اقبال (قسط نمبر 4)

175

اقبال کا اصل تشخص شاعر کا ہے،خطبات میں تو وہ ایک مفکر یا ایک فلسفی ہیں ، اقبال اور اقبالیات پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا خصوصی انٹرویو

سوال: پھر یہ اعتراض کیوں کیا جاتا ہے کہ اقبال جس مردِ کامل کا ذکر کرتے ہیں وہ اس پر خود پورا نہیں اترتے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: انہوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں مردِ کامل ہوں، بلکہ اقبال کے خط دیکھیں، ان میں تو انکسار ہی انکسار ہے۔ کہیں اپنی بڑائی کا ذکر نہیں، کوئی دعویٰ نہیں۔ پھر اصل مردِ کامل جسے قرار دیا ہے وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اس کے بعد سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا حسینؓ… اسی طرح کے اکابرین کو انہوں نے مردِ کامل کہا ہے۔
سوال: اقبال کی شخصیت کی تشکیل میں کن لوگوں کا کردار تھا؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اس میں ایک تو ان کے والد ہیں شیخ نور محمد، جو ایک نیک بزرگ تھے۔ پھر ان کی والدہ اور ان کے استاد مولوی میر حسن۔ پھر ان کی علمی شخصیت کی تشکیل میں پروفیسر آرنلڈ…اس طرح یہ تین چار لوگ ہیں جن کا بنیادی دخل ہے۔ مولوی میر حسن کا اثر تو خاص طور پر ہے، اس لیے کہ وہ بطور خاص ان پر توجہ دیتے تھے۔ وہاں کے اساتذہ بھی کیسے کیسے تھے۔ فرض شناس، طلبہ کے خیر خواہ اور ان کی تربیت کے لیے ہر وقت کوشاں۔ ان کے اسکول کے پرنسپل واخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کالج کے لیے روشنائی کی بوتل منگواتے تھے، اس بوتل کی آدھی قیمت اپنی جیب سے دیتے تھے، آدھی قیمت وہ کالج کے حساب میں لکھتے تھے۔ کسی نے پوچھا ایسا کیوں؟ انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ میں کچھ ذاتی خطوط بھی لکھتا ہوں، ذاتی کام بھی کرتا ہوں۔ ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ مولوی میر حسن کو ایک مرتبہ سیالکوٹ کی مقامی عدالت نے گواہی کے لیے بلایا، وہ رخصت لے کر عدالت میں حاضر ہوئے۔ گواہی دے کر واپس آئے تو عدالت نے کچھ رقم دی تھی، وہ انہوں نے پرنسپل کی میز پر رکھ دی اور کہا کہ یہ رقم کالج کے فنڈ میں جمع کرلیجیے۔ انہوں نے پوچھا: مولوی صاحب کہاں سے رقم آئی ہے؟ کہا: میں کالج کے وقت میں عدالت میں گیا تھا، انہوں نے مجھے یہ رقم دی ہے (اُس زمانے میں یہ ضابطہ تھا کہ جس کو عدالت میں بلایا جائے اسے رقم دی جائے)۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کالج کا حق ہے، میرا نہیں۔ یہ ایک مثال ہے۔ جب ایسے صاحبِ کردار اساتذہ ہوں گے تو اُن کی نیک سیرت کا اثر طلبہ پر کیوں نہ مرتب ہوگا!
سوال: اقبال کی شاعری اور خطبات کے حوالے سے بعض لوگ کہتے ہیں اس میں فرق نظر آتا ہے۔ اقبال کا اصل تشخص کیا ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اصل تشخص شاعر کا ہے۔ خطبات میں تو وہ ایک مفکر یا ایک فلسفی ہیں۔ فرض کیجیے کہ اقبال شاعر نہ ہوتے اور انہوں نے یہ شاعری نہ کی ہوتی تو کیا صرف خطبات کی بنیاد پر ان کا اتنا بڑا مقام ہوسکتاتھا؟اصل چیز تو شاعری ہے۔ خطبات کی حیثیت ثانوی ہے۔ ایک زمانے میں اس پر بڑی بحث ہوئی، بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا اور لکھا ہے کہ خطبات اصل چیز ہے اور شاعری اس کا حاشیہ ہے۔ حالانکہ شاعری اصل ہے۔ اقبال کی شہرت اور مقبولیت جو کچھ بھی ہے وہ ان کی اردو اور فارسی شاعری کی وجہ سے ہے۔ عام آدمی انھیں ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ کے حوالے سے جانتا ہے، نہ کہ انگریزی خطبات کے ذریعے سے، جو کم ہی لوگوں کی سمجھ میں آتے ہیں۔
سوال: شاعری اور خطبات میں واقعی کوئی تضاد موجود ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: تضاد تو کوئی نہیں ہے، اگر آپ ڈھونڈنا چاہیں تو شاعری میں بھی ’’تضادات‘‘مل جائیں گے۔ اصل میں انہوں نے خطبات میں فلسفیانہ انداز اختیار کیا ہے اور اس میں علمی اصطلاحات اس کثرت سے استعمال کی ہیں کہ عام قاری سمجھ نہیں سکتا۔ خود اقبال نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ ایک خاص طرح کی کتاب ہے، اور فلسفے اور جدید سائنس میں جو حالیہ پیش رفت ہوئی ہے اُس سے واقف ہوئے بغیر خطبات کو سمجھنا مشکل ہے۔ کئی جگہ ابہام بھی ہے۔ خطبات میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو ہمارے مسلمہ عقائد سے ٹکراتی ہیں جیسے جنت، دوزخ مقامات نہیں، کیفیات ہیں۔ یا یہ کہ حیات بعدالممات اختیاری ہے۔ اس طرح کی بہت ساری باتیں ہمارے اکابرین کے ہاں موجود ہیں۔ خطبات کی بہت سی شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں ان مسائل پر بحث موجود ہے۔
سوال: سیکولر اور لبرل طبقہ ان کے خطبات کو فوقیت دیتا ہے۔ اقبال کی مثال کہیں دینی ہو تو خطبات سے دیتے ہیں، مثلاً عطاء الحق قاسمی نے کالم میں لکھا کہ میں اقبال کے خطبات کو مانتا ہوں کیونکہ انہوں نے پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیا ہے۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: کیا ایسی پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیا جا سکتا ہے، جس کے بیسیوں ارکان اپنے کندھوں پر کرپشن کے الزامات کا پشتارا لادے پھرتے ہوں اور کہتے ہوں: کوئی ہم سے نہ پوچھے کہ ہم نے یہ مال و دولتِ دنیا کیسے اور کہاں کہاں سے جمع کی ہے۔ ہاں اگر پارلیمنٹ دیانت دار اور بے لوث ارکان پر مشتمل ہو، یعنی وہ ارکان آئین کے آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ پر پورے اُترتے ہوں اور علمائے حق (نہ کہ قاسمی صاحب کے ممدوح نوازشریف کے پشتی بان مولانا) بھی اس پارلیمنٹ میں موجود ہوں تو وہ اجتہاد کرسکتی ہے۔
سوال: اقبال سے ان کو چڑ کیا تھی؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اقبال نے تو اپنی شاعری میں واضح طور پر اسلام، قرآن، رسول اللہ ﷺ، دین و مذہب کی بات کی ہے۔ یہ بات سیکولر اور لبرل طبقے کو قابلِ قبول نہیں۔ اب وہ اسلام کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔ نقضِ امن کا اندیشہ ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اقبال میں فلاں فلاں خرابیاں تھیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم خطبات کو مانتے ہیں، شاعری تو ثانوی چیز ہے۔ ارے بھئی، اقبال کی شاعری کو بھی مانو، ان کی اردو نثرکو بھی مانو، یعنی پورے اقبال کو مانو۔ پھر کبھی کہتے ہیں کہ اقبال تو ماضی پرست ہے، ہمیں تاریک دور میں لے جانا چاہتا ہے۔ اصل میں اس ظاہر پرست اور کوتاہ بین طبقے کے نزدیک ترقی یہ ہے کہ آمدنی زیادہ ہو، روپے پیسے زیادہ ہوں، کارخانے زیادہ لگ جائیں، مکانات بہت اچھے ہوں، گاڑیاں بہت اچھی ہوں۔ یہ ترقی ہے۔ لیکن اصل جو ترقی ہے، جو ہونی چاہیے، اور ظاہر ہے جو اقبال بھی چاہتے تھے وہ یہ ہے کہ امن و امان ہو، انصاف ہو، اور لوگوں کو برابر کے انسانی حقوق ملیں، صحت کا مسئلہ حل ہو، تعلیم کا مسئلہ حل ہو۔ ان کی نظر میں ترقی کا ماڈل یورپ اور مغرب کا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے مغرب نے ترقی کرلی ہے، سائنس میں ترقی کرلی ہے، تعلیم بھی بہت اچھی ہے، صحت کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں، لیکن بعض مسائل تو یہاں سے بھی زیادہ ہیں، جیسے ان ممالک میں خودکشی کی شرح یہاں سے زیادہ ہے، ڈاکے اور چوریاں، جنسی زیادتیاں ہوتی ہیں، ان کا تناسب بہت زیادہ ہے، کہ دنیا کی بندوقوں کا چالیس فیصد امریکا میں ہے۔ آئے دن خبر آتی ہے کہ امریکا میں بندوق سے پانچ دس آدمی بلاوجہ قتل کردیے گئے۔ ایسی ترقی تو ہمیں نہیں چاہیے۔ اقبال نے اس حوالے سے مغرب پر تنقید کی ہے، اسی لیے انہیں اقبال سے چڑ ہے۔
سوال: بعض لوگوں کے خیال میں اقبال عملی مسلمان (practicing muslim) بھی نہیں تھے اور فعال سیاسی کارکن بھی نہیں تھے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ دوسری بات.. اقبال یا ان جیسے شاعروں سے سیاست دانوں جیسی مستعدی کی توقع رکھنا ٹھیک ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اقبال بنیادی طور پر شاعر تھے۔ معروف واقعہ ہے کہ مولانا محمد علی جوہر جیل کاٹ کر واپس آئے، اقبال سے ملاقات ہوئی تو بے تکلفانہ کہنے لگے: ظالم، ہم تو تمہارے شعر پڑھ پڑھ کر جیل جاتے ہیں لیکن تم دُھسّا اوڑھے، حقے کے کش لگاتے رہتے ہو۔ اقبال نے برجستہ جواب دیا: میں تو قوم کا قوال ہوں اور قوال خود وجد و حال میں شامل نہیں ہوتا، ورنہ قوالی ہی ختم ہوجائے۔ اقبال اس طرح کے ایکٹوسٹ نہیں تھے جس طرح آج کل ہوتا ہے۔ لیکن سیاست میں انہوں نے حصہ لیا ہے۔ تین سال وہ اسمبلی کے رکن رہے۔ پہلے تو وہ گریز کرتے رہے، پھر جب ان کے دوستوں نے اصرار کیا تو کہا: اگرچہ یہ میرا شعبہ نہیں ہے لیکن مسلمانوں کی ضروریات مجھے مجبور کررہی ہیں کہ میں یہ کام کروں۔ چنانچہ الیکشن میں کھڑے ہوگئے۔ ایک بات اور دیکھیں جس کا ذکر نہیں ہوتا، کہ جب وہ الیکشن کی مہم چلا رہے تھے اُس زمانے میں بھی برادریوں کا تعصب تھا۔ کشمیری برادری، آرائیں برادری اور دوسری برادریاں لاہور میں ہیں۔ اقبال کے مقابلے میں ملک محمد دین، آرائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے، جس کی اکثریت تھی۔ اقبال نے تقریر کی اور کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں کشمیری ہوں اور کشمیری برادری بھی لاہور میں کم نہیں ہے، لیکن میں آپ سے یہ کہتا ہوں مجھے برادری کی بنیاد پر کوئی ووٹ نہ دے۔ میں مسلمان ہوں، ہر کلمہ گو کا خادم ہوں، مسلمانوں کی نمائندگی کرنا چاہتا ہوں۔ جو شخص میری اس حیثیت کو پسند کرے وہ میری مدد کرے۔ میں اسلام کے سوا کسی دوسرے رشتے کا معتقد نہیں ہوں۔ یہ ایک بڑی بات تھی، وہ عصبیت کو ختم کرنا چاہتے تھے، وہ منتخب ہوگئے اور تین سال انہوں نے بڑی مستعدی سے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور عام لوگوں کے کام کرتے رہے۔ (جاری ہے)

سوال: اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کی فکری ہم آہنگی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اقبال نے شاعری میں جو پیغام دیا، مولانا مودودی نے نثر میں اس کی تفصیل بیان کی۔ پھر اس کے لیے جدوجہد بھی کی۔ اقبال نے تو شاعری میں بات کرکے لوگوں پر چھوڑ دیا، کوئی منظم جماعت یا کوئی تحریک قائم نہیں کی۔ ایک تحریک مولانا نے برپا کی اور اقبال کی شاعری کے جو اثرات تھے ان سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اقبال کی شاعری ذہنوں کو مائل کرتی ہے اسلام کی طرف، نشاۃ ِ ثانیہ کی طرف۔ اور مولانا کا بھی مقصد یہی تھا، اسی لیے بہت سے لوگ جو اقبال کے مداح تھے وہ مولانا کی جدوجہد میں شامل ہوگئے۔
سوال: اقبال اور مولانا مودودی کے رابطے کی کیا تفصیلات ہیں؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: سید نذیر نیازی اور میاں محمد شفیع کہتے ہیں کہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں علامہ کی نظر سے مولانا مودودی کی تحریریں گزرتی تھیں اور ان کی کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘بھی انہوں نے دیکھی تھی۔ اس وجہ سے وہ مولانا کی علمیت اور فہمِ اسلام سے متاثر تھے۔ علامہ نے چودھری نیاز علی خان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ادارے واقع پٹھانکوٹ کے لیے مولانا کو حیدرآباد سے بلالیں۔ چودھری صاحب اور مولانا کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا۔ 1937ء میں مولانا پٹھانکوٹ آئے، پھر چودھری صاحب کو ساتھ لے کر لاہور میں علامہ سے ملے۔ علامہ محمد اسد بھی ملاقاتوں میں شامل تھے۔ مجوزہ ادارے کے آئندہ منصوبوں، منہج اور طریقہ کار وغیرہ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کے بعد مارچ 1938ء میں مولانا حیدرآباد دکن سے پٹھانکوٹ منتقل ہوگئے۔ علامہ کا ارادہ تھا کہ وہ بھی ہر سال چند ماہ کے لیے وہاں آ کر قیام کریں گے۔ مولانا مزید مشوروں اور رہنمائی کے لیے لاہور جانے کا ارادہ کررہے تھے کہ علامہ 21 اپریل کو انتقال کرگئے۔
سوال: مولانا مودودی کی اقبال سے ملاقات اور مراسلت کو بعض لوگ خلافِ واقعہ سمجھتے ہیں۔ آپ مولانا اور اقبال کے تعلق کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: نومبر1979ء کی بات ہے، ایک صحافی ڈاکٹر جاوید اقبال سے انٹرویو لے رہا تھا۔ اس نے پوچھا کہ اس بات کی کوئی تاریخی شہادت ہے کہ مولانا مودودی علامہ اقبال کی دعوت پردکن سے پنجاب تشریف لائے تھے؟ جاوید اقبال نے جواب دیا: جب مولانا خود کہتے ہیں کہ مجھے علامہ صاحب نے بلایا تھا تو پھر تاریخی شہادت چہ معنی دارد؟ پھر عبدالمجید سالک، سید نذیر نیازی اور میاں محمد شفیع کی گواہی بھی موجود ہے۔
سوال: ڈاکٹر جاوید اقبال کی سوانح حیات پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: ڈاکٹر جاوید اقبال سے میری ملاقات خاصی پرانی تھی۔ ’’زندہ رود‘‘ کی پہلی جلد چھپی تو میں نے اس کی کئی چیزوں کی نشاندہی کی کہ اس میں یہ اور یہ چیزیں اصلاح طلب ہیں۔ جب انہوں نے دوسری اور تیسری جلد لکھی تو چھپنے سے پہلے اس کا مسودہ مجھے بھیجا۔ پھر جب وہ خودنوشت ’’اپنا گریباں چاک‘‘ لکھ رہے تھے تو اس کا بھی مسودہ انہوں نے مجھے دکھایا۔ میں نے کچھ چیزوں کی نشاندہی کردی۔ ان کی آزاد خیالی سے متعلق جو باتیں تھیں، ان پر میں نے کہا کہ یہ چیزیں اگر نہ ہوں تو بہتر ہے۔ کیمبرج کے واقعات پر لوگوں کو اعتراض ہوگا۔ بہرحال میں نے مشورہ دے دیا۔ کچھ انہوں نے قبول کیا اور کچھ نہیں کیا، بلکہ زیادہ تر نہیں کیا۔ شروع میں میرا ذکر کیا اور شکریہ ادا کیا۔ ایک دفعہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے تھے، ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ جاوید صاحب، یہ جو چیزیں آپ نے لکھی ہیں یہ ٹھیک نہیں ہیں۔ میں بھی پاس بیٹھا تھا، میری طرف اشارہ کرتے ہوئے جاوید اقبال نے پنجابی میں کہا کہ ’’ایہناں نے تے کیہا سی: کٹ دیو، کٹ دیو، پر میں کیہا:ایسے طرح چلن دیو‘‘۔ اس میں وہ زیادہ آزاد خیال ہوگئے ہیں۔ وہ تھے بھی اس طرح کے۔ اقبال کے بڑے معصومانہ خیالات تھے کہ میرا بیٹا نماز کے لیے مسجد جائے، صبح سویرے اٹھ کر نماز پڑھے۔ اور اس کو اسلامیہ ہائی اسکول میں داخل کرایا تھا۔ اُن کے ذہن میں آئیڈیل تھا کہ یہ ایسا بنے۔
سوال: بیٹے نے وہ چیزیں بیان کیں جن سے باپ کا تاثر خراب ہوا، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹے کو باپ سے کچھ مسئلہ ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: شاید یہی ہو، اور وہ خود کہتے ہیں کہ جب والد فوت ہوگئے تو میں نے خوب انگریزی لباس پہنے اور خوب سنیما دیکھے۔ یہ ردعمل تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اقبال کا بیٹا ہے، اس لیے وہ چڑتے تھے کہ میری اپنی کوئی شخصیت نہیں ہے! اور صحیح بات یہی ہے کہ وہ اقبال کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ورنہ تو ایک عام وکیل ہوتے۔
سوال: اقبال اکبر الٰہ آبادی کی عظمت کے قائل تھے، ان کے زیراثر بھی تھے، کیا یہ بات درست ہے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: بالکل صحیح ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے مغرب پر تنقید کی مگر برطانیہ کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے ایک انداز اپنایا اور اقبال نے دوسرا رنگ اپنایا۔ پہلے اقبال نے اکبر الٰہ آبادی کے رنگ میں بھی کچھ شاعری کی، لیکن پھر اندازہ کرلیا کہ اس طرح تقلید کرنے سے بات نہیں بنے گی تو انہوں نے اپنا الگ راستہ نکالا۔ وہ شاعری کا منفرد راستہ تھا۔ چنانچہ آپ دیکھیں کہ جو پچھلے شعرا ہیں اُن کے مقابلے میں نئی آواز ہے، نیا انداز ہے، مثلاً اقبال عشق کا ذکر کرتے ہیں، پرانی شاعری میں جو عشق ہے اس کو نئے معنی دیے، اس کا بہت وسیع کینوس بنایا، بات کو بہت پھیلا دیا۔ اقبال کی تقلید کی بھی لوگوں نے کوشش کی ہے مگر وہ بات نہیں بن سکی۔
سوال: اقبال ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مفکر شاعر ہیں۔ اس عظمت و بلندی تک وہ بے شمار کتابوں، نظریات و افکار، اور مفکروں کا بنظر غائر مطالعہ کرکے پہنچے ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ان کے کلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی انسان اور اس کے افکار نے اقبال کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ مولانا رومی اور ان کی مثنوی ہے۔ اقبال کو مولانا سے اس قدر لگاؤ اور محبت ہے کہ وہ مولانا کو اپنا معنوی استاد اور رہنما سمجھتے ہیں۔ آپ بحیثیت محقق اقبال کی شاعری میں مولانا روم کے اثرات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: رومی کا زمانہ سقوطِ بغداد اور تاتاریوں کے حملوں کے بعد کا زمانہ تھا جب عالم اسلام پر مایوسی چھائی ہوئی تھی، رومی نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو حوصلہ دیا اور دوبارہ جدوجہد کرنے کا راستہ دکھایا۔ علامہ اقبال بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کا رومی تھا اور میں اپنے زمانے کا رومی ہوں، میرے زمانے میں بھی عالم اسلام سامراجی طاقتوں کا غلام اور ہمہ پہلو زوال و انحطاط کا شکار ہے، میں ان کو ایک راستہ دکھا رہا ہوں اور ایک اعتماد دے رہا ہوں کہ آگے بڑھیں۔ ’’شکوہ‘‘، ’’جوابِ شکوہ‘‘ اور دوسری نظموں میں جو باتیں کی ہیں وہ اس طرح کی ہیں جس طرح رومی نے کی تھیں۔ علامہ کی تمام شعری و نثری تصانیف میں ماسوا ’’علم الاقتصاد‘‘، رومی کا ذکر ملتا ہے، حتیٰ کہ انگریزی خطبات میں بھی دو جگہ رومی کا ذکر کیا ہے۔ وہ رومی کو ’’مرشدِ روشن ضمیر‘‘، ’’مرشدِ اہلِ نظر‘‘، اور ’’امامِ راستاں‘‘ جیسے القابات سے یاد کرتے ہیں۔ دراصل اقبال کے ہاں رومی کے اثرات کا قصہ طویل ہے۔ اقبال کے شعری آثار کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’اسرار خودی‘‘ لکھنے کی تحریک رومی کی طرف سے ہی ہوئی۔ ’’رموزِ بے خودی‘‘ کا آغاز بھی رومی کے شعر سے ہوتا ہے۔ یہ دونوں مثنویاں اور ’’جاوید نامہ‘‘ بھی مثنوی معنوی کی بحر میں لکھے گئے۔ اقبال نے اپنے اُردو اور فارسی کلام میں جا بجا رومی کے اشعار پر تضمین کی ہے۔ رومی سے متعدد مکالماتی نظمیں بھی ملتی ہیں۔ ہمارے بعض نقادوں نے غزلیاتِ اقبال کے مستانہ لب و لہجے کو رومی کے اثر کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ دراصل اقبال کے بیشتر اہم تصورات کا سرا کسی نہ کسی حوالے سے رومی کے تصورات سے مربوط نظر آتا ہے۔ تصور عشق، مسئلہ تقدیر، مردِ کامل، شرفِ انسانی، اُمید پرستی، موت سے بے خوفی، خودی اور خود شناسی کے ضمن میں علامہ نے رومی سے کسبِ فیض کیا۔ وہ یہ تک کہتے ہیں کہ حیات و موت کا راز مجھے رومی سے ملا ہے:
مرشدِ رومی حکیم پاک زاد
سرّ مرگ و زندگی بر ما کشاد
سوال:اقبال بڑے شاعر ہیں، مفکرِ پاکستان ہیں، نصاب میں بھی، ٹی وی، ریڈیو میں بھی ان کے بارے میں گفتگو ہوتی رہتی ہے، لیکن ہماری زندگی میں اقبال نظر نہیں آتے؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: ابھی پچھلے دنوں لاہور میں ایک قومی اقبال کانفرنس ہوئی تھی۔اس کے کلیدی خطبے میں مَیں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ہماری زندگیوں میں علامہ اقبال کااثر کیوں نظر نہیں آتا؟ ایک بات تو یہ ہے کہ خود علامہ اقبال نے ایک جگہ افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے، تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، اسی لیے تم صحیح راستے سے بھٹک گئے ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ہمارے مقتدر حضرات ہیں، اثر رسوخ رکھنے والے ہیں، ارکانِ پارلیمنٹ ہیں، اساتذہ ہیں، وکلا ہیں یا میڈیا کے لوگ ہیں، یہ اُن کا کام ہے کہ اقبال کی شاعری یا اقبال کے پیغام کو پیش نظر رکھیںاور اسے اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔ اب تو صرف زبانی جمع خرچ ہے کہ سال میں دو دفعہ یومِ اقبال منا لیا، اس پر تقریریں کیں، اس کے بعد پھر وہی بے ایمانی، بددیانتی، دھوکے بازی، بے انصافی اور ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنا۔ اقبال کی شاعری کو آپ پڑھیں اور اس کے تقاضوں اور اصولوں کو بھی پیش نظر رکھیں تب اس کا اثر ہوگا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد جو راستہ ہم نے اختیار کیا ہوا ہے، وہ صحیح منزل تک نہیں جاتا۔ اقبال نے تو یہ کہا تھا کہ ملک قائم ہوجائے تو اسلامی قانون کا نفاذ کیجیے۔ اب اگر ہم اسلامی قانون کا نفاذ نہیں کریں گے تو کلام اقبال بے اثر رہے گا، کیونکہ اقبال کا پیغام اور اُن کی تعلیمات کا اسلام سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ جب آپ نے اسلام کو ترک کردیا تو خودبخود اقبال بھی ترک ہوگیا، بھلے آپ یوم مناتے رہیں، شاعری پڑھتے رہیں، سیمینار کراتے رہیں۔ ایک اور چیز ہے کہ ہمارے ہاں اردو کو نظرانداز کیا گیا، باوجود اس کے کہ عدالتِ عظمیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ اردو کو ہر سطح پر رائج کریں پھر بھی نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اردو کو نظرانداز کرنے کا مطلب اقبال کو نظرانداز کرنا ہے۔ اگر اردو کو نہ چھوڑیں، اقبال کی اردو کو پڑھتے رہیں تو کچھ اقبال سمجھ میں آئے گا، کچھ نہ کچھ اس کا اثر بھی ہو گا۔ مگر ہم نے سب کوانگلش میڈیم پر لگا دیا ہے۔ جب انگلش پڑھیں گے اور اردو کو چھوڑ دیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقبال کو بھی بھول جائیں گے۔ اردو کا نفاذ دراصل اقبال کا نفاذ ہے، اس لیے اردو زبان کو ہر سطح پر نافذ کرنے سے اقبال کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور پاکستان کے مقاصد بھی پورے ہوں گے اِن شاء اللہ۔
سوال: اگر ہمارے درمیان اقبال نہ ہوتے تو علم و دانش کے حوالے سے ہمارا کیا مقام ہوتا؟
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: ہماری اور ہمارے ملک کی پہچان اس طریقے سے نہ ہو تی جیسے اقبال کے حوالے سے ہے۔ باہر کے کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ پاکستان کیسا خوش قسمت ملک ہے جس کو اقبال جیسا مفکر شاعر میسر ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی قابلِ فخر بات ہے۔ مگر شرمندگی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اقبال کو گھر کی مرغی دال برابر سمجھ کر اُسے قرار واقعی اہمیت نہیں دی اور اُسے قوالوں کے سپرد کر دیا ہے۔
(جاری ہے)

حصہ