میں فوراً تمیز کر سکتے ہیں۔‘‘ ماسٹر صاحب نے بھی فوراً ہی جواب دیا۔
’’ذرا براہِ کرم وضاحت فرما دیجیے۔‘‘ میں نے گزارش کی۔
’’بھئی ہم چاہیں تو اپنے ذہن میں چند سوالات متعین کر سکتے ہیں کہ:
-1 جس چیز کو خدائی رہنمائی کہہ کر پیش کیا جاتاہے کیا وہ انسانی فطرت و مزاج سے کوئی مناسبت بھی رکھتی ہے یا نہیں؟
-2 اس رہنمائی کا دائرہ کچھ مخصوص افراد یا کسی مخصوص قوم یا ملک کی حد تک ہی محدود ہے یا یہ کوئی ایسی آفاقی نوعیت کی رہنمائی ہے جونہ صرف یہ کہ انسانی زندگی کے تمام گوشوں اور شعبوں کو محیط ہے اور ان سے متعلق واضح اور دو ٹوک قسم کی رہنمائی ے سکتی ہے بلکہ اس کا دائرہ قوم و وطن‘ رنگ و نسل اور زبان و تہذیب کی امتیازات سے ماورا ہے کہ جو شخص چاہے اس کی اصولوں پر ایمان لا کر اور اسے اختیار کرکے فائدہ اٹھا لے۔
-3 دیکھنا چاہیے کہ اس رہنمائی کو اختیارکرنے کے نتیجے میں کس قسم کی افراد یا معاشرہ تیار ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ کہ جس میں نیکیاں فروغ پا سکیں اور پروان چڑھ سکیں یا ایک ایسا معاشرہ جو انسانی زندگی کو فتنہ و فساد سے بھر دے۔
-4 پھر دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ رہنمائی انسان کی صرف اُخروی نجات ہی سے بحث کرتی ہے یا انسانی زندگی کے عملی گوشوں پر بھی محیط ہے کہ اس کے اختیار کرنے کے نتیجے میں انسان کی دنیا سنورجائے یعنی وہ ایک مطمئن‘ خوش گوار اور پرسکون دنیوی زندگی بھی گزار سکے اور جب وہ اس دنیا کو چھور کر اپنے مالک حقیقی کے روبرو پہنچے تو اُخروی خسران اور گھاٹے سے دوچار نہ ہو اور اپنے رب کی رضا اسے حاصل ہو جائے۔
’’کسی مذہب کی حقانیت اور صداقت کو پرکھنے کے لیے آپ نے جو کسوٹی فراہم کی ہے کیا اس معیار پر خود اسلام پورا اترتاہے؟‘‘ میں نے صاف گوئی سے کام لیا۔ ’’اور اگر اسلام پورا اترتا ہے تو کیا اسلام کے علاوہ بھی کوئی مذہب ایسا ہے جو اسی معیار پر پورا اترتا ہو اور اگر ہے تو پھر اسلام پر ہی آپ قانع کیوں ہیں؟‘‘
’’عزیزم! تم نے بیک وقت کئی سوالات کر دیے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارا ذہن متجسس ہے اور یہ اچھی بات ہے۔ تمہارے سوالات کے سلسلہ وارجوابات تو میں ابھی دوںگا گا لیکن پہلے تم یہ بتائو کہ میں نے جس کسوٹی کا ذکرکیا ہے کیا تم اس سے متفق ہو؟‘‘
’’بڑی حد تک‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’میں نے اس موضوع پر کافی غور و فکر کیا ہے اور خود میرا خیال بھی بالکل یہی ہے کہ مذہب کو ایسا ہی ہونا چاہیے جسا کہ آپ نے فرمایا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تم اپنے سوالات کے جوابات سنو۔‘‘
’’میری متذکرہ کسوٹی پر اسلام سو فیصد پورا اترتا ہے اور اسی لیے میں نے اسے شعور طور پر اختیار کیا ہے۔ میں محض اس لیے مسلمان نہیں ہوں کہ میرے ماں باپ مسلمان تھے بلکہ اس لیے مسلمان ہوںکہ میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد مختلف مذاہب کا تحقیقی مطالعہ کرنے کے بعد ہی اسلام کو بلاجبر و ا اکراہ شعوری آمادگی کے ساتھ اختیار کیا ہے۔‘‘ ماسٹر صاحب نے سنجیدگی سے بتایا۔ تمہارے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب ایسا نہیں ہے جو ان شرائط پر پورا اترتا ہو اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی ایسا قابل ترجیح مذہب موجود ہی نہیں تو پھر اسے اختیار کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔‘
اس دوران میں‘ میں کھانا ختم کر چکا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ماسٹر صاحب میرے اٹھنے تک دستر خوان ہی پر بیٹھے رہے اور تھوڑا تھوڑا کرکے چکھنے کے انداز میں کھاتے بھی رہے تاکہ مجھے یہ احساس نہ ہو کہ دستر خوان پر میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ ماسٹر صاحب اس طرزِ عمل نے بھی مجھے سوچنیپر مجبور کردیا۔ کہاں تو ہمارے ہاں یہ طریقہ ہے کہ دور دور بیٹھ الگ الگ پترولیوں یا برتنوںمیں کھاتے ہیں اور کہاں یہ یگانگت اور بے تکلفی کہ ایک ہی برتن میںسے سبھی لے رہے ہیں۔ یہ بظاہر ایک معمولی بات تھی لیکن مجھ جیسے شخص کے لیے یہ بھی فکر و نظر کی جلا کا سبب بنی اور میں صفائی کے ساتھ اس بات کا اعتراف کر لوں کہ اسی دن میرے قلب میں اسلام کا بیج پڑ گیا۔ اب یہ اور بات ہے کہ اس کی مکمل نشوونما کے لیے مزید تین سال لگے۔
ماسٹر صاحب کے پاس سے لوٹ کر میں اپنے اندر ایک عجیب قسم کی حیات آفرین تبدیلی محسوس کرنے لگا تھا جیسے ایک مسلم کی حیثیت سے میرے وجود کی تشکیل شروع ہو گئی ہے۔ ماسٹر صاحب کی دی ہوئی کتابوں کو پڑھ کر میں گھنٹوں غوروفکر کیا کرتا۔ خوش قسمتی سے میری تعلیم اردو میڈیم ہی سے ہو رہی تھی اور اس کے نتیجے میں مجھے اسلامی لٹریچر کے مطالعے کی بڑی سہولت تھی۔ ماسٹر صاحب سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جماعتِ اسلامی کے رکن ہیں۔
میرا ماسٹر صاحب سے دن بہ دن بڑھتا ہوا ربط و ضبط‘ میرے والد‘ رشتے داروں اور مدرسے کے دوسرے تنگ نظر اساتذہ خصوصاً پنڈت جی کے لیے ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ ظاہر بات ہے کہ توحید‘ رسالت اور آخرت سے متعلق میں جو باتیں بھی ماسٹر صاحب سے سنتا یا خود کتابوں میں پڑھتا‘ ان کی بنیاد پر میں اپنے والد اور اساتذہ کو آزادانہ تبادلہ خیال کی دعوت دیتا۔ میری گفتگو سن کر ایک دن پنڈت جی نے پیش گوئی بھی کر دی کہ اگر یہی حال رہا تو کچھ تعجب نہیں کہ تم کسی روز مسلمان ہو جائو اور شاید پنڈت جی کی یہی ایک بات ایسی تھی جس کی میں نے بالکل تردید کرنے کی کوشش نہیں کی ورنہ عام طور پر وہ شرک و بت پرستی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جونہی زبان کھولتے‘ میں ان کا تعاقب شروع کر دیتا اور یہ دلائل ان کا رد کرتا۔ زچ ہو کر پنڈت جی نے مجھے دعوت دی کہ میں ہندو مت کی فلاں فلاں کتب مطالعہ کروں تو میرے شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔ میں نے بہ خوشی ان کی بات منظور کر لی اور ان کی دی ہوئی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پنڈت جی کاخیال تھا کہ میں ان موٹی موٹی کتابوں اور بھاری اصطلاحوں سے مرعوب ہوجائوں گا لیکن جب ان کی دی ہوئی پہلی کتاب کے مطالعے کے بعد ہی میں نے انہیں دعوت دی کہ آیئے ثابت کیجیے کہ ہندو مت کا عقیدۂ تخلیقِ کائنات علمی و عقلی کسوٹی پر پورا اترتا ہے تو وہ بوکھلا گئے اور ہنس کر ٹال دیا۔ دوسری کتاب پڑھ کر میں نے انہیں دعوتی دی کہ آیئے ثابت کیجیے کہ وید الہامی کتب ہیں اور یہ بھی ثابت کیجیے کہ آپ کے دعوے کے مطابق واقعی ان کا زمانۂ تصنیف وہی ہے جو آپ کہتے ہیں یا پھر میں انہی کتابوں سے اس کے برخلاف ثابت کرنے کو تیار ہوں۔ وہ میری بات سن کر پھر کنی کاٹ گئے۔ تیسری کتاب پڑھ کر میں نے انہیں دعوت دی کہ آیئے ثابت کیجیے کہ وید کتنے ہیں؟ تین یا چار؟ اور پھر جن کی طرف انہیں منسوب کیا اجتا ہے ان کی تعداد کتنی ہے یا پھر میں یہ ثابت کرتا ہوں کہ ویدوں کے وجود میں آنے سے متعلق اتنی متعدد حکایتیں موجود ہیں کہ ان پر اعتبار مشکل ہے۔ آخرکار تنگ آکر پنڈٹ جی نے ہتھیار ڈال دیجیے اور مجھے کتابیں دینا بند کردیں لیکن مطالعہ اور تحقیق کا چسکا مجھے لگ چکا تھا۔ اب میں نے خود مختلف کتابیں فراہم کرلیں اور ان کا تحقیقی مطالعہ شروع کر دیا اور اس طرح پران‘ بھگوت گیتا‘ اپنشدوں اور ویدوں سے مجھے توحید کے اثبات اور شرک کے رد میں اتنے دلائل مل گئے کہ اس موضوع پر میرا مطالعہ تقریباً مکمل ہو گیا جب کہ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ انہی کتابوں میں کہیں شرک کی تائید تھی‘ کہیں پر ایک چیز پسندیدہ تھی تو دوسرے مقام پر وہی چیز ناپسندیدہ۔ تخلیقِ کائنات‘ برہما جی کی پیدائش‘ آسمان اور خدا کی پیدائش‘ دیوتائوں کا وجود‘ ان کی تعداد‘ ان کی نسبتیں‘ ان کے عادات و اطوار اور طرز عمل‘ یہ تمام مباحث ایسے تھے جن پر میں نے بارہا اچھے اچھے جغادری قسم کے پنڈتوں کی زبان بند کردی۔ میںعلمی اور عقلی دلائل مانگتا تھا اور یہی جنس ان کے ہاں نایاب تھی۔
رفتہ رفتہ ہندو حلقوں میں میری یہ ’’کافرانہ روش‘‘ اور مزاج و طبیعت ایک دل چسپ موضوعِ بحث بن گئی۔ اشارے کنائے ہونے لگے۔ انگلیاں اٹھنے لگیں۔ لیکن میرے معاملے میں لوگ عجیب مصیبت کا شکار تھے۔ وہ مجھے دہریہ یا ناستک کہہ کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتے تھے‘ اس لیے کہ میں حیاتِ انسانی کے لیے مذہب کو ناگزیر کہتا اور سمجھتا تھا۔ وہ کھلے بندوں میری مذمت بھی نہیں کر سکتے تھے اس لیے کہ میں ایک محترم پچاری کا لڑکا تھا اور دھاندلی نہیں کر رہا تھا بلکہ علمی تشفی چاہتا تھا۔
انہی دنوں مجھے ایک آریہ سماجی ہاسٹل میں کچھ دن قیام کا موقع ملا۔ یہ دور بھی بڑا دل چسپ گزرا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں میٹرک میں پڑھ رہا تھا اور کثیر اسلامی لٹریچر ہضم کر چکا تھا اور ان دنوں مولانا مودودیؒ کی ’’تفہیم القرآن‘‘ کا مطالعہ کر رہا تھا۔ قرآنِ حکیم نہ صرف یہ کہ میرے قلب و روح میں اترا جا رہا تھا بلکہ اس کی ایک ایک آیت پر میں یہ محسوس کر رہا تھا جیسے یہی وہ سرچشمۂ حیات تھا جس کے لیے نہ جانے کب سے میں سرگرداں تھا۔ ایک دن جب کہ تمام طلبہ اور مدرسین پوجا میں مصروف تھے‘ میں اپنے کمرے میں قرآن کھولے بیٹھا تھا۔ اتفاقاً ہوسٹل کا وارڈن ادھر سے گزرا تو مجھے کمرے میں بیٹھا دیکھ ٹھٹک گیا اور پھر اس نے مجھے ڈانٹنے کی کوشش کی کہ سب لوگ کہاں ہیں اور تمکہاں ہو؟ میں نے اسے جواب دیا کہ آپ کے ہاسٹل میں ٹھہرنے کا یہ مطلب بہرحال نہیں کہ ہر طالب علم آپ کے نقطۂ نظر سے اتفاق بھی کرے اور پھر آپ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہائی اسکول سے آپ نے ہم طلبہ کو اپنی غرض کے لیے یہاں لا کر ٹھہرایا ہے ورنہ میں مقامی طالب علم ہوں۔ کھاتے پیتے گھرانے کا فرد ہوں اور اس ہاسٹل میں قیام کا ہرگز محتاج نہیں۔ میری یہ کھری کھری باتیں سن کر ورڈنخفیف ہو گیا اور پھر اپنی خفت مٹانے کے لیے اس نے قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیا ہے اور تم اردو کتابیں کیوں پڑھ رہے ہو۔ میں نے پورے اطمینان سے جواب دیا کہ یہ قرآن حکیم ہے اور میں اس کا تحقیقی مطالعہ کر رہا ہوں۔ رہا یہ سوال کہ میں اردو کتابیں کیوں پڑھ رہا ہوں تو یہ سوال کرنے کا آپ کو بہرحال اختیار نہیں ہے۔ وارڈن خاموشی سے چلا گیا اور پھر دوسرے ہی دن غالباً سخت خطرناک‘‘ سمجھ کر مجھے ہاسٹل سے خارج کر دیا گیا۔
یہ میرا ہائی اسکول کا آخری سال تھا اور پھر اس کے بعد مجھے کالج میں تعلیم حاصل کرنا تھی لیکن میں نے اپنی زندگی کے لیے جو راستہ اختیار کیا تھا اس کے مطالبات کچھ اورہی تھے۔ میری منزل سامنے تھی اور حق واضح ہو جانے کے بعد باطل پر ڈٹے رہنے کی منافقت یا بے حیائی مجھ سے ممکن نہ تھی۔ میں نے ماسٹر صاحب پر اپنے عزائم کا اظہار کر دیا تھا کہ میٹرک کے امتحان کے ساتھ ہی ان شاء اللہ اپنے قبول اسلام کا باضابطہ اعلان کر دوں گا۔ میری بات سن کر ماسٹر صاحب نے کہاکہ خوب اچھی طرح سوچ لو‘ موجودہ دور بھی اس دور سے کچھ مختلف نہیں ہے جب ایمان و اسلام کی قیمت چکانے کے لیے جان کی بازی بھی لگا دینی پڑتی تھی اور پھر یہ بھی اچھی طرح سمجھ لو کہ تم نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے اس کی نوعیت کچھ یک رخے راستے (One Way) کی سی ہے کہ ایک بار اس پر قدم رکھ کر پھر لوٹنے یا پسپائی اختیار کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ اس لیے خوب اچھی طرح غور کر لو کہ نتائج و عواقب سے تم عہدہ براں ہو سکے گے یا نہیں۔ میں نے جواب دیا ’’ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں مین سے پائیں گے۔‘‘ میں نے مزید کہا کہ بخدا مجھے خود بھی کوئی خوش فہمی نہیںہے۔ میں اپنے اس انقلابی اقدام کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ:
جو راہ اُدھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کرجاتی ہے
اللہ کی جنت سستے داموں ملنے والی نہیں۔ اگرچہ یہ بندہ حقیر اس کی قیمت چکانے سے بہر حال قاصر ہے لیکن اگر خود اسی کی توفیق ہو تومتاع جاںکو ترازو کے ایک پلڑے میں تو ضرور ہی ڈال سکتا ہے۔ اب اس کی قدر و قیمت اور وزن مولی کی نگاہ میںچاہے کچھ ہو اور پھر ویسے بھی مومنوں کی جان اور ان کے مال تو اللہ پہلے ہی جنت کے عوض خرید چکا ہے۔‘‘
ماسٹر صاحب کی پلکوں پر چراغ جل اٹھے اور انہوں نے مجھے سینے سے بھینچ لیا۔
آخر میری زندگی کی وہ صبحِ سعادت طلوع ہو کر رہی جس کا میں منتظر تھا۔ یہ جمعے کا دن تھا‘ میں نے غسل کیا‘ صاف ستھرے کپڑے پہنے اور اپنی زندگی کی پہلی نماز‘ نمازجمعہ مسجد میں ادا کی اور نماز کے بعد کھڑے ہو کر میں نے اعلان کیا کہ ’’میں نے یکسو ہو کر اپنا رُخ زمین و آسمان کے خالق کی طرف کر لیا ہی اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘
اور پھر کلمۂ شہادت پڑھنے کے ساتھ ہی لوگ مجھ سے مصافحہ کرنے‘ ملنے اور مجھے دیکھنے کے لیے امڈ پڑے۔
اپنے دینی بھائیوں سے مصافحہ و معانقہ نے میرے قلب و روح کو جیسے گرما دیا۔ لوگوں کی گرم جوشی کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص مجھ تک پہنچنا چاہتا تھا اور زندگی میں پہلی بار مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ اخوتِ اسلامی کیسی نعمت ہے اور انماالمومنون اخوۃ کیوں کہا گیاہے۔ لوگوں کے اس بے پایاں اخلاص کو سہارنا تک میرے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ بے ساختہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر میں نے دیکھا کہ میں ہی آبدیدہ نہیں ہوں بلکہ کتنی ہی آنکھیں ہیں جن سے ستارے ٹوٹ رہے ہیں۔ اللہ اکبر! ایک گناہ گار بندے کے لیے لوگوں کا یہ اخلاص؟ ابھی کل تک نہ یہ میرے کچھ لگتے تھے اور نہ میں ان کا کچھ لگتا تھا لیکن آج میری زبان سے نکلے ہوئے ایک معجز نما کلمہ نے دنیا میں میرے 70 کروڑ بھائی پیدا کر دیے تھے۔ اس کلمہ کا اعجاز تو مجھے آج ہی نظر آیا تھا۔ زبان کی ایک جنبش کے ساتھ میرے رب کے ان احسانات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو مومنوں کے لیے خاص تھے۔ آج سے میرا اور دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کاورد ایک تھا۔ قطرہ دریا میں مل گیا تھا۔ ایک حقیر قطرہ آج دریا ہو گیا تھا۔ میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی ’’خداوندا! تو نے مجھے جو اپنی سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی ہے وہ پھر مجھ سے چھین نہ لینا‘ میرے قلب کو پھر کبھی اس کی طرف سے نہ پھیرنا۔‘‘
ماسٹر صاحب نے میرا نام عبدالرحمن رکھا اور بخدا مجھے یہ نام بڑا بھلا لگا۔ کیا یہ کوئی معمولی اعزاز ہے کہ لوگ مجھے میرے مولیٰ کے نام کی اس نسبت سے پکاریں جس کا ہر انسان محتاج ہے۔ ربِ رحمن! ہاں ہم تیرے رحم و کرم ہی کے محتاج ہیں۔ تیرے اسی اسمِ حسنیٰ کا ورد کرتے ہوئے میں قیامت میں کشاں کشاں تیرے حضور پہنچوں گا اور تجھے بتائوں گا کہ میں تیرا وہ بندہ ہوں جسے دنیا میں لوگ رحمن کا بندہ کہا کرتے تھے۔ کیا آج تو اپنے اس نام کا پاس نہ فرمائے گا؟ کیا آج تو اپنے اس بندے کو ذلیل و رسوا کر دے گا جو تیرے اس نام کی صفت اور نسبت کی آش لگائے ہوئے ہی تیرے پاس آیا ہے۔ میرے کریم آقا! مجھے اپنے دامنِ رحمت میں ڈھانپ لے اور اپنے اس نام کا بھرم رکھ اور مجھے یقین ہے کہ میری یہ درد بھری صدا دریائے رحمت کو جوش میں لے آئے گی اور میں اس میں غرق ہو جائوں گا۔ میرے آغے‘ پیچھے‘ دائیں‘ بائیں‘ اوپر‘ نیچے تیری رحمت ہوگی۔
…٭…
میرے اعلانِ اسلام کے ساتھ ہی مرحلۂ ابتلا و آزمائش شروع ہو گیا۔ ذرے نے پہاڑوں کا منہ چڑایا تھا۔ نور کی ایک کرن نے ظلمتوں کا کلیجہ چھید دیا تھا۔ باطل نے اعلانِ حق کے ساتھ ہی اپنے لائو لشکر سمیٹے اور یلغار کر دی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے آبادی میں بم پھٹ پڑآ ہو۔ دور دور تک اس کی بازگشت سنی گئی۔ ہر شخص کی زبان پر یہی تذکرہ تھا۔ میرے والدین‘ رشتہ داروں اور بھائیوں کو تو جیسے سکتہ ہو گیا تھا۔ میرے قریبی احباب تک نے کھلے طور پر جان کی دھمکیاں دیں‘ لعنت ملامت‘ طنز و تعریفیں‘ تحقیر و تذلیل غرض کتنے ہی زہریلے نتشر میں اپنے کلیجے پر سہہ رہا تھا۔ مجھے وراثت سے محروم کر دینے کا اعلان کر دیاگیا۔ بھائیوں نے اعلان کر دیاکہ میں اگر مر بھی رہا ہوں تو وہ صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ کہا گیا کہ اگر میں نے گھر کی طرف رخ بھی کیاتو پھر میری گردن مار دی جائے گی۔
تیسرے دن میں اپنے گھر گیا اور سیدھا والد صاحب کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بے رخی سے منہ پھیر لیا۔ ان کی اس بے رخی اور نفرت کا مجھے ذرّہ برابر بھی ملال نہ تھا اس لیے کہ اوّل تو میرے لیے یہ بات غیر متوقع نہ تھی اور پھر دوسری بات یہ کہ ان کے اس غم و غصے کے پس منظر میں جو جذبہ کار فرما تھا وہ بڑی حد تک فطری تھا۔ بھلا وہ اس سانحۂ عظیم کو آسانی کے ساتھ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ان کا وہ بیٹا جس سے انہوں نے بڑی بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں ’’بے دین‘‘ ہو جائے اور ’’ملیچھ‘‘ مسلمانوں کا اہم پیالہ و ہم نوالہ ہو جائے۔ میں ان کے سامنے پہنچ کر خاموشی سے اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ وہ پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں اور ان کاجی کچھ ہلکا ہو تو میں اپنی بات کہوں‘ لیکن جب مجھے اندازہ ہو گیا ہو گیا کہ اس وقت وہ مجھے ڈانٹنے کے موڈ میں نہیں ہیں تو میں نے ہی زبان کھولنا مناسب سمجھا۔ میں نے کہا ’’پتا جی! اس واقعہ کا آپ کو جو رنج ہو سکتا ہے مجھے اس کا اچھی طرح اندازہ ہے لیکن آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا قبول اسلام کوئی جذباتی اقدام نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے میری برسوں کی تلاشِ حق کی تاریخ ہے۔ آپ اس بات سے بھی ناواقف نہیں ہیں خہ میں نے اپنے دین ِ آبائی کو سمجھنے اور اس سے مطمئن ہونے کی پوری امکانی کوشش کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ناکام رہا۔ آپ بخوبی واقف ہیں کہ مذہب کا تعلق انسان کی دُنیوی اور اُخروی زندگی کی فلاح سے ہے۔ اس قدر اہم معاملے میں‘ میں ظاہر ہے آپ کو یا کسی اور کو خوش کرنے کے لیے ایک ایسی چیز کو اپنے سینے سے کیسے لگائے رکھ سکتا تھا جس سے میرا قلب و ضمیر قطعاً مطمئن نہ ہو؟ آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلے گا۔ میں نے امکانی تحقیق و جستجو کے بعد اسلام کو اپنی دنیوی اور اُخروی زندگی کی فلاح و کامرانی کا ضامن سمجھ کر ہی اختیار کیا ہے۔ آپ میرے پتا جی ہیں‘ میرا وجودِ مادّی آپ ہی کے وجود کا پَرتو ہے پھر کیا میں آپ کو بھی اس راستے کی طرف دعوت نہ دوں جس پر چل کر ہی ایک شخص اپنے مقصدِ وجود کو پورا کر سکتا ہے۔ میری دعا ہے کہ خدا آپ کو میری طرح صراطِ مستقیم پر گامزن کرے۔‘‘
میری بات سن کر پتا جی نے یکبارگی نگاہیں اٹھا کر مجھے بغور دیکھا اور کچھ سوچتے رہے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ میری بات کا کوئی معقول جواب سوچ رہے ہوں یا پھر یہ سوچ رہے ہوں کہ میں کس قدر گستاخ ہوں کہ اپنے پجاری باپ کو بھی دعوتِ اسلام دینے سے نہیں چوکتا۔ بہرحال میری اس بات کا جواب ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ انہوذں نے بے زاری سے دوسری طرف منہ پھیر لیا اور میں اٹھ کر چلا آیا۔
میرے قبولِ اسلام کے تقریباً ایک ماہ بعد مجھے اچانک اطلاع ملی کی پتا جی سخت علیل ہیں۔ اطلاع پاتے ہی میں ان کی خدمت میں پہنچ گیا۔ دراصل اسی بہانے میں ایک اور کوشش کرکے دیکھنا چاہتا تھا کہ کل قیامت کے دن مجھ پر یہ الزام نہ آئے کہ میں نے اتمامِ حجت نہ کی تھی۔ والد صاحب نے اشارے سے مجھے قریب بلا کر بیٹھنے کے لیے کہا۔ گزشتہ ایک مہینے ہی میں وہ کچھ سے کچھ ہو گئے تھے۔ مجھے توقع نہ تھی کہ میں انہیں اس خراب و خستہ حالت میں دیکھوں گا۔ انہیں اس درجہ بیمار دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور وہ خود بھی آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے سوچا کہ شاید اس آخری وقت ہی میں سہی وہ کوئی صحیح فیصلہ کر لیں اور جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔ میں انکے قریب ہی چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہ بڑی دیر تک آنکھیں بند کیے لیٹے رہے اور پھر جب انہوں نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں عجیب سی حسرتیں کروٹ لے رہی تھیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھ سے بالکل مایوس ہو گئے تھے یا پھر ہنوز انہیں یہ توقع تھی کہ میں دین ِ آبائی کی طرف لوٹ آئوں گا۔ انہوں نے میرا ہاتھ اپنے سرد ہاتھوں میں لے لیا اور اسے ہلکے سے دبایا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگے۔ غالباً وہ میرے عزائم کا جائزہ لے رہے تھے کہ یہ کس درجہ پختہ ہیں اور پھر شاید انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ مجھ سے توقعات باندھنا فضول ہے۔
’’پتا جی!‘‘ میں نے بھرائی ہوئی آواز میں انہیں مخاطب کیا ’’کیا آپ ضمیر کی پوری طمانیت اور تسکین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ میں نے کوئی غلط اقدام کیا ہے؟‘‘
میری بات سن کر ان کے چہرے پر شدید اندرونی کرب و اضطراب اور کشمکش کے آثار ظاہر ہوئے جیسے وہ فیصلہ نہ کر پا رہے ہوں کہ انہیں کیا کہنا چاہیے۔ کچھ دیر ان پر تشنج کی سی کیفیت طاری رہی اور پھر ان کی مدھم سی آواز ابھری جیسے کیسے گہرے کنویں سے بول رہے ہوں۔
’’تمہارا فیصلہ… شاید درست ہی ہے۔‘‘ میں سوچا ’’حق کا اعتراف کرنا کتنا مشکل کام ہے‘ سچ کو سچ کہنے کے لیے بھی لوگوں کو اپنے آپ پر کتنا جبر کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’پتا جی! پھر آپ حق کو حق جاننے کے باوجود اپنے مؤقف پر غور کیوں نہیں کرتے؟‘‘ میں نے پُر سوز لہجے میں ان کے اندر کے خیر پسند انسان کو جگانے کی کوشش کی۔
’’بیٹے!‘‘ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے مزید کہچھ کہنے سے روک دیا ’’تم میری مجبوری کو نہ سمجھ سکو گے۔ میں عمر بھر جس چیز کو حق کہتا رہا‘ آج اسے باطل کہنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے اور پھر وہ بھی عمر کے اس مرحلے میں جب کہ چند سانسیں باقی رہ گئی ہوں؟ نہیں نہیں میں نہیں چاہتا کہ میری قوم میری موت کے بعد مجھ پر زبان دراز کرے۔ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ میں اس اعمر میں تمہاری طرح کوئی انقلابی اقدام نہیں کرسکتا۔ تمہاری بات اور ہے‘ تم نے ابھی کارزارِ حیات میں قدم رکھا ہے‘ تمہاری توانائیاں اور صلاحیتیں تازہ ہیں‘ تم چاہو تو اپنے ماحول سے تنہا ہونے کے باوجود ایک بھرپور ٹکر لے سکتے ہو۔‘‘
پتا جی کے پاس سے لوٹنے کے کچھ ہی دن بعد مجھے اچانک اطلاع ملی کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ میں دل مسوس کر رہ گیا۔ مجھے ان کی موت کا اتنا رنج نہ تھا جتنا اس بات کا کہ وہ حالتِ کفر میں مرے تھے۰ رنا تو سبھی کو ہے‘ وہ آج نہ مرتے تو کل مرتے‘۱ اس سے کیا فرق پڑ جاتا‘ آج وہ‘ کل ہماری باری ہے‘ تمام نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن کتنا فرق ہوتا ہے اس موت میں جو حالتِ ایمان میں آئے اور اس موت میں جو حالتِ کفر میں آئے۔
بہرحال میں نے صبر کر لیا اور اپنے گھر گیا کہ کم از کم ان کا آخری دیدار کر لوں۔ مجھے دیکھتے ہی میرے ایک بھائی نے مجھ پر کلہاڑی اٹھائی کہ تمہیں بھی پتا جی کی ارتھی کے ساتھ جلا دیا جائے گا‘ اس لیے کہ تمہاری ہی وجہ سے پتا جی نے صدمہ اٹھا کر جان دی ہے۔ پورے اہلِ خاندان اس بات پر مصر تھے کہ وہ مجھ مسلمان کو پتا جی کی ارتھی کے قریب بھی نہ جانے دیں گے چونکہ فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اور لوگ جذباتی ہو رہے تھے‘ اس لیے میں پتا جی کی نعش دیکھے بغیر خاموشی سے واپس لوٹ آیا۔
لوگوں نے صبر تو کر لیا لیکن وہ مجھے بالکل میرے حال پر چھوڑ دینے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ میں خود ایسا چاہتا تھا۔ مقصد اگر بحث برائے بحث نہ ہو تو باہمی تبادلۂ خیال اور مختلف موضوعات پر آزادانہ گفتگو اکثر مفید نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں نہ صرف یہ کہ اپنے مؤقف کی صحیح وضاحت کا موقع ملتا ہے بلکہ اگر یہ کاوشیں مخلصانہ نہ ہوں تو مخاطب کو متاثر بھی کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اب یوں ہونے لگا کہ انتہا پسندانہ طرزِ فکر رکھنے والے غیر مسلم نوجوان‘ مختلف غیر مسلم مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں سے اکثر میرے ہائی اسکول کے زمانے کے ساتھی تھے‘ ان سے روزانہ کسدی نہ کسی موضظع پر بحث و گفتگو ہوتی۔ یہ موضوعات عام طور پر وہی ہوتے جن سے متعلق غیر مسلم ذہن یا تو کسی شدید غلط فہمی کا شکار رہتا یا پھر ان کے نقطہ نظر کے مطابق اس میں کوئی بڑی قباحت موجود ہوتی ہے مثلاً گوشت خوری‘ جہاد‘ پردہ‘ تعداد ازدواج‘ خاندانی منصوبہ بندی‘ اورنگ زیب کا مندروں کو گرانا‘ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک پر اعتراضات وغیرہ وغیرہ۔ جماعت اسلامی کے لٹریچر کے تفصیلی مطالعے نے الحمدللہ مجھے علمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں ان تمام موضوعات پر سیر حاصل گفتگو بھی کرسکتا تھا اور مسائل کا سائینٹفک تجزیہ بھی کرکے دکھا سکتا تھا کہ اصل کیا ہے اور نقل کیا۔ جب ان دوستوذں کے لیے کوئی راہِفرار نہ رہ جاتی تو وہ یہ کہہ کر بات کو ختم کر دیتے کہ بحث میں تم سے جیتنا مشکل ہے (گویا علمی دلائل تو ان کے پاس موجود ہیں لیکن مجھ جیسے ’’باتونی‘‘ کے سامنے وہ زبان کھولنے کے حق میں نہیں) حالانکہ یہ محض عذرلنگ تھا۔ دراصل دلیل کے نام پر ان کے ہاں نری جذباتیت‘ اوہام اور سینہ بہ سینہ قسم کی غلط سلط روایات کے سوا کچھ نہ تھا اور ہاں اس معاملے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں سے بعض سلیم الفطرت نوجوان میرے یقین‘ درد مندی اور مدلل علمی مؤقف سے اس درجہ متاثر ہو گئے تو انہوں نے تنہائی میں مجھ سے مل کر کہا کہ تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں‘ تم اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہو‘ آج سے ہم تمہاری طرف سے دفاع کریں گے۔‘‘
ایک موقع پر ایک غیر مسلم دوست نے بڑے پُرسوز لہجے میں مجھ سے کہا کہ تم اسلام‘ اسلام کی رٹ لگاتے ہو‘ اس کے عدل و انصاف وغیرہ کا تذکرہ کرتے رہتے ہو‘ لیکن ذرا دیکھو تو سہی کہ گائے جیسے معوصوم‘ بے ضرر اور نفع بخش جانور کے ساتھ مسلمان کیا سلوک کرتے ہیں اور پھر مسلمانوں کی شرارت تو دیکھو کہ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ ہم اسے اپنی ماتا کہتے ہیں اور اسے دیوتا سمجھتے ہیں‘ اسے ہمارے ہی سامنے کاٹ کر کھا جاتے ہیں۔ یہ بات اس نے بڑے جذباتی اور پُر سوز لب و لہجے میں کہی تھی اور اس سے میں خود بھی متاثر ہو گیا تھا۔ میں فوراً تو اسے کوئی جواب نہ دے سکا البتہ اتنا ضرور کہا کہ اس معاملے میں تم محض جذباتیت کا شکار ہو گئے ہو‘ میں ان شاء اللہ تمہاری تشفی کرا دوں گا۔ میری بات سن کر وہ اپنی کامیابی پر نازاں مسکراتا ہو چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی میں فوراً ماسٹر صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں صورتِ حال بتائی۔ ماسٹر صاحب میری گھبراہٹ اور تردد کو دیکھ کر مسکرائے اور انہوں نے کہا کہ اپنے دوست سے پہلے یہ پوچھو کہ کیا وہ اپنے پرکھوں کے نقش قدم پر چلنا باعثِ سعادت نہیں سمجھتا؟ اور پھر اسے یہ بتائو کہ ویدوں سے یہ بات ثابت ہے کہ دیوتائوں پر گائے‘ بیل اور بھینسے ذبح کر ے بطور بھینٹ چڑھایا جاتا تھا‘ بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے معزز مہمانوں کی تواضع گائے کے نوعمر اور نو خیز بچھڑے سے کرتے تھے۔ اس سے کہو کہ سوامی وریکانند کہتے ہیں کہ (ویدک دور میں) وہ لوگ قربانی کی ایک چتا بناتے‘ کچھ جانوروں کو ذبح کرتے اور ان کا گوشت سیخوں پر بھونتے اور یہ گوشت اندر دیوتائوں کے اوپر چڑھا دیتے۔‘‘
گاندھی جی اپنی کتاب ہندو دھرم صفحہ 19 پر لکھتے ہیں کہ ’’جانوروں کی قربانی کا عمل ایک زمانے میں عام تھا۔ کیا آج ہم اسے ازسرِ نو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک زمانے میں ہم گوشت کھاتے تھے‘ کیا آج ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
مشہور مؤرخ ڈاکٹر تاراچند کہتے ہیں ’’ویدک قربانیوں میں جانوروں کے چڑھاوے کی طرح پھل‘ دودھ اور چاول کی روٹیاں شامل ہیں۔ بعد میں جانوروں کی قربانی مذہبی اعمال سے غائب ہوگئی۔‘‘ (ہندوستانی تہذیب پر اسلام کا اثر: ص: 3) پھر اس کے علاوہ یہ بھی ویدوں سے ثابت ہے کہ وہ مچھلی کے گوشت کو بطور غذا استعمال کرتے تھے۔ دراصل گائے کو تقدس حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آرین زراعت پیشہ تھے اور اس کے ساتھ ہی گوشت خور بھی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ گوشت خوری کے نتیجے میں زراعت کے لیے جانور کم ہو رہے ہیں (اور ظاہر ہے کہ زراعت ہی ان کا اصل ذریعہ معاش تھا) تو انہوں نے جانوروں کا ذبیحہ بند کر دیا اور اسے ممنوع ٹھہرا دیا بالخصوص گائے کو‘ قاس لیے کہ بہترین زراعتی جانور بیل گائے ہی فراہم کرتی تھی۰۔ بعد میں یہ امتناع قانون اور تقدس کی شکل اختیار کر گیا۔ ہمارے ہندو بھائی اس سادی سی حقیقت پر غور کیے بغیر اس معاملے میں جذباتی ہو جاتے ہیں ورنہ خصوصیت نہ گائے کی ہے نہ کسی اور جانور کی۔ یہ سب انسان کی خدمت ہی کے لیے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔
چنانچہ دوسرے دن میں نے یہ سب باتیں اپنے دوست کے سامنے رکھیں‘ وہ ہکا بکا سا رہ گیا۔ اسے کسی طرذح اس بات کا یقین نہ آتا تھا کہ کسی زمانے میں دیوتائوں پر جانورں کا گوشت چڑھایا جاتا تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ اگر پنڈت جی اس بات کی تصدیق کر دیں تو میں مان لوں گا۔ چنانچہ ہم پنڈت جی کے پاس گئے اور ان سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے گھورا اور گول مول سا جواب دیا کہ مجھے بھی نہیں معلوم۔ دیکھنا ہوگا‘ ویدوں میں دیکھنا ہوگا۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ویدوں میں کیا لکھا ہے۔ میں خاموش ہوگیا۔ کتمانِ حق کی یہ روش کچھ نہیں ہے اور پھر پنڈت جی ہی کی کیا خصوصیت ہے خود مسلمانوں میں کتنے ہی نام نہاد ملا اور مولوی کیا ایسے نہیںجو جانتے بوجھتے مسلمانوں کو مختلف بدعتوں اور مشرکانہ آداب و رسوم میں محض اس وجہ سے مبتلا کیے ہوئے ہیں کہ اس سے ان کی دال روٹی چلتی ہے۔ مختصر یہ کہ اس اعلان سے پہلے بھی اس کے بعد بھی مجھے اس قسم کے کتنے ہی مناظروں اور مباحثوں میں الجھنا پڑا‘ حق و باطل کی یہ کشمکش تو ظاہر ہے کہ بہت قدیم ہے پھر میرے معاملے ہی میں یہ سنت کیوں نہ پوری ہوتی۔

حصہ