شعرو شاعری

141

مسلم/علامہ اقبال
ہر نفس اقبال تيرا آہ ميں مستور ہے
سينہ سوزاں ترا فرياد سے معمور ہے
نغمۂ اميد تيري بربطِ دل ميں نہيں
ہم سمجھتے ہيں يہ ليلي تيرے محمل ميں نہيں
گوش آوازِ سرودِ رفتہ کا جويا ترا
اور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا ترا
قصۂ گل ہم نوايان چمن سنتے نہيں
اہلِ محفل تيرا پيغامِ کہن سنتے نہيں
اے درائے کاروان خفتہ پا! خاموش رہ
ہے بہت ياس آفريں تيري صدا خاموش رہ
زندہ پھر وہ محفل ديرينہ ہو سکتي نہيں
شمع سے روشن شبِ دوشينہ ہوسکتي نہيں
ہم نشيں! مسلم ہوں ميں، توحيد کا حامل ہوں ميں
اس صداقت پر ازل سے شاہدِ عادل ہوں ميں
نبضِ موجودات ميں پيدا حرارت اس سے ہے
اور مسلم کے تخيل ميں جسارت اس سے ہے
حق نے عالم اس صداقت کے ليے پيدا کيا
اور مجھے اس کي حفاظت کے ليے پيدا کيا
دہر ميں غارت گرِ باطل پرستي ميں ہوا
حق تو يہ ہے حافظِ ناموسِ ہستي ميں ہوا
ميري ہستي پيرہن عريانيِ عالم کي ہے
ميرے مٹ جانے سے رسوائي بني آدم کي ہے
قسمتِ عالم کا مسلم کوکبِ تابندہ ہے
جس کي تاباني سے افسونِ سحر شرمندہ ہے
آشکارا ہيں مري آنکھوں پہ اسرار حيات
کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکارِ حيات
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضي منظر مجھے
ہے بھروسا اپني ملت کے مقدر پر مجھے
ياس کے عنصر سے ہے آزاد ميرا روزگار
فتح کامل کي خبر دتيا ہے جوشِ کارزار
ہاں يہ سچ ہے چشمِ بر عہد کہن رہتا ہوں ميں
اہلِ محفل سے پراني داستاں کہتا ہوں ميں
يادِ عہد رفتہ ميري خاک کو اکسير ہے
ميرا ماضي ميرے استقبال کي تفسير ہے
سامنے رکھتا ہوں اس دورِ نشاط افزا کو ميں
ديکھتا ہوں دوش کے آئينے ميں فردا کو ميں
…٭…
مرزا غالب
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں
بیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے
پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیٔ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شبِ ہجراں کی تمنا مرے آگے
ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
…٭…
صبحِ آزادی/فیض احمد فیض
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینان نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
…٭…
اعجاز رحمانی
ظالم سے مصطفیٰؐ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ
کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ
سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ
کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ
بارِ غمِ حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ
رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ
جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمنِ سکوں
کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ
درکار ہے نجات غمِ روزگار سے
مریخ چاہتے نہ زحل چاہتے ہیں لوگ
اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ
…٭…

وہ ساری باتیں میں احباب ہی سے کہتا ہوں
مجھے حریف کو جو کچھ سنانا ہوتا ہے
اسعد بدایونی
…٭…
میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے
احمد فراز
…٭…

محسن کاکوروی
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کے لیے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کے لیے
زمیں بنائی گئی کس کے آستاں کے لیے
کہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کے لیے
ترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے
ملا زمین کو رتبہ ترے زماں کے لیے
…٭…

میر تقی میر
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش
دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
ولی محمد ولی
چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
کہ تا جاؤں پری رو کی گلی میں
نہ تھی طاقت مجھے آنے کی لیکن
بزور آہ پہنچا تجھ گلی میں
عیاں ہے رنگ کی شوخی سوں اے شوخ
بدن تیرا قبائے صندلی میں
جو ہے تیرے دہن میں رنگ و خوبی
کہاں یہ رنگ یہ خوبی کلی میں
کیا جیوں لفظ میں معنی سریجن
مقام اپنا دل و جان ولیؔ میں
…٭…
اعجاز رحمانی
ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں
قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں
تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا
جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں
آدم سے تابہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰ تک
اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں
اسلام چاہتا ہے اس واسطے اُخوّت
جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں
اخلاقِ مصطفیٰ ہے کردار کی کسوٹی
اقوال مصطفےٰ کے میزان بن گئے ہیں
اسلام سے ہٹے ہیں جس دور میں بھی انساں
فرعون بن گئے ہیں ہامان بن گئے ہیں
کلمہ، نماز، روزہ، حج و زکوۃ یارو
دینِ محمدی کے ارکان بن گئے ہیں
جن کو ہوئی میسر دربار میں حضوری
وہ لوگ مصطفےٰ کے مہمان بن گئے ہیں
کیا حشر اپنا ہوگا اعجاز روزِ محشر
ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں
مظفر وارثی
تو امیرِ حرم میں فقیر عجم
تیرے گن اور یہ لب میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا تو کجا من کجا
میری ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسر ذات ہوں تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
میں سمندر میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری راہ گزر
سدرۃ المنتہیٰ تو کجا من کجا
ڈگماوؔں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا تو کجا من کجا
ڈوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسووؔں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے صدا تو کجا من کجا
…٭…
مجید لاہوری
زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارو
دل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارو
وہی صیاد کی گھاتیں ہیں وہی کنج قفس
فصل گل رہن غم جور خزاں ہے یارو
وہی افکار کی الجھن وہی ماحول کا جبر
ذہن پا بستہ زنجیر گراں ہے یارو
وہی حسرت وہی لب اور وہی مہر سکوت
شوق کو جرأت اظہار کہاں ہے یارو
عزم کی رہ بھی وہی راہ میں کانٹے بھی وہی
دور کوسوں مری منزل کا نشاں ہے یارو
بے وفائی کا خدارا مجھے الزام نہ دو
تم پہ حال دل بیتاب عیاں ہے یارو
کاش میں کہہ بھی سکوں کاش کوئی سن بھی سکے
آہ وہ راز کہ جو راز نہاں ہے یارو
میرے ہونٹوں پہ ہے اک نغمۂ بے صوت و صدا
دل میں اک محشر فریاد و فغاں ہے یارو
اک تغافل کہ جو ہے وجہ پریشانئ دل
ایک یاد ان کی ہے جو راحت جاں ہے یارو
آج ساحل کے قریں ڈوبنے والا ہے مجیدؔ
ناخدا کو تو پکارو وہ کہاں ہے یارو
…٭…
واصف علی واصف
جو لوگ سمندر میں بھی رہ کر رہے پیاسے
اک ابر کا ٹکڑا انہیں کیا دے گا دلاسے
مانا کہ ضروری ہے نگہبانی خودی کی
بڑھ جائے نہ انسان مگر اپنی قبا سے
برسوں کی مسافت میں وہ طے ہو نہیں سکتے
جو فاصلے ہوتے ہیں نگاہوں میں ذرا سے
تو خون کا طالب تھا تری پیاس بجھی ہے؟
میں پاتا رہا نشوونما آب و ہوا سے
مجھ کو تو مرے اپنے ہی دل سے ہے شکایت
دنیا سے گلہ کوئی نہ شکوہ ہے خدا سے
ڈر ہے کہ مجھے آپ بھی گمراہ کریں گے
آتے ہیں نظر آپ بھی کچھ راہنما سے
دم بھر میں وہ زمیں بوس ہو جاتی ہے واصف
تعمیر نکل جاتی ہے جو اپنی بِنا سے
…٭…
عبید اللہ علیم
بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص
میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں
دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص
پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص
محبتیں بھی عجب اس کی نفرتیں بھی کمال
مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اک شخص
محبتوں نے کسی کی بھلا رکھا تھا اسے
ملے وہ زخم کہ پھر یاد آ گیا اک شخص
کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دنیا
اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اک شخص
…٭…
فیضان عارف
نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا
پرانے شہر بھی آباد رکھنا
پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی
ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا
کسی کی یاد جب شدت سے آئے
بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا
دکھوں نے جڑ پکڑ لی میرے اندر
ضروری تھا کوئی ہم زاد رکھنا
خدایا شاخ پر کلیاں کھلانا
کوئی پودا نہ بے اولاد رکھنا
پڑھاؤ ڈالنے والو ہمیشہ
گزشتہ ہجرتوں کو یاد رکھنا
کہیں بھی گھر بسا لینا جہاں میں
مگر اپنے وطن کو یاد رکھنا
…٭…
امیر مینائی
وہ بزم خاص جو دربارِ عام ہو جائے
امید ہے کہ ہمارا سلام ہو جائے
مدینہ جاؤں پھر آؤں دوبارہ پھر جاؤں
تمام عمر اسی میں تمام ہو جائے
…٭…

فیضان عارف
ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے
ہم کبھی عزم کے کہسار ہوا کرتے تھے
شہر سنسان ہے ان چاند سے چہروں کے بغیر
جو دریچوں سے نمودار ہوا کرتے تھے
مجھ سے مل کر ہیں عجب عالم حیرانی میں
جو مرے فن کے پرستار ہوا کرتے تھے
زندگی کس قدر آسان ہوا کرتی تھی
لوگ جب صاحب کردار ہوا کرتے تھے
اس کی زلفوں میں چمکتے تھے ستارے ہر پل
ہر گھڑی رات کے آثار ہوا کرتے تھے
اب وہاں فصل عمارات کی اگ آئی ہے
جب جگہ پر گھنے اشجار ہوا کرتے تھے
تیری پلکوں کے اشارے کو سمجھ جاتے تھے
ہم کبھی اتنے سمجھ دار ہوا کرتے تھے
تیری تصویر نگاہوں میں سجی رہتی تھی
ہم تو سوتے میں بھی بیدار ہوا کرتے تھے
تجھ کو اب یاد نہیں ہے کہ تری خاطر ہم
کیسے رسوا سر بازار ہوا کرتے تھے
جانے کس حال میں ہوگی وہ مری جان حیات
جس کی خاطر مرے اشعار ہوا کرتے تھے
جا چکے اب وہ زمانے کہ مر…
…٭…

علامہ اقبال
ہر کہ عشق مصطفے سامانِ اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جہاں ہمارا
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے
ہونہ ہویہ پھول تو بلبل کا ترانہ بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک استادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
وہ دانائے سبل ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طٓہٓ
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پاگئے
عقل، غیاب و جستجو، عشق، حضور اضطراب
…٭…

حصہ